بندوبست کے کام میں تاخیر ، ممبر بورد آف ریونیو کا شیڈول پاس کرنے سے انکار

بندوبست کے کام میں تاخیر ، ممبر بورد آف ریونیو کا شیڈول پاس کرنے سے انکار

لاہور (عامر بٹ سے ) سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو سمیع سعید نے بندوبست کا شیڈول پاس کرنے سے انکار کر دیا ہے بندوبست کا کام پانچ سالوں سے تاخیر کا شکار ہونے کی وجوہات اور ذمہ داران افسران کے ناموں کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے معلوم ہوا ہے کہ 2002ءمیں صوبائی دارلحکومت لاہور میں بندوبست کو مکمل کرنے کا کام شروع کیا گیا تھا اور اس منصوبے کا پانچ سال کے اندر مکمل کرنا تھا اس مقصد کے لئے کنٹریکٹ بنیادوں پر شعبہ بندوبست کے 116 پٹواریوں سمیت 11 ریونیو افسر، 7 قانونگو، 2 ای ایس او سمیت دیگر سٹاف کو بھرتی کیا گیا اور سالانہ کروڑوں روپے کا بجٹ بھی اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے مختص کیا گیا تاہم تمام تر سٹاف اور اختیارات کے باوجود شعبہ سیٹلمنٹ کے افسران و اہلکاران مطلوبہ مقررہ وقت میں بندوبست کا کام مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے صوبائی دارلحکومت لاہور میں بندوبست مکمل کروانے کا مقصد ریکارڈ کو اپ گریڈ کرنا اور زمینی حقائق سے آگاہی حاصل کرنا تھا بندوبست کا کام مکمل ہونے کی صورت میں نہ صرف زائد بیع حصہ ہونے والے انتقالات کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا بلکہ شہریوں کی جائیدادوں کا ریکارڈ محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ ریکارڈ میں ردوبدل کئے جانے والے غیر قانونی اقدامات بھی خود بخود ختم ہو جائیں گے 2002ءمیں سیٹلمنٹ افسر کی پوسٹ پر تعینات ہونے والے افسر کا نام انعام الحق تھا جنہوں نے ضلع لاہور بھر کے پٹوار خانوں میں بندوبست کا کام شروع کروا دیا بندوبست کے کام کا آغاز ہوتے ساتھ ہی اس منصوبے کے خلاف لینڈ مافیا بلکہ سیاسی شخصیات کی ایک بڑی تعداد بھی اس کو روکنے کے لئے سرگرم ہو گئی ایس او انعام الحق کی تبدیلی کے بعد اسرار ملک نامی افسر کو اس سیٹ کی ذمہ داری سونپی گئی جنہوں نے صحیح معنوں میں سیٹلمنٹ کا کام تیزی سے عروج پر پہنچا دیا اور باقاعدہ پٹوار خانوں میں جا کر چھاپے مارنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا تا ہم بعد ازاں اس وقت کی بیوروکریسی نے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت مذکورہ افسر کو تبدیل کروا دیا اور بعد ازاں ضلع لاہور کی بیوروکریسی نے کئی سال تک سیٹلمنٹ افسر کی سیٹ پر کسی کو بھی تعینات نہیں ہونے دیا جبکہ اسرار ملک کے بعد بطور ڈی او آر لاہور مدثر وحید ملک اور سہیل شہزاد نامی افسر بھی اس سیٹ پر تعینات رہے مگر انہوں نے بندوبست کے کام کو مکمل کرنے کی بجائے تاخیر کا شکار کر دیا تاہم 2008ءبطور ڈی او آر کا چارج سنبھالنے والے افسر ذوالفقار احمد گھمن نے دوبارہ بندوبست کا کام شروع کروا دیا اور سیاست دانوں کے ہم نوالہ ہم پیالہ پٹواریوں سے جب بندوبست کا کام لینا شروع کیا تو ان کو جہاں بیوروکریسی کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا وہاں سیاست دانوں کی ناراضگی بھی مول لینا پڑی جن کی تبدیلی کے بعد اکتوبر 2011ءکو اس سیٹ پر آنیوالے افسر رانا خالد محمود نے دن رات انتھک محنت کرتے ہوئے 66 سے زائد موضع جات کا ریکارڈ اپ گریڈ کرتے ہوئے نہ صرف غلطیوں سے پاک کر دیا بلکہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ ادارے کا افتتاح ہونے میں اہم کردار بھی اس سیٹلمنٹ افسر کے کھاتے میں جاتا ہے جنہوں نے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کو بغیر کسی محنت کے 66 موضع جات آن لائن کروا دئیے سیٹلمنٹ افسر رانا خالد محمود کی محنت نے جہاں سابقہ افسران کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے وہاں مختصر سے بجٹ میں ضلع لاہور کا بندوبست کا کام آخری مراحل میں داخل کروا دیا ہے جس سے 2002ءسے لے کر 2012ءتک استعمال ہونے والے بجٹ کا بھی حساب کتاب شروع ہونے کا امکان ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بندوبست کا شیڈول پاس کرنے سے انکار کرتے ہوئے بندوبست کے کام کو تاخیر میں ڈالنے اور بندوبست کی بنیادی کام سے توجہ ہٹانے والے ذمہ دار افسران کی کارکردگی رپورٹ ان کے ناموں کے ساتھ طلب کر لی ہے ریونیو ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیئر ممبر سمیع سعید بندوبست کے کام کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے کام کروانے میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے بندوبست کے کام میں کوتاہی برتنے والے افسران کی رپورٹ بھی تیار کر رہے ہیں جو کہ آئندہ چند روز میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی بھجوا دی جائے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1