شیطان کے پھندے

شیطان کے پھندے

  



کہتے ہیں کہ ایک دن شیطان بیٹھا رسیوں کے پھندے تیار کر رہا تھا.. کچھ موٹی موٹی رسیوں کے پھندے تھے'کچھ باریک اور کمزور رسیوں کے پھندے تھے.. وہاں سے ایک علم والے کا گذر ہوا تو اس نے شیطان سے پوچھا.."ارے او دشمن انساں! یہ کیا کر رہے ہو..؟"

شیطان نے سر اٹھا کر دیکھا اور اپنا کام جاری رکھتے ہوئے بولا.."دیکھتے نہیں حضرت انسانوں کو قابو کرنے کے لیے پھندے تیار کر رہا ہوں.."

ان حضرت نے پوچھا.."یہ کیسے پھندے ہیں کچھ موٹے کچھ ہلکے..؟"

شیطان نے جواب دیا.."پھندے ان لوگوں کے لیے ہیں جو شیطان کی باتوں میں نہیں آتے.. لہٰذا مختلف قسم کے پھندے تیار کرنے پڑتے ہیں.. کچھ خوشنما' کچھ موٹے' کچھ باریک.."

ان حضرت کے دل میں تجسس پیدا ہوا.. پوچھا.."کیا میرے لیے بھی کوئی پھندا ہے..؟"

شیطان نے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے کہا.."آپ علم والوں کے لیے مجھے پھندے تیار نہیں کرنے پڑتے.. آپ لوگوں کو تو میں چٹکیوں میں گھیر لیتا ہوں.. علم کا تکبر ہی کافی ہے آپ لوگوں کو پھانسے کے لیے.."

ان حضرت نے حیران ہو کر پوچھا.."پھر یہ موٹے پھندے کس کے لیے ہیں..؟"

شیطان نے کہا.."موٹے پھندے اخلاق والوں کے لیے ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں.. ان پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے.. اسی لیے حدیث شریف میں ہے کہ اعمال میں سب سے زیادہ وزنی چیز اخلاق ہو گا.."

اللہ ہم سب کو بہترین اخلاق والا بنا دے..

اچھا اخلاق کتنے ہی مسائل اور جھگڑوں کا حل بھی ہے۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر علم والے لوگ تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ علم تو عاجزی سکھاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”ہر ابن آدم خطاکار ہے، اور خطاکاروں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو توبہ شعار ہیں۔“

1۔ ”ہر ابن آدم خطا کار ہے۔“ یعنی انسان میں فطرتاً ایسی کمزوریاں موجود ہیں کہ اْس سے اللہ کی نافرمانی کا صدور ہوسکتا ہے، اور اگر اللہ کی خاص نگرانی شاملِ حال نہ ہو تو انسان کے دامن کا اس گندگی سے بالکل پاک رہنا سخت مشکل ہے۔ اس ارشاد سے دو باتوں کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ ایک تو یہ کہ کوئی انسان اپنی حالت پر مطمئن اور اپنے احتساب سے غافل نہ ہو۔ اْسے یہ حقیقت بخوبی یاد رہے کہ اْس سے ہر آن غلطی ہوسکتی ہے، اور اگر وہ چوکنا اور ہوشیار نہ رہے تو نفس کی کمزوری اور شیطان کی وسوسہ اندازی سے اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ دوسری بات جو ذہن نشین کرانی ہے وہ یہ ہے کہ انسان سے اگر غلطی ہوجائے تو وہ اپنے آپ سے مایوس نہ ہوجائے اور اپنی اصلاح سے دل برداشتہ ہوکر جی چھوڑ نہ بیٹھے۔ اس ارشاد میں گنہگاروں کے لیے تسلی کا پیغام ہے، ان سے کہا جارہا ہے کہ اگر تم سے اللہ کی نافرمانی ہوگئی تو تمہیں اپنے سے مایوس نہ ہونا چاہیے، غلطی انسان ہی سے ہوتی ہے اور انسان سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ اس لیے اپنے آپ سے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ غلطی کا تدارک کرو اور اپنی شخصیت اور اپنے مستقبل سے پوری طرح پْرامید رہو۔

2۔ ”اور خطاکاروں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو توبہ شعار ہیں۔“ یعنی انسان کا معیار مطلوب یہ نہیں ہے کہ اْس سے گناہ سرزد ہی نہ ہو۔ انسان سے تو کوئی نہ کوئی لغزش ہو ہی جاتی ہے۔ بہترین اور معیاری انسان وہ ہے کہ جب بھی اْس سے غلطی ہوجائے وہ فوراً اللہ کی طرف رجوع کرے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرے، ہر لغزش اْس کے لیے ایک تازیانہ ثابت ہو، وہ اپنی کمزوریوں پر مطلع ہوکر ان کے ازالے کی طرف شدت سے متوجہ ہو، جب بھی اس کے ہاتھ سے اللہ کی رسّی چھوٹ جائے، وہ لپک کر پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ اْسے تھام لے، جب بھی اللہ کی ناخوشی کا کوئی کام اْس سے ہوجائے، وہ رو رو کر اور گڑگڑا کر اپنے آقا کو خوش کرنے اور پہلے سے زیادہ اْس کی خوشنودی کے کاموں میں لگ جائے۔ باَلفاظِ دیگر توبہ کرنا اس کی مستقل صفت ہو۔ ایسے ہی انسان اللہ کو محبوب ہیں اور ایسے ہی لوگ نوعِ انسانی کا بہترین عنصر ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1