کا ئنا تی گردکی دُھول

کا ئنا تی گردکی دُھول

  



میں چھوٹی سی عمر میں ہی والد کے ساتھ قبرستان جاتا۔ میرے والد مجھے اپنے والد اور دادا کی قبروں کے پاس کھڑے کر دیتے اور قرآن پڑھنا شروع کر دیتے۔ اسی دوران میں کبھی قبروں کو اور کبھی ساتھ ہی سے گزرتی ٹرین کو دیکھنے لگتا۔قبرستان کی اختتامی حدود کے ساتھ ہی ریلوے لائن بچھی ہوئی تھی۔ جس کی دوسری سمت بھی اب کچھ قبریں بن چکی ہیں۔

جمعہ کا دن تھا۔ابو نے کہا:

میں قبرستان جا رہا ہوں کیا تم چلو گے؟“

میں نے فوراً کہا: ”ہاں چلوں گا“

کچھ ہی دیر میں ہم قبرستان پہنچ گئے اور انھی بزرگوں کی قبروں کے پاس کھڑے تھے۔ابو نے کہا:”دیکھو، یہ قبر میرے دادا کی ہے اور ادھر، یہ قبر میرے والد کی ہے،یہ تمھاری دائیں طرف والی قبر میرے نانا کی ہے اور یہ بالکل میرے سامنے والی قبر میری ماں کی ہے“

ابو شکست خوردہ جوش کے ساتھ مجھے بتاتے جا رہے تھے۔ ان کی نظریں میری بجائے ان قبروں پر تھیں۔میں نے ابو سے کہا:”ابو آپ کو کیسے پتا ان قبروں کے نیچے کون ہیں، کتبے تو ہیں نہیں یہاں۔“

ابو بولے:”اصل میں بالکل تمھارے آگے والی قبر کوئی قبر نہیں۔“

میں نے حیرانی سے پوچھا:”مگر ابو،یہ تو قبر ہے۔“

ابو نے کہا:”نہیں، یہ قبر نہیں قبر سی بنائی ہوئی ہے، یہ میری قبر ہے، یہ میری جگہ ہے، یہ میری ماں کے بالکل ساتھ والی قبر ہے۔ بس میں یہیں سے اپنے جد کی قبروں کو پہچان لیتا ہوں کہ میرے دائیں بائیں کون سی قبریں ہیں۔“

میں بہت پریشان ہْوا۔ اس چھوٹی سی عمر میں مجھے کیا سمجھ آتی کہ انسان زندہ ہے اور اْس کی قبر بھی موجود ہے۔ میں نے اپنی بے چینی کو زبان دیتے ہوئے کہا:”مگر ابو،آپ اور آپ کی قبر!“

ابو اس دوران قران پاک کی تلاوت ختم کر چکے تھے اور میری طرف پوری طرح متوجہ ہو چکے تھے۔کچھ کہنے ہی والے تھے کہ ٹرین کا شور بلند ہونے لگا۔ ابو پھر خاموش ہو گئے اسی دوران ٹرین گزر گئی۔

”ہاں بیٹا! مجھے نہیں معلوم مجھے کہاں دفن ہونا ہے، شاید کسی بھی انسان کو یہ معلوم نہیں ہوتا۔ مگر میری خواہش ہے کہ ماں کے پاس قبر میں اتروں۔“

میں نے ابو کے ساتھ گھر کی واپسی کا سفر شروع کیا تو دیکھا کہ ٹرین نے جو گرد اڑائی تھی ابھی تک اڑ رہی تھی اور پورے قبرستان کے اوپر مہین دھویں کی تہہ سی جم گئی تھی جس نے ساری قبروں کو ایک سا کر دیا تھا۔

کئی سال گزر گئے۔ اس دوران والد کبھی اکیلے قبرستان چلے آتے کبھی میرے بھائیوں کے ساتھ۔ مجھے ان کے ساتھ جانے کا موقع نہ مل سکا۔وقت کی گرد نے سب کچھ دھندلا دیا۔کائناتی گر دکی دھول میں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ ماضی تو صحرا ؤں کے ٹیلوں کی شکل دکھائی دیتا ہے۔جو پل میں اپنا ہیولا بدل لیتے ہیں۔مگر ان کی خاصیت نہیں بدلتی۔ ویران، کھنڈر اور اجاڑ۔کئی سال گزر گئے بلکہ والد کی وفات کو بھی اب تو کئی سال گزر گئے۔میں نے یونہی اکیلے آبائی شہر جانے کا ارادہ کیا۔ٹرین سرپٹ دوڑتی جا رہی تھی۔طویل سفر پلک جھپکتے گزر گیا۔شہر میں اترتے ہی آبائی گھر جانے کی بجائے میں بے ساختہ قبرستان کی طرف چل پڑا۔ قبروں کے پاس آیا تو مجھے کچھ یاد نہیں تھا کہ میرے نکڑ دادا کی قبر کون سی ہے، دادا کی کون سی،دادی کی کون سی اور والد کہاں دفن ہیں۔ بالاخر میں نے راہ داری کے ساتھ پہلی قبر کو پہچان لیا جو ریلوے لائن کی سمت تھی۔ یہ میرے والد کے نانا کی قبر تھی۔ اس حساب سے میں نے اپنے والد کی قبر کو ڈھونڈ نکالا۔ دعا کے بعد میں جانے لگا تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے بھی اپنی قبر بنا لینی چاہیے۔میں آئندہ قبروں کو یاد بھی رکھنا چاہتا تھا اور اْسی طرح جس طرح میرے والدیاد رکھتے تھے۔کچھ ہی دیر میں گورکن کی مدد سے، میں نے والد کی قبر کے نیچے اپنی فرضی قبر بنوا لی۔

جب میں قبرستان سے جا رہا تھا تو میرا قبرستان میں موجود اپنے جد سے ایک رشتہ قائم ہو چکا تھا میں زندگی اور موت کے درمیان فاصلوں کو پھلانگ چکا تھا۔میں ایسا زندہ تھا جو ایک قبر میں دفن ہو چکا تھا۔جو زندگی اور موت دونوں حالتوں میں موجود تھا۔ جویہ جان چکا تھا کہ زندگی کی یہ ٹرین کسی بھی سمت کو چلی جائے اسی قبرستان سے گزرے گی۔

ہاں واقعی________انسان کو اپنی قبر کا تعین ہو جائے تو آس پاس کی قبروں کا ہی نہیں کائناتی وقت کے احاطے کا نقشہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1