تیونس انقلاب فوج اور انٹیلی جنس کی منظم سازش تھی،سابق خاتون اول

تیونس انقلاب فوج اور انٹیلی جنس کی منظم سازش تھی،سابق خاتون اول

 تیونسیا، جدہ(اے پی اے ) تیونس کی سابق خاتون اول اور سعودی عرب میں جلا وطن لیلی طرابلسی نے اپنی اور خاندان کی حکومت کے دور میں سرزد ہونے والی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی ہے لیکن ساتھ ہی تیونس کی موجودہ فوج اور انٹیلی جنس کے بعض افسروں کی منظم سازشہے۔ سابق خاتون اول نے یہ بات اپنی جلا وطنی کے بعد پہلے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ سابق مفرور صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کا جلا وطن خاندان اپنے ملک میں انصاف کے حصول کے لیے بعض شرائط کی ساتھ واپس جانے کے لیے تیار ہے تاکہ وہاں پر عدالتوں میں ان کے خلاف دائر کیے گئے مقدمات کا سامنا کیا جا سکے۔ ایک سوال کے جواب میں لیلٰی طرابلسی کا کہنا ہے کہ میرے شوہر قوم سے اپنے ساتھ کیے گئے برتاو¿ پر انصاف چاہتے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ قوم ہمیں ضرور انصاف دلائے گی۔ شوہر کے عہد صدارت میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سابق خاتون اول نے کہا کہ میرا سیاست سے کوئی تعلق تھا نہ اب ہے۔ میری زندگی کا ایک ایک دن فلاحی اور خیراتی کاموں میں گذرتا تھا۔ میری توجہ اپنے خاندان اور قوم کے معیار زندگی کو بہتر بنانے پر مرکوز رہی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق لیلیٰ طرابلسی کا 14 جنوری 2011 کو اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب فرار کے بعد پہلا باضابطہ انٹرویو ہے ۔جس میں انہوں نے اپنی وطن واپسی کا عندیہ دیا ہے۔ سابق صدر زین العابدین بن علی گذشتہ برس کے آغاز میں اپنے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک کا سامنا کرنے میں ناکام رہے تھے اور بالاآخر انہیں حکومت کے ساتھ ملک سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیونس کی خاتون اول کی جانب سے یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب "میری حقیقیں" کا عالمی اور عرب میڈیا میں چرچا زوروں پر ہے۔ اپنی اس کتاب میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ خاندان کے بعض"چھوٹوں" کی جانب سے کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہوئی تھیں جن کے نتیجے میں عوام ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے ورنہ مجموعی طور پر ان کے شوہر کا دور حکومت ملکی تاریخ کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ لیلیٰ طرابلسی اپنے شوہر کیخلاف برپا انقلاب کو فوج اور انٹیلی جنس کے بعض افسروں کی منظم سازش قرار دیتی ہیں۔ لیلیٰ شوہر کے نام اپنے ایک پیغام میں بھی لکھتی ہیں کہ ان کا دور اقتدار ملک کی معاشی خوشحالی کا دور تھا، جس میں ہر شخص کو باعزت روزگار اور معقول آمدن حاصل ہو رہی تھی۔ نیز انہوں نے تیونس کو جدید ریاست بنانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ فرانس کی تمام حکومتیں بالخصوص سابق صدر یاک شیراک اور نیکولا سارکوزی نے ان کی ہر سطح پر مدد کی تھی لیکن مشکل وقت میں سابق فرانسیسی وزیر ثقافت فریڈرک میٹران نے انہیں بچانے میں سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا تھا۔

مزید : عالمی منظر