کیا سکھ یاتریوں نے ننکانہ صاحب میں گردوارے کے گھیراﺅ کے بعد پاکستان آنے سے انکار کردیا؟ بھارتی صحافی کے دعویٰ پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے منہ توڑ جواب دے دیا

کیا سکھ یاتریوں نے ننکانہ صاحب میں گردوارے کے گھیراﺅ کے بعد پاکستان آنے سے ...
کیا سکھ یاتریوں نے ننکانہ صاحب میں گردوارے کے گھیراﺅ کے بعد پاکستان آنے سے انکار کردیا؟ بھارتی صحافی کے دعویٰ پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے منہ توڑ جواب دے دیا

  



راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ’بھارتی میڈیا کا کاروبار جھوٹ پر چلتا ہے ‘ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے، گزشتہ برس فروری کی کشیدگی کے دوران پوری دنیا نے بار بار بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا لیکن مودی سرکار کے عشق میں مبتلا بھارتی صحافیوں کو ذرا بھی شرمندگی نہیں ہوئی۔ اسی جھوٹ کی گھٹی کا اثر ہفتہ کے روز بھی دیکھا گیا جب ایک صحافی نے سکھ یاتریوں کے حوالے سے شوشہ چھوڑا لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسے اسی وقت دبوچ لیا۔

آدتیہ راج کول نامی بھارتی صحافی نے دعویٰ کیا کہ ہفتہ کے روز انڈین حکومت نے پاکستان کو 738 سکھ یاتریوں کی فہرست دی جن میں سے 737 یاتریوں کو پاکستان نے کلیئر کردیا۔ پاکستان کی جانب سے کلیئر کیے گئے یاتریوں میں سے صرف 150 ہی پاکستان گئے ۔ یہ واضح طور پر ننکانہ صاحب میں سکھوں کے مقدس مقام پر حملے کا رد عمل ہے۔

سکھ یاتریوں کے حوالے سے دعویٰ کرنے والے صحافی کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے جھوٹ بولتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ۔ میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی صحافی کو جواب دیتے ہوئے لکھا کوئی شخص اپنی ساکھ کھونے کیلئے کتنا جھوٹ بول سکتا ہے اور کتنا نیچے گرسکتا ہے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 4 جنوری 2020 کو 572 یاتریوں نے کرتار پور صاحب پر حاضری دی ۔ انہوں نے آدتیہ راج کول سے سوال پوچھا کہ کیا آپ یہ اعداد و شمار چیلنج کرنا چاہتے ہیں؟ جائیں اور اپنے سائیڈ پر جا کر رجسٹر چیک کرلیں، اگر کوئی پاکستان کے انٹری پوائنٹ پر ریکارڈ دیکھنا چاہتا ہے تو ہم اسے خوش آمدید کہیں گے۔

خیال رہے کہ جمعہ کے روز سکھوں اور ننکانہ صاحب کے مقامی مسلمانوں میں دودھ کی دکان پر دودھ میں مکھی گرنے پر تنازعہ پیدا ہوا تو پولیس نے 2 مسلمانوں کو گرفتار کرلیا۔ اس گرفتاری کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے احتجاج اور گردوارہ جنم استھان کا گھیراﺅ کیا گیا تھا۔ بھارتی میڈیا نے اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی لیکن ان کی یہ کوشش پاکستانی سکھوں، مسلمان مذہبی قائدین اور انتظامیہ نے باہمی بھائی چارے کا ثبوت دے کر خاک میں ملادی ۔

مزید : اہم خبریں /قومی /دفاع وطن


loading...