یمن: سرکاری عمارتوں اور تنصیبات پر دس خودکش بم حملوں کی سازش ناکام

یمن: سرکاری عمارتوں اور تنصیبات پر دس خودکش بم حملوں کی سازش ناکام

 صنعا(ثناءنیوز ) یمن کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت صنعا میں سرکاری عمارتوں اور تنصیبات پر دس خودکش بم حملوں کی سازش ناکام بنادی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں مئی میں خودکش بم حملے کے الزام میں القاعدہ کے مشتبہ سیل سے وابستہ دس جنگجووں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری سے دارالحکومت صنعا میں دس خودکش بم دھماکوں کی سازش بھی ناکام بنا دی گئی ہے''۔سرکاری ویب سائیٹ کے مطابق القاعدہ کے سیل سے وابستہ افراد متعدد سرکاری عمارتوں اور سرکاری تنصیبات پر خودکش بم حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔یمنی سکیورٹی فورسز کو اکیس مئی کو خودکش حملہ کرنے والے بمبار کا آخری وصیت نامہ بھی ملا ہے۔اس حملہ آور کی عمر اٹھارہ سال سے بھی کم بتائی گئی۔ یمن کے نیشنل سکیورٹی چیف محمد الانسی نے جمعرات کو شائع شدہ ایک بیان میں کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے حال ہی میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔اس سے پہلے یمنی فورسز نے بیس جون کو القاعدہ کے مشتبہ سیل کے ایک رکن ماجد القولیسی کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔اس پر مبینہ طور پر صنعا پر فوجی پریڈ کے دوران خودکش بم حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ محمد الانسی نے یمنی وزارت دفاع کے اخبار چھبیس ستمبر میں شائع شدہ بیان میں کہا تھا کہ ''القاعدہ کے مشتبہ جنگجووں کا پیچھا جاری رکھا جائے گا اور سکیورٹی فورسز نے یمن بھر میں القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں''۔یمنی فوج نے گذشتہ ڈیڑہ دو ماہ کے دوران جنوبی یمن کے چار پانچ شہروں پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ یمنی فوج نے جنوبی صوبہ ابین کے دارالحکومت زنجبار اور دوسرے شہروں شقرہ ،لودر اور جعار کو کئی دن کی لڑائی کے بعد القاعدہ کے جنگجووں سے خالی کرا لیا تھا۔ یمن کی درخواست پر القاعدہ کے فرار ہوتے لیڈروں پر امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے بھی حملے کیے گئے تھے جن میں القاعدہ کے سرکردہ لیڈروں سمیت بیسیوں جنگجو مارے گئے ہیں۔

مزید : عالمی منظر