ایک طالب علم کی تحریر

ایک طالب علم کی تحریر

  



میں ایک کالج میگزین کا ایڈیٹر ہوں۔ طالب علم میگزین کی تیاری کے مراحل میں بہت سی تحریریں دیتے ہیں۔ اکثر بے ڈھنگی، چوری شدہ اور غیر معیاری ہوتی ہیں۔ چند ایک طالب علم ہی اعلیٰ پائے کی تخلیقی صلاحیت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

کل مجھے ایک طالب علم نے نہایت رَف انداز میں لکھی ہوئی تحریر دی جس کا ورق بھی غیر مناسب اورپھٹا ہْوا تھا۔ میں نے بغیر پڑھے اسے اپنی کتاب میں رکھ لیا۔

کالج میگزین کا کام تقریباً مکمل تھا۔ میں گھر آیا تو میرے بیٹے نے ڈرائنگ کے لیے اس کاغذ کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ میں نے جھٹک کے اس کاغذ کو چھین لیا اور پھر بغیر پڑھے کتاب میں رکھ دیا۔

میرے لیے اْس تحریر سے زیادہ اْس جذبے کی قدر تھی جس نے ایک طالب علم کو تحریر لکھنے پر مائل کیا۔ میں تحریرکے غیر معیاری پن کی وجہ سے اسے پھینکنے کے لیے بھی تیار تھا مگر ایسا کرنہیں پا رہا تھا اور وہ کتاب میں ہی پڑی رہ گئی۔

کئی دن گزر گئے۔ میگزین چھپ کے آگیا۔ ہر طرف تعریفیں ہونی لگیں۔

اْس طالب علم نے بھی پوچھا کہ میری تحریر نہیں چھپی، کس وجہ سے رد کر دی گئی۔

میں اْس کے سامنے تو خاموش رہا مگر اسے جواب دینے کے لیے تحریر پڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔

تحریر کھولی تو آغا زمیں ہی لکھا تھا:

”میں اب تحریر نہیں لکھتا، کیوں کہ میری کسی بھی تحریر کو پڑھا نہیں جاتا۔ شاید وہ غیر معیاری ہوتی ہیں۔میں اس تحریر کو اس لیے لکھ رہا ہوں کہ بتا سکوں کہ میری تحریر کیوں نہیں پڑھی جاتی اور وہ غیر معیاری کیوں ہوتی ہیں ____“

میں نے ابھی اتنا ہی پڑھا تھا کہ شرمندہ ہو گیا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...