لاپتہ افراد کو فی الفور عدالتوں میں پیش کیا جائے، وسیم اختر

لاپتہ افراد کو فی الفور عدالتوں میں پیش کیا جائے، وسیم اختر

لاہور (جنرل رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے وزارت دفاع کے بیان کہ خفیہ ایجنسیوں کو مشکوک افراد کو چار ماہ زیر حراست رکھنے کا اختیار دیا جائے تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین و قانون اور اسلامی شریعت کے منافی ہے۔ کسی بھی شخص کو محض شک کی بنیاد پر نجی ٹارچر سیل میں رکھنا اور مہینوں تشدد کا نشانہ بنانا قابل قبول عمل نہیں۔ ریاست کے اندر ریاست کا تصور ختم ہونا چاہیے۔ ملک میں عدلیہ آزاد ہے کوئی بھی شخص یا ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ لاپتہ افراد کو فی الفور عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمینٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے تمام اہم فیصلے ایوان صدر میں ہوتے ہیں۔ آئین کی تشریح کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں کرپشن تمام سابقہ ریکارڈ توڑ چکی ہے مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ سپریم کورٹ جس شخص کو کرپشن میں ملوث قرار دے کر اس کے خلاف سول اور فوجداری مقدمات قائم کرنے کا کہتی ہے تو اسے وزارت عظمیٰ جیسے اہم عہدے پر فائز کر دیا جاتا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث غریب عوام خودکشیوں پر مجبور ہیں، رہی سہی کسر لوڈ شیڈنگ نے پوری کر دی ہے۔

مزید : صفحہ آخر