”مرغی بیمار ہے“

”مرغی بیمار ہے“
”مرغی بیمار ہے“

  

میری اس تحریر کو اگر کوئی یہ سمجھ کر پڑھنے لگا ہے کہ مرغی سے مراد کوئی سیاستدان یا حکمران ہے اور یہ کوئی طنزیہ تحریر ہے تو وہ غلطی پر ہے، یہ تحریر خالصتاً اسی مرغی کے بارے میں ہے جو ہر دوسرے تیسرے دن ہمارے کچن میں پہنچ کر ہنڈیا میں ہی نہیں پکتی بلکہ ہزاروں اقسام کے برگروں، شوارموں اورسوپوں میں بھی اپنامزہ دیتی ہے۔ یہی وہ مہربان برائلر مرغی ہے جس کا گوشت آج بھی بکرے ہی نہیں بلکہ گائے کے گوشت سے بھی کہیں سستا ہے ،یہ مرغی اب صرف مرغی نہیں رہی بلکہ ایک اندسٹری کا روپ اختیار کر چکی ہے جو روزانہ پینتیس لاکھ کی تعداد میں فارموں سے چکن سیل سنٹروں تک پہنچتی ہے، اس سے پندرہ لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے ،اب تک اس میں چار سو ارب روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے اور تقریباً اتنا ہی اس کا سالانہ ٹرن اوور بھی ہے۔ جہاں ملکی سطح پرترقی کی مجموعی شرح دو سے تین فیصد ہے وہاں یہ انڈسٹری سالانہ دس سے بارہ فیصد ترقی کرتی رہی ہے مگر اب یہ مرغی بیمار ہے۔ کہتے ہیں کہ اس مرغی کو نیو کیسل ڈائزیز ہو گئی ہے، یہ پرندوں اور خاص طور پر مرغیوں کی ایک پرانی مشہور بیماری رانی کھیت کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس میں اس معصوم پرندے کے چاراہم ترین نظام متاثر ہوجاتے ہیں۔ پہلاخوراک کو ہضم کرنے کا نظام ہے جس میں مرغی کھانا پینا چھوڑ دیتی ہے ، دوسرا نظام تنفس ہے جس میںاس کے پھیپھڑے خراب ہوجاتے ہیں، تیسرے ری پروڈکٹو سسٹم ہے جس میں اس کی اووری تباہ ہوجاتی ہے اور اس سے خاص طور پر انڈے دینے والی مرغیاں متاثرہوتی ہیں اور چوتھا نروس سسٹم ہے، ایسے لگتا ہے کہ جیسے مرغی کو لقوہ یا فالج ہو گیا ہو، ہمارے دیہات میں کبوتروں کو یہی فالج یا لقوہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ اسے ” جھولا “ پڑ گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بیماری صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیل چکی ہے، بنگلہ دیش میں نیو کیسل ڈائزیز کی وجہ سے ستر فیصد انڈسٹری تباہ ہو چکی، مڈل ایسٹ اور فارایسٹ تک یہ بیماری موجود ہے ۔ اب ا س وائرس کا حملہ ہونے پر پانچ سے سات سو گرام کے چوزے ہی مارکیٹ میں بھیج دئیے جاتے ہیں کیونکہ ایک ایک فارم میں ہزاروں پرندے مرتے ہیں تو فارم مالکان ا ن کا وزن پورا کرنے کے لئے پینتیس دن کا انتظار نہیں کر سکتے لہذا بیس اکیس دن کا ” دانہ“ ہی اٹھوا دیا جاتا ہے ۔ یہی چھوٹی چھوٹی سی کبوتروں جیسی مرغیاں میں نے شہر میں فروخت ہوتے دیکھی ہیں۔شہر کے غریب اکثر دعا مانگتے ہیں کہ مرغی بیمار ہوکیونکہ مرغی بیمار ہو گی تو ان کو سستی ملے گی۔ ماضی میں بھی یہی کہاجاتا تھا کہ مرغی تب ہی کھائی جا سکتی ہے جب مرغی خودیامرغی کا مالک بیمار ہو مگر برائلر مرغی نے اس کہاوت کو تبدیل کر دیا۔ جب برڈ فلو آیا تھا تو یہیں پر مرغی کا گوشت چالیس سے ساٹھ روپے کلو تک بھی فروخت ہوتا رہا مگر غریب حیران ہیں کہ دسمبر سے نیو کیسل ڈائزیر کا حملہ ہے مگرعام صحت مند مرغی ہے کہ اب بھی اڑھائی سو روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔ درمیان میں چھوٹی مرغی ایک سو بیس روپے کلو فروخت ہوتی بھی رہی مگرپھر ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی اور بیمار مرغی کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے مقدمات کا اندرج شروع ہو گیا۔ فارم ہاو¿س مالکان میں سے ایک معروف شخصیت نے مجھے بتایا کہ اس کے سولہ کنٹرول شیڈ ہیں مگراس نے صرف چار شیڈز پر چوزہ ڈالا ہواہے۔ یہ بیماری اچانک حملہ کرتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے فارم کا صفایا کر دیتی ہے، ایک فارم پر مالک کاچھتیس لاکھ روپے تک نقصان ہو جاتا ہے لہذا اس کی سپلائی میں نمایاں کمی ہو چکی ہے۔ یہاں طلب و رسد کا نظام سامنے آتا ہے کہ چھ سو روپے کلو بکرے کے گوشت اور تین سو روپے کلو گائے کے گوشت کے مقابلے میں اب بھی مرغی کا گوشت سستا ہے۔ رضا خورسند کہتے ہیںکہ اگر برائلر مرغی نہ ہوتو ملک میں گوشت ہی نہیں دالوں اور سبزیوں کا بھی قحط پڑجائے اور اہل وطن کی پروٹین کی ضرورت بھی پوری نہ ہو۔ مجھے یہ مرغی بہت عزیزہے کہ یہ آج بھی مہمانوں کی آمد کے بعد ان کی عزت افزائی اور ہماری عزت بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ہم اس کا سالن ہی نہیں بناتے، سوپ اور کباب بھی بناکے اپنا دسترخوان بھر لیتے ہیں تو کیا ہم نے سوچا کہ اس بیماری کا علاج ڈھونڈا جائے۔ لائیو سٹاک ڈپیارٹمنٹ کہتا ہے کہ یہ وائرل ڈائزیز ہے جس کا علاج نہیں، صرف ویکسین دی جاسکتی ہے، تاکہ اس بیماری کے خلاف مزاحمت کو بڑھایا جا سکے ، محکمہ ویکسین کی ستر ملین سے زائد ڈوزز فراہم کر چکا ہے مگر افسوس اور پریشانی کا مقام تو یہ ہے کہ پچاس فیصد جگہوں پر یہ ویکسین بھی ناکام ہو جاتی ہے کہ اس بیماری کے وائرس کی خوبی یا خامی یہ ہے کہ بہت جلد اپنی شکل تبدیل کرلیتا ہے ۔ رضا خورسند ہی بتا رہے تھے کہ اس بیماری کے پھیلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرغیوں کے شیڈز باقاعدہ منظم طریقے سے نہیں بنائے گئے، بین الاقوامی معیار کے مطابق ہر شیڈ کے درمیان تین کلومیٹر کا فاصلہ ہونا چاہئے مگر یہاں آئینی ترامیم تو ہوتی رہتی ہیں مگر کوئی پولٹری ایکٹ موجود نہیں ہے، پولٹری فارم رولز دس سال سے منطوری کے منتظر ہیں۔ میرا سوال یہ بھی تھا کہ جب یہ مرغی اتنی بیمار ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مر ہی نہیں رہی بلکہ بیس بائیس دن کی بالی عمر میںفروخت اور ذبح بھی ہو رہی ہے تو اس کا مردہ جسم، پولٹری ویسٹ یا بائی پراڈکٹس، نئی مرغیوں کی خوراک میں بھی تو استعمال ہو رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم بیماری کے جراثیم کو آگے منتقل کر رہے ہیں مگر جواب میں ماہرین کا کہنا تھا کہ اس امرمیں تو اختلاف کیا جاسکتا ہے کہ بیمار مرغیوں کی تعداد بیس فیصد ہے یا اسی فیصد، مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ بیماری موجود ہے مگر دوسری طرف یہ بات بھی تسلیم کرلینی چاہئے کہ مرغیوں میں موت بانٹنے والی یہ بیماری انسانوں کے لئے ہرگز خطرناک نہیں۔ ان کے پاس پہلی دلیل وہی تھی جو برڈ فلو کے دوران دی جاتی رہی کہ اگر برڈ فلو سے انسان کی موت ہونی ہو تو سب سے پہلے مرغیوں کے فارموں پر کام کرنے والے اوراس کے بعد سیل سنٹرز پر ان کو ذبح کر کے آپ کو گوشت فراہم کرنے والے اس سے متاثر ہوں جبکہ ملک بھر سے ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اس طرح ہماری گھروں میں کھانا پکانے کا جو طریقہ کار ہے وہ دیگر جدید ممالک کے نیم پکے ہوئے کھانوں سے بہت مختلف ہے۔ باورچی خانوں میں ہماری مائیں ، بہنیں گوشت اس قدر گلاتی ہیں کہ انگلی لگانے سے بوٹی ٹوٹنے لگے اوراتنا بھون دیتی ہیں کہ اس کے ریشے ریشے سے ذائقہ ٹپکنے لگے، ایسے میں کسی وائرس کی کیا مجال کہ وہ زندہ رہ جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولٹری ویسٹ یا پولٹری بائی پراڈکٹس سے مرغیوںکی خوراک بھی جن رینڈرنگ پلانٹس پر تیار ہوتی ہے وہاں درجہ حرارت اتناہوتا ہے کہ جراثیم باقی نہیں رہتے لہذا مرغیوںکی یہ بیماری انسانوں کو متاثر نہیں کر سکتی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیںکہ برائلر مرغی کی خوراک پر تو اعتراض ہے مگر کیا کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ دیسی مرغی جس کو کھانا بھی اب خواب ہوتا جا رہا ہے، گلی محلوں میں کیا کیا گند کھا کے جوان ہوتی ہے۔ماہرین کی باتیں اپنی جگہ پر درست ہوں گی مگر جب میں نے آدھ آدھ کلو کے چوزے اتنی بے رحمی سے ذبح ہوتے ہوئے دیکھے تو دل بڑا دکھی ہوا،اس فقرے کو لکھنے کے بعد میں خدا کا شکر ادا کر رہا ہوں کہ ہماری مرغیاں اخبار اور اس کے بعد کالم تو بالکل ہی نہیں پڑھتیں ورنہ وہ مجھ سے بجا طور پر شکوہ کرسکتی تھیں کہ تم ہمارے بیس بائیس دن بعد محض پانچ سات سو گرام وزن کے ساتھ ذبح ہونے پر تو بہت آنسو بہا رہے ہو مگر جب ہم پینتیس سے چالیس دن عمر اور ڈیڑھ دوکلو تک وزن کی حامل جوان جہان قربان ہوتی ہیں تب تو بہت مزے لے لے کر کھاتے ہو۔ اگر کسی مرغی کی طرف سے یہ شکوہ آیا تو بالکل درست ہو گا اور اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ ” مرغی بیمار ہے“ کا کالم مرغیوں کی ہم دردی میں نہیں بلکہ اپنے مزے کو کرکرا ہونے سے بچانے کے لئے لکھا ہے۔ واقعی ہم انسان بھی کتنے چالاک ہیں، اپنے مفاد کی بات کرنے کے کتنے رنگ تلاش کرلیتے ہیں مگر اس کے باوجود پیاری مرغیو، اتنی کم عمری میں تمہاری بیماری اور ہلاکت واقعی دل میں درد اور آنکھوں میں آنسو لارہی ہے، ہاں جب تم ہٹی کٹی ہوکر اور جوانی کے پندرہ بیس دن گزار کے ذبح ہوتی ہو تو پھر ہماری بھی مجبوری ہوتی ہے کہ گائے ، بھینس کا گوشت اپنے طبعی اثرات سے ہمارے خو ن میں کولیسٹرول اوربکرے کا گوشت اپنی قیمت سے خون میں فشار بڑھا دیتا ہے لہذاپیار ی مرغی، جلد از جلد ٹھیک ہوجاو¿ کہ تمہاری بیماری نے ہر شے کا مزا کرکرا کر رکھا ہے۔

مزید : کالم