کوہاٹ میں نوجوان کے اندھے قتل کا ڈراپ سین،ملزمان گرفتار

    کوہاٹ میں نوجوان کے اندھے قتل کا ڈراپ سین،ملزمان گرفتار

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوہاٹ پولیس نے نوجوان کے اندھے قتل کا سراغ لگا کر محض 72گھنٹوں کے اندر واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر آلہ قتل بھی برآمد کرکے تحویل میں لے لیا ہے جبکہ واردات کے مرتکب ملزمان کے قبضے سے مقتول کاموبائل فون بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔زیر حراست ملزمان نے ابتدائی پوچھ گچھ میں قتل کی واردات کا اعتراف جرم کرلیا ہے۔ڈی ایس پی سٹی بشیر داد خان نے ایس ایچ او تھانہ چھاؤنی عرفان خان اور ایس ایچ او سٹی فیاض خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 29دسمبر کے روز چھاؤنی پولیس کو لعل میلہ محمدزئی کی اراضیات میں جنگل خیل سے تعلق رکھنے والے نوجوان سید حسنین شاہ ولد سید کلیم شاہ کی لاش ملی جسے فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد اسکی لاش ٹھکانے لگانے کیلئے زیر زمین چھپائی گئی تھی۔پولیس نے لاش تحویل میں لیکر ہسپتال منتقل کردی اور پوسٹ مارٹم کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کردی جبکہ واقعے کا مقدمہ تھانہ چھاؤنی میں مقتول کے والد سید کلیم شاہ کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا۔ڈی ایس پی بشیر داد نے بتایا کہ اندھے قتل کی اس واردات کا کھوج لگانے اور واردات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا ٹاسک حوالہ کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ کیپٹن(ر)منصور امان نے انکی سربراہی میں خصوصی سراغ رساں ٹیم تشکیل دی جسمیں ایس ایچ او تھانہ چھاؤنی عرفان خان،ایس ایچ اوسٹی فیاض خان اور انوسٹی گیشن آفیسر رضوان اللہ کو بھی شامل کیا گیا۔ڈی ایس پی نے بتایا کہ انکی سربراہی میں پولیس کی سراغ رساں ٹیم نے شبانہ روز محنت اور جدید سائنسی خطوط پر تفتیشی طرز عمل کی بدولت اس اندھے قتل کی واردات میں ملوث ملزمان کا کھوج لگاکر انہیں گرفتار کرلیا۔ڈی ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نوبت خان ولد عمر خان سکنہ نصرت خیل اور محمد ولی ولد شاہ ولی سکنہ پاڑا چنار حال ابلن افغان مہاجر کیمپ کو نواجون کے قتل کے اس مقدمے میں باقاعدہ طور پر نامزد کردیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونیوالا آلہ قتل نائن ایم ایم پستول بھی برآمد کرلیا گیا ہے جبکہ مقتول کا موبائل فون سیٹ جو کہ وقوعہ کے وقت ملزمان ساتھ لے گئے تھے بھی ملزمان کے قبضے سے برآمد کرکے تحویل میں لی گئی ہے۔ڈی ایس پی سٹی بشیر داد نے مزید بتایا کہ ابتدائی پوچھ گچھ میں زیر حراست ملزمان نے قتل کی اس واردات کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو بتایا ہے کہ رقم کے تنازعے پر انہوں نے سید حسنین شاہ کو موبائل فون پر محمد زئی کے علاقہ لعل میلہ میں بلا کر وہاں پستول سے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور جرم چھپانے کیلئے مقتول کی لاش زیر زمین پتھروں میں چھپا کر فوری طور پرجائے وقوعہ سے فرار ہوکر روپوش ہوگئے۔ڈی ایس پی سٹی بشیر داد نے بتایا کہ اندھے قتل کی اس واردات میں ملوث ملزمان کا سراغ جدید ٹیکنالوجی کی مددسے سائنسی خطوط پر تفتیشی عمل کے ذریعے لگاکر انہیں حراست میں لیا گیا ہے جنہوں نے شریک جرم دیگر ساتھیوں کے نام بھی اگل دئیے ہیں جنہیں بہت جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ڈی ایس پی نے بتایا کہ پولیس نے اندھے قتل کی اس واردات کا 72گھنٹوں کے اندر نہ صرف سراغ لگایا بلکہ ملزمان کو بھی گرفتار کرکے قانون کے کٹھہرے میں لایا گیا اور انکے قبضے سے آلہ قتل،مقتول کا موبائل فون سیٹ اورتفتیش میں اہم ثابت ہونیوالے دیگر شواہد بھی برآمد کرکے قبضے میں لئے گئے جبکہ ملزمان نے قتل کے حوالے سے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔ڈی ایس پی نے بتایا کہ مجرم خواہ کتنا ہی چالاق کیوں نہ ہو قانون کی گرفت میں بالآخر آہی جاتاہے۔انہوں نے کہا کہ کیس کو عدالت میں کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے بھی تفتیش کے جدید طریقہ کار سے استفادہ کیا جائے گا اور ملزمان کو عدالت سے سزا یاب کرنے کیلئے ہر طرح کے وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...