پاکستان میں سیاحت

 پاکستان میں سیاحت
 پاکستان میں سیاحت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کو قدرت نے بڑی نعمتوں سے نوازا ہے اور یہ صحیح بھی ہے۔ ہمارے ہاں بلند پہاڑی چوٹیاں ہیں،دریا ہیں، سمندر ہے، وسیع میدانی علاقہ ہے، جنگل ہیں، ریگستان ہیں، موہنجو داڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسے تاریخی آثار قدیمہ اور گلگت،ہنزہ، سوات، کاغان، گلیات اور چترال جیسے سیاحتی مقامات کی طویل فہرست ہے۔ چار موسم ہیں اور صوبوں میں مختلف ثقافتیں ہیں۔ خطے کی ایک اہم کمیونٹی سکھوں کے مقدس مقامات ہیں مگر اِن سب دلکشیوں کے باوجود سیاحت کو ہمارے ہاں نظرانداز کیا جاتا ہے، ہماری قومی پالیسیوں میں سیاحت کا نمبر بہت نیچے آتا ہے۔دنیا کے کسی بڑے شہر میں جائیں تو بازاروں میں لوکل لوگ کم اور سیاح زیادہ نظر آتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں بازاروں میں شاید ہی کوئی غیرملکی سیاح نظر آتا ہو اور جو غیر ملکی آتے ہیں وہ سیدھے شمالی علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔اِس صورت حال کی بڑی وجہ سکیورٹی کے مسائل ہیں۔ دنیا میں پاکستان کا امیج بہت خراب ہے۔ کیا ہماری حکومتوں کو اس صورت حال کا احساس ہے اور کیا وہ اس امیج کو بدلنے پر قادر ہیں؟ اِس کا جواب اثبات میں دینا مشکل ہے کیونکہ آج بھی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تو معاملہ دارالحکومت اسلام آباد تک آ پہنچا ہے۔ اِن صوبوں کے  کچھ علاقوں میں غیرملکیوں کا داخلہ ممنوع ہے لیکن سیاحت کے شعبے میں پیچھے رہ جانے کی اور بھی بہت ساری وجوہات ہیں۔امن و امان کے علاوہ ذرائع آمدورفت، سیاحتی مقامات پر سہولتوں کی عدم فراہمی اور تفریحی سرگرمیوں کی کمی بھی اہم ہیں۔ موٹرویز بننے کے بعد سفر کی سہولتوں میں بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے۔ شمالی علاقوں میں نجی شعبے نے سیاحتی سہولتوں کے سلسلے میں کافی سرمایہ کاری کی ہے، اُس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں اور اِس سے اندرون ملک سیاحت میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔مجھے ذاتی طور پر سیرو سیاحت کا چسکا ہے۔ خوش قسمتی سے دنیا گھومنے کے ساتھ ساتھ مجھے دوران ملازمت کراچی، کوئٹہ، پشاور اور فیصل آباد میں قیام کا موقع ملا ہے جس سے کافی مقامات پر جانا ہوا۔ مجھے یہ جان کر افسوس ہوتا ہے کہ پنجاب کے پڑھے لکھے اور صاحب حیثیت لوگوں میں سے بھی بہت کم نے بلوچستان یا اندرون سندھ دیکھا ہے۔


دوسرے شعبوں کی طر ح سیاحت کے شعبے میں بھی ہم نے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن1970ء میں بنا لی تھی اور یہ ادارہ کافی فعال رہا۔پی ٹی ڈی سی کے تین ذیلی ادارے بھی کام کر  رہے ہیں۔ اُن میں پی ٹی ڈی سی موٹلز، نارتھ ایسوسی ایٹڈ ہوٹلز اور پاکستان ٹورز شامل ہیں لیکن باقی اداروں کی طرح  وقت کے ساتھ یہ بھی زوال پذیر ہو گیا۔ پی ٹی ڈی سی نے سیاحوں کے لئے ملک کے مختلف حصوں میں 58 موٹلز بنائے جس سے سیاحت کو بڑا فروغ ملا۔ اب پی ٹی ڈی سی نے ٹارگٹ طے کیا ہے کہ پاکستان کو ایشیاء کے پانچ ٹورسٹ فرینڈلی سپاٹس میں شامل کیا جائے۔ 2010ء میں سیاحت کو بھی اٹھارہویں ترمیم میں شامل کر لیا گیا یوں یہ صوبائی محکمہ بن گیا۔ اٹھارہویں ترمیم کا آئیڈیا تو مجموعی طور پر اچھا تھا لیکن افسوس کہ صوبے اِس معاملے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے جس سے بہت سے شعبے زوال پذیر ہو گئے۔ اب پی ٹی ڈی سی موٹلز صوبوں کے حوالے کئے جا رہے ہیں جہاں اُنہیں پرائیویٹائز کر دیا جائے گا؟ اِس کے علاوہ پی ٹی ڈی سی میں ٹاپ لیول پر تقرریاں عموماً میرٹ پر نہیں کی گئیں اور ایسے لوگوں کو اِس ادارے کا سربراہ بنایا جاتا رہا جنہیں پاکستان کے مختلف صوبوں میں جانے کا بھی موقع نہیں ملا تھا۔ کابینہ لیول پر پچھلی حکومت نے زلفی بخاری کو یہ محکمہ  دیا ہوا تھا۔ زلفی بخاری پیدا برطانیہ میں ہوئے تھے، پاکستان کے سیاحتی مقامات سے انہیں کیا دلچسپی ہو سکتی تھی؟ موجودہ حکومت میں عون چوہدری اِس محکمے کے انچارج ہیں،  زلفی بخاری کی طرح اِس شعبے میں اُن کی دلچسپی اور تجربہ بھی شاید کسی کو معلوم نہیں۔ آفتاب الرحمان رانا آج کل پی ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ رانا صاحب کا تعلق نجی شعبے سے ہے اور وہ30،25سال سے اِسی شعبے میں کام کرتے رہے ہیں۔


 2019ء میں جی ڈی پی میں سیاحت کا حصہ 5.8 فیصد تھااور 18.3 ارب امریکی ڈالر وصول ہوئے لیکن کوویڈ کی وجہ سے 2021ء میں یہ کم ہو کر 3.7 فیصد ہو گیا۔ سیاحت کے شعبے میں 2021ء میں 3.34 ملین لوگوں کو روزگار ملا۔اِسی سال غیرملکی سیاحوں سے 138.8 ارب روپے آمدنی ہوئی۔ ملکی سیاحوں سے رواں سال لگ بھگ ایک کروڑ40لاکھ روپے آمدنی ہوئی۔ حال ہی میں شمالی علاقوں میں نجی شعبے نے بھی سیاحت کی سہولتوں کی فراہمی پر کافی توجہ دی جس سے اندرون ملک سیاحت کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ صرف شمالی علاقوں میں پچھلے سال 60لاکھ افرادنے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔
تحریک انصاف کے دور میں حکومت نے اِس شعبے میں کچھ دلچسپی لی،2019ء میں ٹورازم ٹاسک فورس بنائی گئی۔ ٹورازم کوآرڈی نیشن کمیٹی بنائی گئی جس کے چیئرمین خود وزیراعظم عمران خان بنے۔ کمیٹی نے ٹورازم کوآرڈی نیشن پالیسی بنائی۔نئی پالیسی کے تحت خیبرپختونخوا میں  چار ٹورازم زونز اور ماسٹر پلان بنایا گیا۔ اِس کے تحت کاغان ویلی میں گھنول،سوات میں منکیال، چترال میں موداگشٹ اور ہزارہ ڈویژن میں ٹھنڈیانی کو منتخب کیا گیا۔ پنجاب میں کوٹلی ستیاں رینج جس میں کٹاس، روہتاس، کلرکہار جبکہ چولستان سے بہاولپور اور ملتان سے اوچ شریف کو منتخب کیا گیا۔


بلوچستان میں ٹورازم ماسٹر پلان کے تحت 700 کلومیٹر طویل مکران کوسٹ پر کوسٹل سیاحت کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ گلگت بلتستان میں نانگا پربت اورہمالیہ کے مقامات پر دو نئے نیشنل پارک بنائے جائیں گے،اِس کے علاوہ ایکو ٹورازم اور ایڈونچر ٹورازم کے لئے 20 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔کشمیر میں ٹورازم کارویڈر کے تحت نئے مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لئے اسلام آباد میں ایک ٹورازم کمپلیکس بنایا جائے گاجس کی تعمیر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہوگی اور اِس میں سیاحت سے متعلقہ تمام سرکاری دفاتر اور نجی شعبے کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔توقع کرنی چاہئے کہ اِن منصوبوں پر عملدرآمد سے سیاحت کا شعبہ کافی اہمیت اختیار کر لے گا۔

مزید :

رائے -کالم -