پالیسی سازی میں سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے: راولپنڈی چیمبر 

  پالیسی سازی میں سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے: راولپنڈی چیمبر 

  



راولپنڈی (کامرس ڈیسک)راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر صبور ملک نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لئے حکومت ساز گار ماحول فراہم کرے،پالیسی سازی میں سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے، شرح سود، بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائی جائے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو۔اصلاحات سازی اور ٹیکس کولیکشن میں ہماری مشاورت کو بھی شامل کیا جائے تو حکومت کو ہر مہینے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہیں کرنا پڑے گی۔ ٹیکسوں کا ایسا نظام وضع کیا جائے جو سب کو بخوشی قابل قبول ہو اورسرمایہ کاروں و صنعت کاروں کو مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ صنعت و حرفت وکاروبار پھلیں پھولیں اور روزگار و کاروبار کے مواقع پیدا ہوں۔ چیمبر میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی ترقی اور حکومتی اصلاحات میں بزنس کمیونٹی حکومت کا بھرپور ساتھ دے گی لیکن حکومت کے لئے بھی یہ لازم ہے کہ وہ تاجروں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی سے کام لے،انہوں نے  حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ تاجر برداری ٹیکس ادائیگی کے خلاف نہیں، ہم اپنے ذمہ واجب الادا ٹیکس دینے میں کسی سے پیچھے نہیں حکومت ٹیکسوں کا نظام وضع کرنے،ٹیکسوں کے نفاذ اوراور پالیسی سازی کے وقت نہ صرف تاجر برداری بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے تاکہ معاملات ٓآگے بڑھیں اور غیر یقینی کی کیفیت ختم ہو۔

صبور ملک نے کہاکہ حکومت نے ٹیکسوں کا ہدف حقیقت پسندانہ بنائے عالمی بنک نے بھی حکومت سے کہا ہے کہ ٹیکسوں کا اہداف کا از سر نوجائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے تاجروں سے مشاورت نہ کئے جانے اور خودساختہ پالیسیوں اور فیصلوں سے اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور تاجروں کیلئے ان حالات میں اپنے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔صدر چیمبر نے کہا کہ تاجروں کے کاروباری مراکز پر چھاپے مارنے اور پکڑ دھکڑ کے خلاف تمام متعلقہ حلقوں تک آواز پہنچائی گئی تاجر برادری ہراسیت کے خلاف ہے اور اس طرز عمل کی سنگین مذمت کرتے ہیں کیونکہ کاروباری طبقہ ملک و قوم کے بہترین مفاد اور معاشی و اقتصادی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ صدر چیمبر نے کہاکہ ہم تجاوزات کے خاتمے میں انتظامیہ کے ساتھ ہیں اور کسی غیر قانونی کاروبار کی حمایت نہیں کرتے۔ گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کہاکہ2019 ء ہر معاشی طور پر کئی چیلنجز کا شکار رہا تمام کاروبار نقصان میں رہے اور تاجروں کو مسلسل خسارے کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ملکی ترقی میں اپنا کردار کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔تاجربرادری جائز ٹیکس ادا کرنا چاہتی ہے۔ترقیاتی اہداف کے حصول میں ہم حکومت کے شانہ نشانہ ہیں۔تاجروں کے شناختی کارڈ والا معاملہ بھی کوئی بڑا نہیں تھا۔

خواہش ہے کہ وقتی حل کے بجائے مستقل حل ڈھونڈنے جائیں۔نیب قوانین سے تاجر بھی متاثر ہورہے تھے۔حکومت کا نیب آرڈیننس اچھا اقدام ہے۔تاجر برادری اس کو سپورٹ کرتی ہے۔نیب کی وجہ سے سرمایہ کاری میں جمود تھا۔اس موقع پر سینئر نائب صدر نوشیروان خلیل خان، نائب صد ر حمزہ سروش اور دیگر چیمبر ممبران بھی موجود تھے۔

مزید : کامرس


loading...