ایرانی جنرل کیخلاف ’ریپئر ڈرون ایم کیو نائن‘ کے استعمال کا انکشاف لیکن دراصل یہ کس ملک سے آپریٹ ہوتا ہے؟ پتہ چل گیا

ایرانی جنرل کیخلاف ’ریپئر ڈرون ایم کیو نائن‘ کے استعمال کا انکشاف لیکن ...
ایرانی جنرل کیخلاف ’ریپئر ڈرون ایم کیو نائن‘ کے استعمال کا انکشاف لیکن دراصل یہ کس ملک سے آپریٹ ہوتا ہے؟ پتہ چل گیا

  



واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کیلئے ”ریپئر ڈرون ایم کیو نائن“ کا استعمال کیا۔ خیال کیا جاتا ہے اس آپریشن کی نگرانی سی آئی اے نے کی۔ اس ڈرون کو دنیا کا سب سے مہلک اور خطرناک ڈرون کہا جاتا ہے، یہ ڈرون انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے، کم وقت میں ہدف کو نشانہ بنانے، طویل فاصلے تک مار کرنے، کئی اقسام کے میزائل اور بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق اس ڈرون طیارے کو امریکی ریاست نویڈا میں قائم فوجی اڈے سے کنٹرول کیا جاتا ہے جبکہ ان میں سے کچھ کو لینگلی میں واقع سی آئی اے ہیڈکوارٹرز سے آپریٹ کیا جاتا ہے۔ امریکی فضائیہ کے مطابق ریپئر ایک مسلح ڈرون ہے جو ملٹی مشن میں کام آتا ہے، یہ درمیانے درجے کی بلندی پر پرواز کرتا ہے اور طویل فاصلے تک کنٹرول کیا جانے والا ریموٹ کنٹرول ڈرون ہے، اس ڈرون طیارے کو بنیادی طور پر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے تاہم یہ انٹیلی جنس معلومات کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی دفاعی کمپبنی جنرل اٹامکس کی جانب سے تیار کردہ ریپئر ڈرون 2007ءسے امریکی فوج کے استعمال میں ہے، اس کی قیمت ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے جبکہ یہ انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور مختلف قسم کے بموں اور میزائلوں سے فضائی حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ریپئر روایتی لڑاکا طیارے سے جسامت میں چھوٹا بھی ہے، اس کے پروں کی لمبائی 66 فٹ ہے اور اس کا وزن 4 ہزار 900 پاونڈ یعنی دو ہزار 222 کلو گرام بنتا ہے۔ یہ 25 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرسکتا ہے اور اس میں پروپیپلر انجن استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے دوران جنگ اس کی آواز سننا مشکل ہوتا ہے۔ اس کی رینج 1200 میل ہے جبکہ اس کے پائلٹس ہزاروں میل دور بیٹھ کر ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ ڈرون اپنے اہداف کو نشانہ بنانے، رابطہ کاری، انتہائی اہم معلومات جمع کرنے، ہدف کو کم وقت میں نشانہ بنانے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی ائیرفورس پائلٹ اور ہیریٹیج فاﺅنڈیشن کے سینئر رکن جان وینابل کا کہنا ہے کہ ریپئر جتنا خاموش ہے اتنا ہی مہلک بھی ہے اور قاسم سلیمانی پر حملے کے لئے اس کا استعمال بالکل کارگر تھا۔ انہوں نے واشنگٹن ایگزامنر کو بتایا کہ امریکا کے پاس قاسم سلیمانی کے حوالے سے انٹیلی جنس معلومات موجود تھیں اور وہ ان کے ساتھ مارے جانے والے ابو مہدی کی بغداد میں نقل وحرکت پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ امریکا نے نہ صرف ان دونوں کی ملاقات پر نظر رکھی بلکہ ان خطرات کو ختم بھی کردیا۔

امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ ڈیپٹولا نے واشنگٹن ایگزامنر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو نائن ریپئر قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کیلئے ایک بہترین مہلک ہتھیار تھا جو امریکا کی فضائی طاقت کی اہلیت اور بروقت کارروائی کی استعداد ظاہر کرتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...