کے پی کے معدنیات ترمیمی سے بل قبائلی عوام کو پہلی بار معدنی حقوق ملے، ڈاکٹر امجد

کے پی کے معدنیات ترمیمی سے بل قبائلی عوام کو پہلی بار معدنی حقوق ملے، ڈاکٹر ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ کچھ عناصر کی جانب سے منرل گورننس ترمیمی بل کے حوالے سے ابہام پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے، منفی پروپیگنڈہ کرنے والے لوگ ضم شدہ اضلاع کے عوام کے حقوق کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترمیمی بل کے حوالے سے ضم شدہ اضلاع کے عوام، لیز ہولڈرز اور دیگر متعلقہ افراد کے ساتھ ایک سال تک مشاورات کی گئی اور ان کی قیمتی رائے کی روشنی میں قانون میں مناسب ترامیم کی گئیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ترمیمی بل چار ماہ تک مختلف قانونی مراحل سے گزار کر اسمبلی سے پاس ہوا ہے، جس میں قبائلی اضلاع کے حوالے سے تمام تر پہلوؤں کا خیال رکھا گیا ہے۔ وزیر معدنیات کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر بل کے حوالے سے جو منفی تاثر پھیلا رہے ہیں،اس میں کوئی صداقت نہیں ہے، بل پر تنقید کرنے والوں کو بات کرنے سے پہلے کم سے کم قانون کو پڑھنا چاہیئے۔ ترمیمی بل میں ایسی کوئی بھی شق شامل نہیں کی گئی جس سے مقامی افراد کے حقوق سلب ہوں بلکہ نئے بل سے معدنیات کے شعبہ میں ان کے کردار کو اور بھی موثر بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل کے سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل میں قبائلی اضلاع کے لئے شیڈول آٹھ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت وہاں کے عوام کو خصوصی مراعات دی گئی ہیں اور مقامی لوگوں کو معدنیات کے لئے لائنس کے حصول میں ترجیحی حقوق دیئے گئے ہیں

مزید : پشاورصفحہ آخر