دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کو”ٹکور “کروانے کے بعد قومی مفادنظر آرہاہے، ایاز امیر کا دوٹوک تجزیہ

دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کو”ٹکور “کروانے کے بعد قومی مفادنظر آرہاہے، ایاز ...
دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کو”ٹکور “کروانے کے بعد قومی مفادنظر آرہاہے، ایاز امیر کا دوٹوک تجزیہ

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تجزیہ کار ایاز امیر نے کہاہے کہ اس وقت ان کو لندن کا موسم اورنیب کے سیل یاد آرہے ہیں جس کی وجہ سے فوری طور پر قومی مفاہمت کی رگ پھڑ ک اٹھی ہے ، دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کی مختلف قسم کی” ٹکور“ ہوئی ہے ،اب وہ راہ راست پر آگئی ہیں اور ان کوقومی مفاد نظر آرہاہے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”تھنک ٹینک“میں گفتگوکرتے ہوئے ایاز امیر نے کہا کہ دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کی مختلف قسم کی ٹکور ہوئی ہے اوراب وہ راہ راست پر آگئی ہیں ، ان کوقومی مفاد نظر آرہاہے اور ان کی قومی مفاہمت کی رگ بھی جاگ اٹھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب کچھ کرنے کے بعد اب جو مطعون لوگ ہیں کچھ ان کے لئے بھی کرلیتے ، مسئلہ یہ ہے کہ اگر کچھ ہونا ہی ہے تو اپنے دائیں بائیں کھڑے لوگوں کیلئے بھی کچھ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کو لندن کا موسم اورنیب کے سیل یاد آرہے ہیں جس کی وجہ سے فوری طور پر قومی مفاہمت کی رگ پھڑ ک اٹھی ہے ۔

ایاز امیر کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد کال پر امریکی حیران رہ گئے تھے کہ اتنا وہ مانگ نہیں رہے تھے جتنا ہم نے دیدیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھنبے کی بات ہے کہ پومپیو کوبات تو کرنی چاہئے تھی وزیر اعظم سے لیکن ان کی جانب سے آرمی چیف سے بات کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جوصورتحال قومی اسمبلی میں ہے تو غیر ملکی بھی یہ بات دیکھتے ہیں اور وہ اتنی غلطی بھی نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی بہادر لوگ ہیں اور وہ مزاحمت کررہے ہیں لیکن ہم تو یہ بات کہنے سے بھی قاصر ہیں کہ کم از کم مذمت ہی کردیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور