سیاست میں وقت کی اہمیت

سیاست میں وقت کی اہمیت
سیاست میں وقت کی اہمیت

  

 چند سال قبل جب پنجاب کے سابق گورنر ملک غلام مصطفےٰ کھر سیاست میں متحرک تھے تو میں اکثر ان سے درپیش سیاسی صورت حا ل پر ان کا تجزیہ معلوم کرنے کے لئے انہیں فون کرتا یا کبھی وہ میرے آفس تشریف لاتے تو ہمیشہ ان کا یہ کہنا مجھے بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتا۔ وہ کہتے کہ سیاست میں وقت (timing) کی بڑی اہمیت ہے، یعنی دستیاب سیاسی ماحول میں جو سیاستدان لب کشائی کرنے سے پہلے اپنی بات کے مالہ و ما علیہ پر سوچ بچار نہیں کرتا اور وقت نہیں پہچانتا وہ سیاسی اعتبار سے نہ تو میچور ہو سکتا ہے اور نہ ہی اپنے حصول مقصد میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اس وقت بھی اور آج بھی جب میں کھر صاحب کے سیاست میں ٹائمنگ والے کُلئے اور فارمولے کو دیکھتا ہوں تو میری نظر ملک کے دو بڑے سیاسی رہنماؤں کے طرز سیاست پر آکر رک جاتی ہے۔اگر ایک سیاسی رہنما وقت بے وقت بولنے کے نقصانات کی اہمیت اور سنگینی کو نہیں سمجھتا تو دوسرا وقت بے وقت بولنے کی اہمیت اور نقصانات اور فوائد سے آگاہ ہے۔ یہاں میری مراد تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ جناب میاں محمد نوازشریف ہیں جو اپنے جس بیانئے کی صداقت کو بار بار واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس پر قائم ہیں حالات اور وقت اس کے لئے قطعی طور پر ناموزوں تھے،

لیکن اس کے پہلو بہ پہلو جب ہم سابق صدر آصف علی زرداری کی سیاست اور سیاسی پالیسیوں کو دیکھتے ہیں تو سندھ میں بی بی کی تدفین پر سندھیوں کے شدید جذبات کے باوصف ہم تمام تر تلخیوں اور پنجاب سے جانے والی دو نعشوں (بھٹو صاحب اور بعد ازاں بینظیر بھٹو) کے سانحے کے باوجود انہیں ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگاتے دیکھتے ہیں تو ان کے سیاسی تدبر کی داد دینا پڑتی ہے۔ جب اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دیتے ہیں تو بیرون ملک روانہ ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک واپس نہیں آتے جب تک حالات سازگار نہیں ہو جاتے۔ وہ میثاق کرتے ہیں تو وقت نکل جانے پر اسے ٹشو پیپر کی طرح ’ڈسٹ بن‘ میں پھینک دیتے ہیں۔ان کے صاحبزادے کا سیاسی وژن ملاحظہ کیجئے وہ میاں نواز شریف کے گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں کہتے ہیں کہ میاں صاحب کے تازہ فلسفے سے مجھے دھچکا لگا ہے۔وہ اسمبلیوں سے استعفوں کی بات بھی کرتے اور نہیں بھی کرتے یعنی صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ چار پانچ روز پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں وہ ایک مرتبہ استعفوں کے مسئلے کو میاں محمد نواز شریف کی واپسی سے مشروط کر دیتے ہیں اور اپنے سرالزام بھی نہیں لیتے، بلکہ یہ کہتے ہیں یہ پارٹی ارکان کی رائے تھی۔ہم نے دیکھا کہ بھٹو صاحب حالات اور وقت کی نزاکت کے احساس کو یکسرفراموش کئے بیٹھے تھے اور ان کے اپنے ہاتھوں لگایا ہوا پودا پوری طرح وقت کی نبضوں پر مسلسل ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہوا تھا اور حالات اور وقت اپنے حق میں سازگار دیکھ کر بھٹو صاحب کو اقتدار سے سبکدوش کر کے انتہائی آسانی کے ساتھ ساڑھے گیارہ سال نکال گیا۔ 

یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھار قسمت کی دیوی مہربان ہو اور قدرت اقتدار کا ہُما کسی جنرل مشرف کے سر پر رکھ دے تو وہ بھی آٹھ ساڑھے آٹھ سال بلاشرکت غیرے حکمرانی کر جاتا ہے لیکن ہم یہاں بھی وقت اور حالات کو اپنے خلاف کرنے کا الزام وقت کے وزیراعظم کو دئیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ بات ہو رہی تھی سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو کی کہ کس طرح وہ حالات او روقت کو دیکھ کر اپنے سیاسی پتے کھیل رہے ہیں۔ اگر انہوں نے بینظیر بھٹو کی المناک شہادت کے فوری بعد پاکستان کھپے کا نعرہ نہ لگایا ہوتا تو بینظیر اور بھٹو خاندان سے ہمدردی کا ووٹ کبھی نہ ملتا، بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کی یہ سیاسی کامیابی نہیں کہ جس مریم نواز شریف کے والد صدر ضیاء الحق کے سانحے کے بعد ان کی قبر پر جا کر 

کئی برس بعد تک ان کے مشن کی تکمیل کا عہد کرتے رہے ہیں اور وہ بھٹو خاندان کے سخت ناقد تھے آج ان کی صاحبزادی نہ صرف محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی پر فاتحہ خوانی کے لئے جاتی ہیں بلکہ بھٹو صاحب کے مزار پر حاضری بھی دیتی ہیں۔ یہ بلاول بھٹو کے صاحب نظر ہونے کی دلیل ہے آصف علی زرداری کو اپنے عہد ِ صدارت میں میاں برادران کی وہ تمام باتیں یاد ہیں جو میاں صاحبان کی زبان سے نکلتی رہی ہیں، لیکن زرداری صاحب آج بھی وقت اور حالات کی نزاکت کے احسا س سے یکسر عاری نہیں ہیں اور وہ پی ڈی ایم کو اپنی عینک سے دیکھتے ہیں اور کوئی ان پر معترض بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے سیاست دان اس خصوصیت سے یکسر عاری ہیں کہ ہمیشہ وقت اور حالات کو بھانپ کر سیاسی چال چلنی چاہئے نہ کہ خواہ مخواہ اداروں کو دباؤ میں لانے کی سعی لا حاصل سے اپنی منزل کھوٹی کرنی چاہئے کہ مقتدر ادارے بھی اپنی آنکھیں کان بند کر کے نہیں بیٹھے ہوئے۔ وقت کی نبضوں پر ان کا ہاتھ بھی ہمیشہ رہتا ہے۔ تا ہم آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے طرز سیاست کو دیکھتے ہوئے ہم وقت اور حالات کو ان کے حق میں سازگار قرار دے سکتے ہیں۔ میں تو یہ بھی سوچتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی روحیں اپنی اپنی تربت پر محترمہ مریم نواز شریف کے ہاتھوں پھول ڈالتے دیکھ کر کس قدر خوش ہو رہی ہوں گی۔ 

مزید :

رائے -کالم -