گوگل کا اے آئی ٹول بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے موثر قرار

گوگل کا اے آئی ٹول بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے موثر قرار

  



گوگل کے ہیلتھ ڈویڑن نے گزشتہ چند سال اس حوالے سے تحقیق کی ہے اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے درست تشخیص کا عمل ڈیپ مائنڈ، کینسر ریسرچ یوکے امپرئیل سینٹر، نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی اور رائل سرے کاؤنٹی ہاسپٹل کی مدد سے متعارف کرایا ہے۔امریکی جریدے شائع مقالے میں اس حوالے سے بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے اے آئی ماڈل کے کامیاب نتائج کی تفصیلات بیان کی گئیں۔اس اے آئی ماڈل کے ذریعے محققین نے برطانیہ اور امریکا سے تعلق رکھنے والی 28 ہزار سے زائد خواتین کے میموگرام اسکین کا تجزیہ کیا اور کینسر کی تشخیص کی جو ریڈیولوجسٹ پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔محققین کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے وہ صحت مند خواتین میں بریسٹ کینسر کی غلط تشخیص کے کیس کی تعداد کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔گوگل ہیلتھ سے تعلق رکھنے والے ڈومینک کنگ نے ایک بیان میں کہا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ٹیم نے بریسٹ کینسر کی درست تشخیص کے حوالے سے اچھا ٹول تیار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مزید ٹیسٹ، طبی تصدیق اور ریگولیٹری اجازت درکار ہوگی جس کے بعد اس کا باضابطہ استعمال کیا جاسکے گا، مگر ہم اس مقصد کے لیے حصول کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔اگر اس حوالے سے تحقیق میں کامیابی کا سلسلہ جاری رہا تو دنیا بھر میں خواتین کو اس سے فائدہ ہو گا۔

مزید : علاقائی