اردو بازار میں تجاوزات کی بھر مار ، ٹریفک جام معمول ،پیدل چلنا دشوار ، ایجنٹوں، نشئیوں کے ڈیرے

اردو بازار میں تجاوزات کی بھر مار ، ٹریفک جام معمول ،پیدل چلنا دشوار ، ...

لاہور(رپورٹ :اسداقبال۔تصاویر ندیم احمد) دو سو سال قبل قائم ہونے والا اردو بازار جو کبھی علم و دانش، تحقیق و آگہی اور شعور و تدبر کا مرکز ہوا کرتا تھا ۔اب اس کا حسن آہستہ آہستہ گہنائے جارہا ہے۔جہاں کبھی برصغیر پاک و ہند کے ممتاز دانشور، محققین اور علم دوست بیٹھکیں سجاتے تھے وہاں نشئیوں ، پانڈیوں، بھکاریوں اور ایجنٹوں نے ڈیرے ڈال لئے ہیں،تاہم چند ایک بچے کھچے سوداگران کتب بھی موجودہیں جن کے چہرے علم و بصیرت سے منور ہونے کی بجائے مایوس اور مدقوق دکھائی دیتے ہیں۔”علم دوستوں نے علم فروشوں کا روپ دھار لیا ہے“۔افرا تفری، مایوسی، بے ہنگم پن ، بھاگم دوڑ اور مفادات کی کھینچا تانی کا یہ عالم ہے کہ ” رہے رب دا ناں“ اردو بازار پاکستان کا سب سے بڑا بازار ہے۔جہاں پر تھوک کی سطح پر کتب، کاغذ، سٹیشنری و تعلیم سے وابستہ اشیاءکی فروخت کی جاتی ہے اور ملک بھر کے شہروں سے بیوپاری خریداری کی غرض سے آتے ہیں، تاہم ضلعی حکومت کی عدم توجہی کے باعث اردو بازار میں تجاوزات کی بھرمار کے پیش نظر ٹریفک کا جام رہنا معمول جبکہ پیدل چلنا بھی دشوار ہوجانا ہے۔ پاکستان رپورٹ کے مطابق پاک و ہند کی تقسیم سے قبل اردو بازار کا نام موہن لال روڈ تھا۔جہاں پر ایک درجن کے قریب کتب فروش کی دکانیں تھی۔جو وقت کے ساتھ ساتھ مقبولیت میں اضافہ اور کاروباری رجحان بڑھنے سے اردو بازار میں آج 3ہزار کے قریب دکانیں اور 460پبلشرز ہیں۔تاہم ضلعی حکومت کی عدم توجہی کے باعث اردو بازار کے حسن کو ٹریفک کے اژدھام نے گرین لگا دیا ہے۔ اردو بازار کے داخلی راستوں سے خارجی راستوں تک اور مارکیٹوں سے چوراہوں تک دکانداروں نے 8سے 12فٹ تک تجاوزات قائم کرکے اندھیر نگری مچا رکھی ہے۔راستہ سکڑنے کے باعث لوڈر گاڑیوں، ہتھ ریڑھیوں ، موٹرسائیکلوں اور سائیکلوں کی آمد و رفت کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔طویل ٹریفک جام کے پیش نظر پیدل چلنے والوں کا گزرنا بھی محال بن جاتا ہے۔تاہم اردو بازار یونین کی کاوشوں کی بدولت تاجروں نے اردو بازار کے بیشتر مسائل پر از خود قابو پا رکھا ہے۔ اردو بازار میں معمول کے مطابق ملک بھر سے تاجر خریداری تو کرتے رہتے ہیں ، تاہم نئے سلیبیس کے دنوں میں اردوبازار میں بے تحاشا رش ہونے سے کاروباری سرگرمیاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں اور مناسب راستہ نہ ہونے سے کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام رہتی ہے۔علاوہ ازیں اردوبازار میں اشیاءکی قیمتوں کا تعین تاجر ازخود ہی کرتے ہیں جو ڈیمانڈ کے پیش نظر قیمتوں میں ازخود اضافہ کرکے غریب کو تعلیم کے زیور سے محروم کررہے ہیں۔پرائس کنٹرول کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کے فقدان سے اردو بازار میں پبلشرز نے اپنی اجارہ داری قائم کررکھی ہے جو کاغذ کی قیمت میں من چاہا اضافہ کررہے ہیں۔ضلعی حکومت کو چاہیے کہ اردوبازار پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے مسائل کا ازالہ کرکے اس کی ساکھ کو بچایا جائے اور کتب و کاپیوں سمیت دیگر اشیاءکی قیمتوں کے چیک اینڈ بیلنس کے لئے پالیسی ترتیب دیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1