جنرل سلیمانی کے قتل کے بعدامریکی صدر کی پہلی نیوز کانفرنس،ایسی بات کر دی کہ ایرانی غصے سے آگ بگولہ ہوجائیں گے

جنرل سلیمانی کے قتل کے بعدامریکی صدر کی پہلی نیوز کانفرنس،ایسی بات کر دی کہ ...
جنرل سلیمانی کے قتل کے بعدامریکی صدر کی پہلی نیوز کانفرنس،ایسی بات کر دی کہ ایرانی غصے سے آگ بگولہ ہوجائیں گے

  



واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)عراقی دارالحکومت بغدادمیں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے جاں بحق ہونے کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

اسی پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے قتل کر دیاجانا چاہیے تھا۔

فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ 'مار آ لاگو' پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے حملے کے بعد پہلی مرتبہ بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاانہوں نے ذاتی طورپرپاسداران انقلاب کی ایلیٹ القدس فورس کے سربراہ کو ہلاک کرنے کا حکم دیا۔ امریکا کے پاس ایسے منصوبوں اور اہداف کی لمبی فہرست ہے جس پرقاسم سلیمانی کسی بھی وقت عمل کرسکتے تھے۔

اپنے خطاب میں امریکی صدرنے کہاکہ وہ جنگ شروع نہیں کرنا چاہتے بلکہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے بقول امریکا، ایرانی عوام کا قدر دان ہے۔

ہم ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا خطے میں ایران کی حکومت کے جارحانہ اقدامات، خصوصا اپنے ہمسایہ ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کے لئے پراکسی جنگجووں کا استعمال، اب ختم ہونا چاہئے۔

صدر ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کو ہزاروں امریکی، عراقی اور ایرانی شہریوں کی اموات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے قتل کر دیاجانا چاہیے تھا کیونکہ انھوں نے’معصوم شہریوں کی ہلاکت کو اپنامریضانہ جنون بنا لیا تھا‘۔ ٹرمپ کے بقول جنرل سلیمانی 'دہشت گردی کا ایک ایسا نیٹ ورک چلانے کے ذمہ دار تھے، جس کی رسائی مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا تک تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /عرب دنیا


loading...