جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پرسعودی عرب کا ردعمل بھی سامنے آگیا

جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پرسعودی عرب کا ردعمل بھی سامنے آگیا
جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پرسعودی عرب کا ردعمل بھی سامنے آگیا

  



ریاض(ویب ڈیسک)ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پرسعودی عرب کا ردعمل بھی سامنے آگیا جس میں کہاگیاہے کہ عراق میں پیش آئے واقعات گزشتہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا نتیجہ تھے اور ریاض نے ان کے نتائج سے خبردار کیا تھا،سعودی عرب اس عزم کا اظہا رکرتا ہے کہ عالمی برادری خطے کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔دوسری جانب حزب اللہ نے ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی دھمکی دیدی ہے، حماس کی جانب سے بھی امریکی حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پرمشرق وسطیٰ میں صورت حال کشیدہ ہوگئی، سرحدوں پر ٹینکوں کی ہلچل کے ساتھ فوجی صف بندی میں مصروف ہیں، اسرائیلی فوج بھی ہائی الرٹ ہے۔دنیا بھر میں اسرائیلی سفارت خانوں کو سخت الرٹ کردیا گیا، لبنان میں اقوام متحدہ فورس کی بکتر بند گاڑیاں اسرائیل کے ساتھ سرحد پر پٹرولنگ کررہی ہیں، حماس نے حملے کی مذمت کردی جبکہ حزب اللہ نے بدلہ لینے کی دھمکی دے دی۔

سعودی عرب نے کشیدگی میں اضافے سے گریزکا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے خطے کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا کہا ہے۔لبنان کے اخبار’ الخبر‘ نے شہ سرخی لگائی”سلیمانی کی شہات۔۔ یہ جنگ ہے“۔ برطانوی اخبار میٹرو کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعددنیا جنگ کےلئے تیار ہوجائے ، سرحدوں پر ٹینک جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں اور مشرقی وسطیٰ میں فوجی تیار ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے ان کی ہلاکت وسیع نتائج لاسکتی ہے جس میںانسانی زندگیوں کا نقصان بھی شامل ہے۔

یورپین کونسل کے صدر نے ایک بیان میں کہا سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق کی صورت حال مزید کشیدہ ہوسکتی ہے،ہم نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عراق میں تشدد ، اشتعال انگیزی اور انتقامی کارروائیوں کا مشاہدہ کیا ہے، اسے اب ختم ہونا چاہیے، کشیدگی میں مزید اضافے کو ہر قیمت پر روکنا چاہئے۔ادھر سعودی عرب کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے برادر عراق میں واقعات کی پیروی کی ، جو تناﺅ اور دہشت گردی میں اضافے کے نتیجے میں سامنے آئے جن کی سعودی عرب ماضی میں مذمت اور خبردار کرتا رہا۔

خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات اور آپریشن کے علاوہ دہشت گرد ملیشیا کے ذریعے درپیش خطرات کے متعلق آگاہی کے ساتھ، سعودی عرب کشیدگی سے گریز کی اہمیت کا مطالبہ کرتا ہے ایسے واقعات ناقابل برداشت نتائج کے ساتھ صورتحال کو خراب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔سعودی عرب اس عزم کا اظہا رکرتا ہے کہ عالمی برادری خطے کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات کرنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...