تہران واشنگٹن آمنے سامنے آئے تو جنگ روایتی نہیں ہو گی: عالمی مبصرین 

تہران واشنگٹن آمنے سامنے آئے تو جنگ روایتی نہیں ہو گی: عالمی مبصرین 

  



نیویارک (این این آئی)عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مبصرین نے کہاہے کہ مشرقِ وسطی میں کشیدگی میں اضافے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے اثرات نمودارہونے لگے ہیں،امریکی میڈیا کے مطابق واقعے کے بعدعالمی مبصرین نے اپنے ردعمل میں کہاکہ اس وقت پوری دنیا کی توجہ عراق پر مرکوز ہے اور سب یہ جاننے کیلئے بے چین ہیں کہ جس ملک کی سرزمین پر یہ حملہ ہوا ہے ان کا ردعمل کیا ہو گا۔ساتھ ہی ماہرین کی جانب سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے امریکہ کی اس کارروائی پر تنقید کر دی تو پھر کیا ہو گا؟کالم نگار اور عالمی امور پر گہری نظر رکھنے والے وجاحت علی نے کہاکہ اگر ہمارے یورپی اتحادیوں نے امریکہ کے سلیمانی کو قتل کرنے کے فیصلے پر تنقید کی اور ایران کے جوہری معاہدے پر قائم رہے تو ٹرمپ کا ردِعمل کیا ہو گا؟ مشرق وسطی پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اور مصنف ولی نصر کے مطابق جنرل سلیمانی خطے میں کافی مقبول تھے اور ان کی ہلاکت کے بعد ایران پر جوابی کارروائی کرنے کے لیے کافی دباؤ ہوگا۔کتاب دی شیڈو وارکے مصنف اور کالم نگار جیمز شیوٹو کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اور ایران حالیہ کشیدگی کے باعث آمنے سامنے آتے ہیں تو یہ امریکہ کے لیے کسی کسی بھی دوسری جنگ سے مختلف ہو گی۔

عالمی جنگ کا خدشہ 

مزید : صفحہ اول


loading...