اے پی این ایس سندھ کمیٹی کا اشتہارات کے منصفانہ اجراء کا مطالبہ

اے پی این ایس سندھ کمیٹی کا اشتہارات کے منصفانہ اجراء کا مطالبہ

  



کراچی(خصوصی رپورٹ)اے پی این ایس کی سندھ کمیٹی نے صوبائی محکمہ انفارمیشن کی جانب سے سندھ کے اخبارات کے معاملات پر مسلسل عدم توجہی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کے اخبارات کے اشتہارات کے منصفانہ اجراء اور طویل عرصہ سے زیر التواء واجبات کی ادائیگی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جاوید مہر شمسی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اراکین نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ صوبائی محکمہ انفارمیشن کی طرف سے اشتہارات کے اجراء میں حقیقی اخبارات کو یکسر نظر انداز کیا جارہاہے جبکہ ڈمی اخبارات کو کثیر تعدادمیں اشتہارات جاری کئے جارہے ہیں۔مزید براں گزشتہ کچھ ماہ سے ڈسپلے اشتہارات کا اجراء بھی روک دیا گیا ہے جس کے باعث اخبارات میں سنگین مالی بحران تشویش ناک صورت اختیار کر رہا ہے۔اراکین نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اشتہارات کے بلوں کی ادائیگی تاخیر کا شکار ہے، خاص طور پر بجٹ کے تحت جاری کردہ اشتہارات کی ادائیگی نہیں کی جارہی۔ سندھ کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ پی آئی او نے پی آئی ڈی کے علاقائی مراکز کو اشتہارات کے اجرا ء کے اختیارات سے محروم کرتے ہوئے مرکزیت کی پالیسی کے تحت اسلام آباد منتقل کردیا ہے جس سے سندھ سے شائع ہونے والے اخبارات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔اجلاس کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ پی آئی ڈی کے علاقائی مراکز کی سابقہ حیثیت اور اختیارات بحال کیے جائیں۔چیئرمین سندھ کمیٹی جاوید مہر شمسی کے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں نائب چیئرمین یونس مہر،قاضی اسد عابد (روزنامہ عبرت)نجم الدین شیخ (روزنامہ دیانت) محمد سلیم (روزنامہ سندھ سجاگ)علی بن یونس (روزنامہ بیوپار)زاہدہ عباسی (روزنامہ نوسج) قاضی سجاد اکبر (روزنامہ دی ریجنل ٹائمز)فیصل شاہ جہاں (روزنامہ جدت)منگل داس اروانی (روزنامہ ہلالِ پاکستان) امتیاز اختر قاضی (روزنامہ تعمیر سندھ)ممتاز علی پھلپھوٹو (روزنامہ عوامی پرچار) سید اکبر طاہر (روزنامہ جسارت) مختار احمد عاقل (روزنامہ فرض)حسینہ جتوئی (روزنامہ مومل) عمران کورائی(روزنامہ واکا)اور مبشر میر (روزنامہ پاکستان کراچی)نے شرکت کی۔

اے پی این ایس سندھ کمیٹی

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...