وزیر بلدیات سندھ نے سلمان چانڈیوکو واٹربورڈ میں مشیرمقرر کردیا

وزیر بلدیات سندھ نے سلمان چانڈیوکو واٹربورڈ میں مشیرمقرر کردیا

  



کراچی (نمائندہ خصوصی) کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیئرمین صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے ادارے پر نظر رکھنے کے لیے بورڈ  کے رکن سابق ایم ڈی سلمان چانڈیو کو اپنا معتمد خاص مقرر کردیا ہے۔ ان کے لیے فوری طور پر کمرہ تیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی گئیں۔ سلمان چانڈیو واٹر بورڈ کے تمام معاملات کو باریک بینی سے چیک کریں گے، ان کے تقرر سے متعدد واٹر بورڈ افسران میں سراسیمگی پھیل گئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق سلمان چانڈیو انتہائی قابل اور باخبر افسر رہ چکے ہیں، انہیں محکمے میں ہونے والی تمام کرپشن اور کرپٹ عناصر کا بخوبی اندازہ ہے، انکے آنے سے بعض افسران کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔دریں اثناء واٹر بورڈ میں مشیر کی تعیناتی پر سندھ اسمبلی میں متحدہ کے پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل، خواجہ اظہار الحسن اور دیگر اراکین اسمبلی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر بلدیات کی جانب سے واٹربورڈ میں مشیر کی تعیناتی غیر آئینی، غیر قانونی اور سول سرونٹ ایکٹ کے خلاف ہے۔مشیر کی تعیناتی سے اندازہ ہوتا ہے کہ واٹربورڈ میں پانی کی تقسیم، سیوریج کے مسائل کے حل اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے جو افسران تعینات کئے گئے ہیں وہ سب ناکارہ ہیں۔مشیر کی تعیناتی ایم ڈی سمیت تمام افسران کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان اٹھاتی ہے۔مشیر کی تعیناتی سے واضح ہوگیا کہ محکمہ بلدیات کراچی کے مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ من پسند نا اہل افسران نے لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کرکے اہلیان کراچی کو پانی کی بوند بوند کے لئے ترسا دیا ہے؛ سونے پہ سہاگہ چہیتا مشیر تعینات کرکے خزانے پر مزید بوجھ لاد دیا گیا۔اعزازی مشیر قانونی طور پر کسی بھی افسر کو ہدایات جاری نہیں کر سکتاواٹربورڈ کے لئے شہر میں منتخب یوسی چیئرمین، ضلعی چیئرمین، ایم این اے اور ایم پی اے موجود ہیں جو فی سبیل اللہ واٹربورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لِئے وزیربلدیات کو مسلسل تجاویز دے رہے ہیں جن پر کان نہیں دھرے جارہے۔وزیر اعلیٰ سندھ اس غیر قانونی تقرری کا نوٹس لیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...