آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  



٭خان صاحب ایک دوست کے گھر گئے تیز بارش شروع ہو گئی پٹھان کے دوست نے کہا یار آج یہیں رہ جاؤ بارش بہت تیز ہے۔خان صاحب بولا ٹھیک ہے اس کا دوست اس کے لیے بستر ٹھیک کرکے فارغ ہوا دیکھا تو خان صاحب غائب تھا،تھوڑی دیر بعد خان صاحب بارش میں بھیگا ہوا اس کے پاس آیا دوست نے پوچھا کہاں گئے تھے؟خان صاحب نے جواب دیا ہم گھر والوں کو بتانے گئے تھے کہ آج بارش کی وجہ سے ہم دوست کے گھر رات گزاریں گے۔

٭ایک دریا کے کنارے دو سردار دریا کے اندر چمچ سے دہی ڈال رہے تھے۔ ایک پٹھان وہاں آیا اور پوچھا ”بھائی یہ کیا کر رہے ہو۔؟“

سردار بولے ”ہم لسّی بنا رہے ہیں۔“

پٹھان ”ہا ……ہا……ہا او پاگل کے بچو اسی لیے لوگ تم پہ لطیفے بناتے ہیں اتنی لسّی پیئے گا تمہارا باپ؟“

٭فقیر فون پہ ”ہیلو پیزا ہٹ“

آپریٹر ”یس سر“

فقیر ”31 بڑے پزا 6چکن اور 2پیپسی بھیج دو۔“

آپریٹر ”کس کے نام پہ؟“

فقیر ”اللہ کے نام پہ۔“

٭ریس دیکھتے ہوئے پٹھان نے اپنے ساتھ بیٹھے بندے سے پوچھا انعام کس کو ملے گا؟“ اس نے کہا ”سب سے آگے والے کو۔“

پٹھان:”تو یہ پیچھے والے کیوں دوڑ رہے ہیں۔“

٭سردار:Nothingکا کیا مطلب ہے؟“

ٹیچر ”کچھ نہیں۔“

سردار ”بے غیرتی نہ کر اگر لفظ بنایا ہے تو کچھ مطلب تو ہو گا۔“

٭پٹھان نے اپنی قضا نماز کی نیت کی: ”2رکعت نماز فرض قضا فجر، 4نومبر2008 5:20 والا نیا ٹائم اللہ اکبر۔

٭پٹھان:”I am going کا کیا مطلب ہے؟“

پروفیسر: ”میں جا رہا ہوں۔“

پٹھان: ”ایسے تو تیرا باپ بھی نہیں جا سکتا پہلے مطلب بتا۔“

٭پٹھان کو کسی نے دعوت پر بلایا پٹھان اس کے گھر گیا تو وہ نہیں تھا اور دروازے پر تالا لگا ہوا تھا،پٹھان کو غصہ آیا اور اس نے دروازے پر لکھ کر لٹکا دیا کہ۔ ”میں آیا ہی نہیں تھا۔“

٭سردار بیٹے سے ”اوے تیرے رزلٹ کا کیا بنا“

بیٹا ”مس کہندی اے اس کلاس وچ ایک سال اور لگانا پڑے گا۔“

سردار ”سال بھانویں دو تین لگ جاون پر فیل نہ ہوئیں میرا پتّر“

٭وکیل ”مائی لارڈ قانون کی کتاب کے صفحہ نمبر 15کے مطابق میرا موکل بے گناہ ہے۔“

جج ”کتاب پیش کی جائے“ کتاب پیش کی گئی،جج نے مطلوبہ صفحہ کھولا تو اْس میں پانچ پانچ ہزار کے دو نوٹ رکھے ہوئے تھے۔

جج ”اس طرح کے دو ثبوت اور پیش کیے جائیں“

٭پٹھان جراسک پارک فلم دیکھ رہا تھا فلم میں ڈائینو سارس سکرین کی طرف دوڑا اور پٹھان جلدی سے اٹھ کر باہر کی طرف بھاگا اس کے دوست نے اسے کہا کہ ”بیوقوف ڈر کیوں رہے ہو یہ تو صرف فلم ہے,“

پٹھان ”مجھے بھی پتہ ہے کہ یہ فلم ہے مگر اسے کیا پتہ وہ تو جانور ہے۔“

٭پٹھان۔ ”جب ہم چھوٹا سا تھا تو مینارِپاکستان سے گر گیا تھا۔“

دوسرا پٹھان ”پھر تم مر گیا تھا یا بچ گیا؟“

پہلا پٹھان ”ہم کو یاد نہیں ہم اس وقت چھوٹا تھا“۔

٭استاد پٹھان سے ”کہانی سناؤ“

پٹھان ”ایک دن ہم ان کے گھر گیا تو وہ سوئے ہوئے تھے، ایک دن وہ ہمارے گھر آئے توہم سوئے ہوئے تھے۔“

نتیجہ ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔“

٭بیوی شوہر سے ”سنا ہے آپ کا دوست غلط لڑکی سے شادی کر رہا ہے آپ اس کو روکتے کیوں نہیں۔“

شو ہر ”میں کیوں روکوں اس کمینے نے مجھے روکا تھا کیا؟“۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...