صحافیو ں کی بہبود کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے: محمود خان 

صحافیو ں کی بہبود کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے: محمود خان 

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آئی ہے اس لیے یہ حکومت سماجی خدمات کے اداروں میں اصلاحات اور امن وامان کے قیام سمیت ہر وہ کام کرے گی جس سے عوام کو فائدہ ہو۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سوات سمیت پورے صوبے میں ترقیاتی کاموں کی تکمیل ممکن بنائیں گے۔ سوات میں صحافیوں اور دیگر شعبوں سے جڑے افراد کی فلاح و بہبود کیلئے مسلسل کام کررہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ ہم نے علاقے کی ترقی کیلئے ہمیشہ نیک نیتی سے کام کیا ہے اور آگے بھی کرتے رہیں گے۔ میں نے عوام سے جووعدے کئے ہیں انشاء اللہ اُن کو پورا کروں گا۔ اُنہوں نے کہاکہ سوات میڈیا کالونی میں قواعد وضوابط کے مطابق پلاٹوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے تمام شہریوں کو قومی شناختی کارڈ پر صحت سہولیات کی فراہمی بہت جلد ممکن بنائی جائے گی۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ ضلع سوات میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے پرائیوٹ ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں بھی صحت انصاف کارڈ پر صحت سہولیات کی فراہمی جلد ممکن بنائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں مٹہ پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے مٹہ پریس کلب کے نومنتخب صدر جہانزیب خان، جنرل سیکرٹری خائستہ باچا اور دیگر کابینہ ممبران سے حلف لیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت مٹہ پریس کلب کی بہتری اور صحافی برادری کی ترقی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے گی۔اُنہوں نے مزید کہاکہ صوبائی حکومت مٹہ پریس کلب کی نوجوان قیادت کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت مثبت صحافت کے فروغ کیلئے شروع دن سے ہی اقدامات کر رہی ہے۔ ہم نے مل کر اس ملک اور صوبے کوترقی کی راہ پر گامزن کرناہے۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان  نے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، ڈاکٹرز کی تعیناتی اور جدید آلات کی فراہمی کے عمل کو تیز کرنے اور قبائلی اضلاع کیلئے مختص بجٹ کو جلد از جلد استعمال  میں لانے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کیلئے تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی جلد تکمیل ترجیح ہونی چاہیئے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں قبائلی اضلاع کیلئے تیز تر عمل درآمد والے منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، رکن صوبائی اسمبلی سید غازی غزن جمال، چیف سیکرٹری کاظم نیاز، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، ایس ایس یو ہیڈ صاحبزادہ سعید، سیکرٹری خزانہ، پی اینڈ ڈی، سی اینڈ ڈبلیو، ایری گیشن، ہیلتھ، ایگرکلچر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس کو قبائلی اضلاع میں تیز تر عمل درآمد والے منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت سمیت ضم شدہ اضلاع کیلئے کرنٹ اور ترقیاتی بجٹ پر بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پچھلے چند ہفتوں سے تمام منصوبوں پر پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ فنڈز کے بروقت استعمال کو یقینی بنایا جاسکے جبکہ تیز تر عمل درآمد پروگرام کے تحت پالیسی کو بھی حتمی شکل دی گئی ہے۔ متعلقہ محکموں میں سکیموں کے پی سی ونز اور منصوبہ بندی کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ دیر پا اثر اندازہونے والی سکیموں کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ محکموں میں سکیموں کی تکمیل کیلئے ایکشن پلان بھی مرتب کئے گئے ہیں منصوبوں پر عمل درآمد کی نگرانی کیلئے چھ مختلف پہلوؤں کو مزید بہتر کیا جائے گا جس میں مجوزہ محرکات کے تحت کارکردگی کا جائزہ لینا، ہر محکمے میں اے آئی پی کے تحت مخصوص مینجمنٹ سٹرکچر پر توجہ دینا، مانیٹرنگ اور ایوالویشن، لینڈ سٹیلمنٹ کے مسائل کاتیز رفتاری سے حل، ہر محکمے کیلئے انونٹری میپنگ اور تین مہینوں کے اندر پی اینڈ ڈی میں اے آئی پی ڈیلیوری یونٹ کا قیام شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اے آئی پی کے تحت مختلف محکموں میں کل 162 سب سکیمیں ہیں جس کے لئے 59 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ مختلف منظور شدہ سکیموں کیلئے کل 9000 ملین روپے بھی جاری کئے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اے آئی پی کے تحت محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں کل 18 سب سکیمیں ہیں جن پر 12891 ملین روپے لاگت آئے گی، جس میں سے  10692 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں میں اگلے اکیڈمک سال سے طلباء کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔  ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے شعبے میں 7.9 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جبکہ محکمہ صحت کیلئے کل 10.1 ارب روپے مختص کئے گئے تھے جس میں سے 3 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔ اسی طرح محکمہ کھیل وثقافت اور سیاحت کیلئے 5.1 ارب روپے مختص کئے گئے تھے جس میں 1.8 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جبکہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کیلئے کل 5 ارب روپے مختص کئے گئے تھے جس میں سے 4.9 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تیز تر عمل درآمد والے پروگرام کی نگرانی کیلئے سٹیئرنگ کمیٹی کا اعلامیہ بھی جلدجاری کردیا جائے گا۔  پروگرام کی نگرانی سہ ماہی بنیادوں پر مجوزہ محرکات کے ذریعے کی جائے گی۔ ان محرکات میں پی سی ونز کی موجودہ صورتحال، منظوری کا سٹیٹس، محکموں کو جاری شدہ فنڈز کی صورتحال، اخراجات اور سکیم وائز ٹاسک مینجمنٹ شامل ہیں۔ اجلاس کو دیگر شعبوں میں مختص بجٹ پر بھی بریفینگ دی گئی اور بتایا گیا کہ سو شل سکیورٹی کیلئے 4760 ملین روپے، نکاسی آب اور صاف پینے کے پانی کیلئے 1330 ملین روپے، انرجی کیلئے 3450 ملین روپے، صنعت کی ترقی کیلئے 1200 ملین روپے، زراعت کیلئے 3070 ملین روپے، آبپاشی کیلئے 3950 ملین روپے، مائنز اینڈ منرلز کیلئے 850 ملین روپے،ماحولیات اور جنگلات کی ترقی کیلئے 350 ملین روپے جبکہ گورننس کیلئے 7620 ملین روپے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے 900 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اجلاس کو شعبہ صحت کی ترقی کیلئے مجوزہ پلان پر بھی آگاہی دی گئی جس میں ماں اور بچے کی زندگی بچانے کیلئے سنٹرز، ریجنل بلڈ سنٹرز، 85 بنیادی ہیلتھ یونٹس کی تجدید کاری، رورل ایمبولینس سروسز، سیکنڈری کیئر ہسپتالوں کی تجدید کاری، معیاری ادویات، ویکسینز و دیگر سہولیات کی دستیابی، معیاری میڈیکل پروفیشنل اور ٹیکنیشنز کی فراہمی، میڈیکل تعلیم اور ٹرشری سہولیات جبکہ ہیلتھ فنانسنگ بھی پلان کا حصہ ہے۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ریسکیو1122 سٹیشنوں کے قیام اور اب تک کی پیشرفت کے حوالے سے بھی اجلاس کو تفصیلاً بتایا گیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے عوام کو جلد ریلیف دینے کیلئے صوبائی حکومت نے پہلی فرصت میں اے آئی پی پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔ ان منصوبوں کی جلد تکمیل سے ضم شدہ اضلاع میں ترقی کی راہ جلد ہموار ہو گی اور تمام اداروں میں عوام کو سستی اور بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

مزید : صفحہ اول


loading...