حکومتی نظرثانی درخواست اہتمام حجت کے سوا کچھ نہیں: قانونی ماہرین 

حکومتی نظرثانی درخواست اہتمام حجت کے سوا کچھ نہیں: قانونی ماہرین 

  



لاہور(کامران مغل)آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیس میں حکومتی نظر ثانی درخواست کی قانونی حیثیت کے بارے میں پاکستان بار کونسل کے رکن اور سینئر قانون دان اعظم نذیرتارڑ کا کہناہے کہ نظر ثانی کی درخواست میں صرف ان ہی امور کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتاہے جو بنیادی کیس میں زیرسماعت آئے ہوں۔لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج پرویز عنایت ملک نے اس حوالے سے کہاہے کہ طے شدہ ہے کہ قانون سازی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگیاہے،اس حد تک درخواست پر نظر ثانی کا معاملہ ختم ہوگیاہے،نظر ثانی کی درخواست کا سکوپ بہت محدود ہوتاہے،حکومت کوعدالتی حکم نامے میں واضح غلطی کابتانا پڑے گابصورت دیگر یہ درخواست مسترد ہوجائے گی، انہوں نے کہا کہ بنیادی فیصلے میں اگر کوئی سقم ہوں تو نظر ثانی میں عدالت ان کی بھی وضاحت کرسکتی ہے۔ ماہرقانون نعیم چودھری کا کہناہے کہ سپریم کورٹ کے روبروحکومت نے خود یقین دہانی کروائی تھی کہ آرمی ایکٹ میں پارلیمنٹ کے ذریعے ترمیم کرلی جائے گی،اب حکومت اپنی اس یقین دہانی کے بعد سپریم کورٹ سے کس دادرسی کی توقع کررہی ہے، حکومت نے قانون میں ترمیم کی اپنی یقین دہانی اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کردیاہے اس حد تک یہ نظر ثانی کی درخواست غیر موثر ہوگئی ہے۔حکومت نے جو نئے سوالات اٹھائے ہیں وہ قانونی طور پر نظر ثانی کی درخواست میں اٹھائے ہی نہیں جاسکتے۔انہوں نے کہا کہ اب نظر ثانی کی حکومتی درخواست کی حیثیت اتمام حجت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

قانونی ماہرین

مزید : صفحہ آخر