ایک پیج پر!

ایک پیج پر!
ایک پیج پر!

  



”ایک پیج پر ہونے کی اصطلاح“ کل تک ایک خواہش تھی،آج ایک حقیقت ہے۔ آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر جس طرح سیاسی قوتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہ ایک خوش آئند امر ہے۔ اگر کوئی اس کے برعکس عمل کی خواہش کر رہا تھا تو اُسے ملک کا خیر خواہ نہیں کہا جا سکتا۔ سب سے زیادہ جرأت مندانہ فیصلہ مسلم لیگ(ن) نے کیا اورسب سے پہلے اس معاملے میں غیر مشروط حمایت کا اعلان کر دیا۔اس پر بہت تنقید بھی ہو رہی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگانے والوں نے ”بوٹ کو عزت دو“ پر اپنی تان توڑی ہے۔ ان دونوں کا آپس میں کیا ربط و ضبط ہے۔ کیا مسلم لیگ(ن) نے پاکستان میں مارشل لاء لگانے کی اجازت دے دی ہے؟

آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ ہے، جو اس سے پہلے بھی حکومتیں دیتی رہی ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ اس بار سپریم کورٹ کے حکم سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنا پڑی ہے، اب اس کی مخالفت کرنے کا کسی کو کیا سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے،البتہ ملک و قوم کے لئے ایک مشکل صورتِ حال ضروری پیدا ہو سکتی ہے۔مَیں سمجھتا ہوں، جب یہ معاملہ اٹھا تھا، تو مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی طرف سے بلا سوچے سمجھے بیانات دیئے گئے تھے، جن میں کہا گیا تھا کہ آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اُس وقت کچھ سیاسی مقاصد کے لئے غالباً ایسا کیا گیا،وگرنہ عملاً ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس وجہ سے نہیں کہ فوج کا دباؤ موجود تھا،بلکہ اس وجہ سے کہ خود قوم بھی اس حوالے سے کسی قسم کا انتشار نہیں چاہتی تھی۔ سو یہ مسئلہ ایک اچھے طریقے سے حل ہونا چاہئے تھا اور اُسی طرح حل ہوا۔

لمحہ ئ موجود میں ہم آہنگی کی جو صورتِ حال پیدا ہوئی ہے،اُسے اب ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ سیاسی سطح پر پچھلے ڈیڑھ برس میں بہت کھینچا تانی رہی ہے،قانون سازی نہیں ہو سکی، صدارتی آرڈی ننسوں کے تحت کام چلایا گیا، محاذ آرائی اور الزام تراشی کا سکہ چلتا رہا،اس سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوئی،بلکہ عوام کا جمہوریت سے اعتبار اُٹھنے لگا۔ فوج کو بلاوجہ ہرمعاملے میں گھسیٹا جاتا رہا۔ سلیکٹڈ کی دہائی دی گئی۔ فوج کے ترجمان کو واضح طور پر کہنا پڑا کہ ہمارا بطور ادارہ یہ فیصلہ ہے کہ سیاسی امور میں مداخلت نہیں کرنی،جو کرنا ہے سیاست دانوں اور پارلیمینٹ نے کرنا ہے۔فوج کے اس بیانیہ کے بعد بڑا اچھا موقع تھا کہ جمہوریت کے حوالے سے فوج اور سیاسی قوتوں کے ایک پیج پر ہونے کے تاثر کو عام کیا جاتا۔

بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور یہ تاثر دیا گیا کہ فوج نے انتخابی نتائج مرتب کئے ہیں اور اپوزیشن کو دیوار سے لگانے میں بھی فوج کا ہاتھ ہے۔ وزیراعظم عمران خان پر تنقید کی بڑی وجہ بھی یہی نکتہ رہا کہ وہ منتخب نہیں، سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔ پہلے دن سے اس سیٹ اَپ پر انگلیاں اٹھائی گئیں، نئے انتخابات کے مطالبے ہوئے۔ گویا گزرے برس تو اچھی خاصی ہلچل رہی۔ اسی تناظر میں جب آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھا تو یوں لگا کہ انتشار اب اگلے سال بھی اسی طرح سفر کرے گا۔ کوئی مسئلہ حل ہونے کی نوبت نہیں آئے گی، اُلٹا توسیع کا یہ معاملہ ملک کو کسی نئے بحران سے دوچار کر دے گا، حتیٰ کہ جمہوریت کو خطرات لاحق ہونے کے خدشات بھی ظاہر کئے جانے لگے، اس حوالے سے سب سے زیادہ کڑے ردعمل اور مخالفت کی توقع مسلم (ن) کی طرف سے کی جا رہی تھی،اس کی وجہ نواز شریف کا وہ بیانیہ تھا،جو انہوں نے ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے پر استوار کیا اور جس کا مقصد یہ تھا کہ ملک پر ووٹ سے منتخب ہونے والوں کی حکمرانی ہونی چاہئے نہ کہ غیر نمائندہ ریاستی قوتیں قوم کی تقدیر کے فیصلے کریں،جن کا آئین میں کردار متعین ہے۔

یوں لگتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے حالات سے سبق سیکھا ہے۔ اُس لڑائی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے،جو اس کے حق میں نہیں تھی۔ سب سے پہلے نواز شریف نے یہ ہدایت جاری کی کہ مسلم لیگ (ن) آرمی ایکٹ کے معاملے پر غیر مشروط حمایت کرے، جس کے بعد ساری فضا ہی بدل گئی اور پیپلز پارٹی بھی پیچھے نہیں رہی، یوں اس اہم ایشو پر قومی آہنگی کی فضا پیدا ہو گئی……اب سیاسی انتقام کے تاثر کو بھی زائل ہونا چاہئے، نیب قانون میں ترمیم کر کے حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔اس حوالے سے بھی حکومت اور اپوزیشن میں ایک بامعنی بیٹھک ہونی چاہئے۔ تمام سیاسی قوتوں کو کم از کم اس ایک نکتے پر متفق ہونا چاہئے کہ ملک میں ایک نظام احتساب کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا شفاف اور بامقصد نظام انصاف، جس پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے اور جس کے ذریعے کسی مخالف کو انتقام کا نشانہ بھی نہ بنایا جا سکے۔ نیب نے بہت اچھے کام بھی کئے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نیب پر سیاسی انتقام کے لئے استعمال ہونے کی جو چھاپ لگ چکی ہے، وہ اُسے دھو نہیں پا رہا۔ حکومت سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نیب کی کارکردگی ہمیشہ صفر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن پر اُس کے چھاپے معمول کی کارروائی بن جاتی ہے، پھر اُس کے اختیارات کا امتیازی استعمال بھی انتقام کا تاثر پیدا کرتا ہے۔ مثلاً نیب نے صوابدیدی اختیارات کے تحت کچھ گرفتاریاں کیں اور کچھ گرفتاریاں نہیں کیں، حالانکہ انکوائریاں اُن کے خلاف بھی جاری ہیں، پھر اکثر گرفتاریاں حکومت کے مخالفین کی ہوئیں اور اُن میں بھی وہ گرفتار ہوئے جو زیادہ بولتے یا تنقید کرتے تھے۔ ان سب باتوں کی وجہ سے احتساب کا سکہ نہیں جم سکا، البتہ انتقام کا تاثر گہرا ہوتا گیا۔

اب جو آرڈیننس لایا گیا ہے اُس میں سینئر بیورو کریٹس کو احتساب کے عمل سے نکال دیا گیا ہے۔ احتساب اگر حکم جاری کرنے والے شخص کا نہیں ہونا تو پھر کس کا ہو گا؟یہ بات طے ہے کہ کوئی سیاست دان بیورو کریسی کے بغیر کرپشن نہیں کر سکتا، کیونکہ پراجیکٹ کی منظوری اور اُس کے اخراجات کا تخمینہ تو محکمے کے سیکرٹری نے ہی منظور کرنا ہے۔ اب اگر اُسے نیب سے بچا لیا گیا ہے تو سیاست دان کو مفت میں کیوں رگڑا جائے، یہی سوال سینیٹ میں رضا ربانی نے اٹھایا ہے کہ صرف سیاست دان ہی احتساب کے لئے رہ گئے ہیں، باقی سب کو چھٹی مل گئی ہے۔ امید ہے کہ جب اس آرڈیننس کو حکومت پارلیمینٹ میں لائے گی تو اس کے سارے پہلوؤں پر غور کیا جائے گا اور اپوزیشن کے ساتھ باہمی مشاورت سے ایسی شقیں شامل کی جائیں گی، جو ایک طرف ملک میں احتساب کے عمل کو بھی جاری رکھیں اور دوسری طرف اُن سے سیاسی انتقام کا تاثر بھی ختم ہو جائے……مَیں سمجھتا ہوں اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں ایک نئے عمرانی معاہدے کی داغ بیل ڈالی جائے۔

عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور فوج علیحدہ علیحدہ طاقت کے مراکز بننے کی بجائے آئین کی چھتری تلے جمع ہوں اور اپنے اپنے دائرہ کار میں رہنے کا عہد کریں، یہ آئے روز کے بحران اور آئے روز کے ابہام، جو ایک دوسرے کے امور میں مداخلت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اُن کا اب خاتمہ ہونا چاہئے۔دُنیا میں کہیں ایسا نہیں کہ ایک متفقہ آئین کی موجودگی میں ریاست کے ستون اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ باہمی دست و گریبان ہوں۔72 سال کے بعد بھی ہمارے ہاں ایک کشمکش اور ایک دوسرے پر حاوی ہونے کا جنون موجود ہے۔ یہ کھیل تماشا تو بہت ہو چکا، اب آئین کے معاملے میں ایک پیج پر آنے کی ضرورت ہے…… اس کے لئے آغاز کہاں سے ہو؟ یہ سب سے دشوار مرحلہ ہے، تاہم چاروں بڑوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہئے تاکہ آئین کی بالادستی کا جو نکتہ ہمارے نظام سے غائب ہے، وہ اُبھرکر سامنے آئے اور ہم ایک مضبوط، خوشحال اور جمہوری پاکستان کی طرف گامزن ہو سکیں۔

مزید : رائے /کالم