گیس بحران شدید، چولہے ٹھنڈے، کئی سو گنا زیادہ بل موصول، صارفین پھٹ پڑے

گیس بحران شدید، چولہے ٹھنڈے، کئی سو گنا زیادہ بل موصول، صارفین پھٹ پڑے

  



لاہور(خبرنگار)گیس کی قلت سنگین صورتحال اختیار کرگئی۔گھریلو صارفین 6سے 8گھنٹے گیس کی سہولت سے محروم رہنے کے باوجود کئی سو گنا بل ادا کرنے پر مجبورہوگئے ہیں۔صارفین پھٹ پڑے۔تفصیلات کے مطابق صوبائی درالحکومت سمیت ملک بھر میں گیس کی ڈیمانڈ سنگین صورتحال میں تبدیل ہوگئی ہے اوراس میں گھریلو صارفین بری طرح متاثر ہو کر رہ گئے ہیں جس میں کھانا تیار کرنے کے اوقات میں گیس کا پریشر 6 سے 8 گھنٹے ڈاؤن رہنا شروع ہوگیا ہے۔جس کے باعث گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوکررہ گئے ہیں اور صارفین کی جانب سے تمام تر شکایات کے باوجودوہ گیس کی سہولت سے محروم چلے آ رہے ہیں۔لاہور کے پچاس سے زائد گنجان علاقوں میں گیس کا پریشر 8سے 10گھنٹے جبکہ گنجان آبادیوں میں 6سے 8گھنٹے ڈاؤن رہنا شروع ہو گیا ہے جس پر صارفین کا کہنا ہے کہ وہ مجبوراً ایل پی جی سمیت متبادل ایندھن لکڑی اور کوئلہ کا استعمال کر رہے ہیں جس کے لئے انہیں بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نئے سال کے شروع ہوتے ہی گیس کے بھاری بل بھی موصول ہو گئے ہیں جس میں گیس کے بل میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایل پی جی،کوئلہ اور لکڑی کے لئے بھاری اخراجات برداشت کررہے ہیں دوسری طرف گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔دوسری جانب نئے سال کے شروع ہوتے ہی گیس کے بلوں میں کئی گنا اضافہ کرکے بجھوانا انتہائی سخت زیادتی ہے۔اس پر حکومت کو چاہیے کہ گیس کے بلوں میں اضافے کو واپس لائے۔ اس حوالے سے سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں میں گیزر اور گیس ہیٹر کا استعمال کرنے والے صارفین کو واقع گیس کے بل زیادہ موصول ہوئے ہیں تاہم تمام صارفین کو گیس کے بل استعمال کے مطابق آئے ہیں۔ گیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ گیس کے بلوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا ہے محض ان لوگوں کو گیس کے بل زیادہ موصول ہوئے ہیں جنہوں نے گیس کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔

گیس کی قلت 

مزید : صفحہ آخر