پاکیز گی کاراز

پاکیز گی کاراز

  



کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں ایک کتا کنویں میں گر کر مر گیا.. چونکہ گاؤں میں وہ واحد کنواں تھا اس لئے لوگ بھاگے بھاگے اپنے علاقے کے مولوی صاحب کے پاس گئے اور ان سے سوال کیا کہ کنواں پاک کیسے کیا جائے..؟ مولوی صاحب نے فرمایا.." آپ لوگ کنویں سے چالیس بالٹیاں نکال کر پھینک دیں کنواں پاک ہو جائے گا.." ایک دو دن بعد پھر گاؤں والے مولوی صاحب کے پاس پہنچے اور بولے.."حضرت پانی تو ویسے کا ویسا ہی ہے.. آپ کے حکم کے مطابق چالیس بالٹیاں پانی نکال کر پھینک دی تھیں.." مولوی صاحب نے یہ بات سن کر پوچھا.."کیا آپ لوگوں نے کتے کو نکال کر بالٹیاں پھینکی تھیں..؟" اس پر سب بولے.."حضرت! آپ نے بالٹیاں نکالنے کا کہا تھا 'کتا نکالنے کا نہیں.."

سو! ہم بھی گاؤں والوں کی طرح کرتے ہیں..بغض' نفرت' تعصب اور لالچ کے کتے دل میں رہنے دیتے ہیں اور کچھ نمازیں ' تسبیحات پڑھ کر سمجھتے ہیں دل پاک ہو گیا۔

واقعی ایسا ہے۔ نفرت،بغض،کینہ وغیرہ سے دل کتنا گندہ ہو جاتا ہے۔اپنا آپ برا لگنے لگتا ہے۔ میری تو یہی کیفیت ہوتی ہے۔پھر میں دعائیں مانگتی پھرتی ہوں۔ اللہ میرے دل کو پاک صاف کر دے۔میرا دل گندہ ہو گیا ہے اللہ!مجھے ٹھیک کر دے۔میرے رویے دوسروں کی طرف ایسے کر دے جیسا کہ تو چاہتا ہے کہ وہ ہوں اور اللہ تعالیٰ یہ دعا فوراََ قبول کرتا ہے۔ دل ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے۔ سب کے لئے دل میں نرمی اور گنجائش پیدا ہوجاتی ہے۔جس بندے کو دیکھنے کو جی نہیں کرتا تھا اب دل سے اس کے لئے دعائیں نکل رہی ہیں۔اللہ ہم سب کے دلوں کو ان آلائشوں سے پاک صاف رکھے۔آمین!

مزید : ایڈیشن 1