جماعت الدعوةکی تعلیمی کانفرنس

جماعت الدعوةکی تعلیمی کانفرنس
جماعت الدعوةکی تعلیمی کانفرنس

  

 پنجاب سمیت آج کل ملک بھر کے اساتذہ سخت پریشان ہیں کہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم دونوں پر ان کے مسائل آسمان کو چھو رہے ہیں۔ دوسری طرف جماعت الدعوة پاکستان نے اس حساس موضوع پر فوری ملک گیر تعلیمی کانفرنس کا اعلان کر دیا کہ ملک کے سب سے بڑے پڑھے لکھے طبقے، محب وطن دانشوروں، علم و تعلیم سے حقیقی تعلق اور لگاﺅ رکھنے والے لوگوں کو بلا کر اس مسئلے کو سمجھا اور سمجھایا جائے کہ ”ترقی کیسے ہوتی ہے؟ ہمارے نظام تعلیم کے مسائل و نقائص کیا ہیں....؟ اور نئی تبدیلیاں کیا گل کھلا رہی ہیں“ وغیرہ وغیرہ۔سو ” پاکستان کا نظام تعلیم ، درپیش مسائل اور ان کا حل“ کے موضوع پر یہ کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اتوار 24 جون کا دن طے پایا، دن رات تیاری میں صرف ہوئے۔ ملک بھر میں روابط ہوئے، 24 جون کا دن طلوع ہوا تو پنجاب گرمی میں جھلس رہا تھا۔ لاہور کی سڑکوں پر ہُو کا عالم تھا، لیکن شہر کے مرکزی علاقے چوبرجی کے چہار اطراف سے سڑکوں پر ایک نئی صبح طلوع ہو چکی تھی۔ موٹرسائیکلیں، کاریں، ہائی ایس ویگنیں، کوسٹرز کے قافلے کھنچے چلے آ رہے تھے۔ سب کا رخ آج مرکز القادسیہ کی جانب تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی سب کو تعارفی کارڈ مہیا کئے جاتے۔ ٹھنڈے مشروبات سے تواضع کی جاتی اور پھر جامع مسجد القادسیہ کے وسیع و عریض ہال کی طرف رہنمائی کر دی جاتی۔ کانفرنس کا وقت اگرچہ صبح 10 بجے تھا ،لیکن سینکڑوں شرکاءکے علی الصبح پہنچنے کی وجہ سے وہ کارروائی جو عموماً آدھا، پون گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوتی ہے ،ایک گھنٹہ پہلے ہی شروع کر دی گئی تھی۔ مسجد القادسیہ میں پہلی بار سٹیج بنایا گیا تھا، جس کے سامنے سفید تکیے رکھ کر زمین پر بیٹھنے کا بھی اہتمام تھا۔ ہال کو خوبصورت دعوتی و تحریکی بینروں سے سجایا گیا تھا۔ پروگرام کے میزبان اور روح رواں سیف اللہ خالد قصوری سٹیج پر پہنچے۔ تلاوت کلام اور پھر خطابات شروع ہو گئے۔ ابھی آدھ گھنٹہ نہیں گزرا تھا کہ ہال نصف کو عبور کرنے لگا۔ اس دوران لاہور سے ایک بڑے ماہر تعلیم پروفیسر اشتیاق احمد سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ تشریف لائے اور گویا ہوئے کہ ہمارا ذریعہ تعلیم قومی زبان اردو ہونا چاہئے۔ کہنے لگے کہ میری ساری زندگی اس میدان میں گزری ہے۔ مَیں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ کو ایک بھی ایسا استاد نہیں ملے گا کہ جو انگریزی میں پڑھانے کے لائق و قابل ہو۔ ہم پر انگریزی نظام تعلیم ظالمانہ و جابرانہ طور پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی آئے تو بولے کہ تعلیم کا پہلا مقصد تو اپنے خالق اور مالک کو پہچاننا ہے ،لیکن کیا ہماری تعلیم یہ کر رہی ہے؟.... اب میرا سوال اپنے آپ سے تھا کہ وہ لوگ جو آج پاکستان کے 20 کروڑ انسانوں کی قسمت کے فیصلوں کے لئے مسلط ہوئے ہیں ،انہیں سورئہ اخلاص تو کجا بسم اللہ پڑھنی نہیں آتی۔ آتے تعلیم دینے ہیں ،لیکن قرآن کے پاروں کی تعداد کا علم نہیں ہوتا ۔ جی ہاں! جناب یہ ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیم دہندگان ،لیکن چونکہ جمہوریت کا نظام ہے ہی ایسے لوگوں کو لانے اور مسلط کرنے کے لئے، سو اب کیا کیا جا سکتا ہے؟ ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تشریف لائے تو کہنے لگے کہ مَیں نے کئی ترقی یافتہ ممالک کا دورہ کیا ہے۔ جاپان، ملائشیا اور اب ترکی (جو مسلم دنیا کا لیڈر بنتا جا رہا ہے) دیکھا ہے، وہاں اپنی قومی زبان میں پڑھایا جا رہا ہے۔ کوئی دوسری زبان نہیں، ہم آخر کیوں انگریزی کو مسلط کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ یہاں درجہ بندی سے نظام بنے ہیں۔ جب تک قومی زبان میں یکساں نظام تعلیم نہیں ہو گا، معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر شریف نظامی جو قومی زبان تحریک کے بھی صدر ہیں، مائیک پر آئے تو بولے کہ مَیں نے 35 سال سائنس کی لیبارٹریوں میں گزارے ہیں، تحقیقات میں زندگی لگا دی ہے۔ جاپان میں بڑا عرصہ گزارا ،لیکن جو ظلم ترقی کے نام پر شہباز شریف قوم پر انگریزی مسلط کر کے ڈھا رہے ہیں، آج تک کہیں نہ دیکھا نہ سنا۔ ساری دنیا کے ممالک اپنی اپنی زبانوں میں تعلیم دے رہے ہیں ،لیکن ہمارے لوگوں کو نجانے کیوں الٹی سوجھی ہے؟ سمجھ سے بالاتر ہے۔ پروفیسر یوسف عرفان آئے تو بولے کہ نظام تعلیم کو بچانے کے لئے دفاع پاکستان کونسل کی طرز پر تحریک چلانا ہو گی۔ ہماری حکومتوں نے نصاب اور تعلیم کے لئے بیرون ملک معاہدے کر رکھے ہیں، پہلے وہ ختم کرنا ہوں گے، کیونکہ ہماری مذہبی شناخت ختم کرنے کی سازش جاری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اقبال تشریف لائے تو بولے ”2006ءمیں ہمارا نصاب تشکیل دیا گیا تھا۔ اس دور میں بننے والی کمیٹی نے نصاب سے اسلامیات کو نکالا تھا۔ آج کل وہ کچھ ہو رہا ہے جو اس دور میں تشکیل پایا تھا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان اس عذاب سے نکلے تو یکساں نظام تعلیم اور اسلام کی بنیاد پر لانا ہو گا“۔ جسٹس خلیل الرحمن آئے تو انہوں نے بھی کہا کہ نیا نصاب ہمارے مذہب کو بدلنے کے لئے تشکیل دیا جا رہا ہے۔ امریکی ادارہ رینڈ کارپوریشن اس حوالے سے دن رات سرگرم عمل ہے۔ ہمارے ہاں تو تعلیم کو انڈسٹری بنا دیا گیا ہے ، ہمیں اس روش کو بدلنا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے سینئر ترین استاد پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر تشریف لائے تو وہ یہی بولے کہ ہماری جڑ عربی کو کاٹ دیا گیا ہے۔ اگر ہم عربی کو نہیں جانتے تو قرآن کو کیسے جان سکتے ہیں؟ ساری دنیا کے ماہرین کہتے ہیں کہ تعلیم بچے کی اپنی زبان میں ہونی چاہئے۔ اس کے بعد اساتذہ تنظیموں کے ملکی درجے کے صدور اور عہدیداران تشریف لائے اور ایک ہی بات کرتے نظر آئے کہ یکساں نظام تعلیم، قومی زبان میں اسلام کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ معروف دانشور سجاد میر نے تو سامعین کو حیران کر دیا کہ انگریز کی آمد سے پہلے ہمارے 90 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے اور آج انگریزی کے چکر میں دیکھ لیں کیا ہورہا ہے۔ تعلیمی کانفرنس سے امیر جماعت الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، پنجاب یونیورسٹی کے فیکلٹی آف ایجوکیشن کے ڈین پروفیسر حافظ محمد اقبال ،بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق ریکٹر جسٹس (ر) خلیل الرحمن خاں ، پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر ، گورنمنٹ کالج دیال سنگھ کے پرنسپل پروفیسر راﺅ جلیل احمد خاں ، مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما نصیر احمد بھٹہ ،ماہرین تعلیم پروفیسر ظفر اقبال، نیشنل ایسوسی ایشن پرائیویٹ سکولز آف پاکستان کے صدرڈاکٹر سجاد مسعود چشتی ،پروفیسر محمد یوسف عرفان ، سید وقاص انجم جعفری ،متحدہ محا ذ اساتذہ کے صدر حاجی عبدالغفار ککے زئی ،متحدہ اساتذہ آزاد کشمیر کے صدر سید نذیر حسین شاہ ،یونائیٹڈ ٹیچرز ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر پروفیسر محمد عارف ، تحریک انصاف شعبہ اساتذہ کے سربراہ پروفیسر شاہد مغل، جماعت الدعوة شعبہ تعلیم کے مدیر مولانا سیف اللہ خالد، جماعت الدعوة شعبہ اساتذہ کے نگران حافظ طلحہ سعید، عبدالمتین ، عبدالواحد و دیگر نے خطاب کیا۔ ان سب لوگوں کا درد اور فکر ایک تھی، بات اور انداز ایک تھا، جس سے پریشانی بھی ہوتی تھی کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار، حکمرانی تو اپنے ملک و عوام پر کر رہے ہیں؟ لیکن ان پرغیر ملکی اور ایجنڈا کیوں مسلط کر رہے ہیں۔ کیا انہیں کسی بات کی سمجھ نہیں؟ دینی مدارس ضرور کردار ادا کر رہے ہیں ،لیکن جو کروڑوں بچے پڑھ کر آگے آ رہے ہیں انہیں تو اسلام اور پاکستان کی کسی بات کا کچھ علم نہیں۔ قیام پاکستان کی تاریخ تک مسخ کر کے انتہائی کم کر دی گئی ہے.... ہماری نسل نو کو بگاڑنے کے لئے باہر سے نوٹوں کی بوریاں آ رہی ہیں، جنہیں باہر والوں کے اپنے ادارے اور اپنے لوگ یہاں بیٹھ کر خود خرچ کر رہے ہیں کہ ان میں کوئی چکر، فراڈ اور کرپشن نہیں چلنے دیں گے۔ وہ امداد و قرضے کا دھیلا دینے کو تیار نہیں۔ خود پیسے پیسے کو ترس رہے ہیں ،لیکن ہمارے ہاں تعلیم و تعلم کے میدان میں پیسے کی بارش کر رہے ہیں.... کیسے مقابلہ ہو گا؟ ہم تباہ ہو جائیں گے؟ ابھی ان خیالوں نے گھیر رکھا تھا کہ پہلے حافظ عبدالرحمن مکی اور پھر حافظ محمد سعید نے مائیک پر حوصلہ اور سنبھالا دیا کہ جو صدیوں سے سازشیں کر رہے تھے، آج بہت متحرک ہیں ،لیکن قرآن سے دور کرنے والوں کو قرآن پڑھنے والوں نے میدانوں میں نشان عبرت بنا دیا ہے۔ افغانستان کا منظر دنیا کے سامنے ہے، بس اس میدان میں کام تیز تر کیجئے.... یہیں سے ساری سازشوں کے تاروپود کٹ جائیں گے۔ حافظ محمد سعید نے حوصلے بندھائے۔ دفاع پاکستان کونسل کی طرز پر تحریک کا اعلان کیا تو جوش و خروش دیدنی تھا کہ ”نہیں کوئی بات نہیں ابھی پاکستان کے محافظ زندہ ہیں“۔ یہاں کی آواز ہزاروں سے نکل کر لاکھوں پھر کروڑوں تک پہنچے گی۔ جذبے، ولولے آتش فشاں بنیں گے۔ یہ تھوڑی طاقت و جمعیت بڑی قوت کو ہمیشہ سے شکست دیتی آئی ہے۔ آج پھر مقابلہ ہے اور کمرہمت کس کے آگے چلنا ہے۔ راستہ تھوڑا ہی باقی ہے کہ سامنے منزل بھی نظر آ رہی ہے۔ اگر ہم اپنے ملکوں معاشروں پر کافرانہ ملحدانہ قبضہ و کنٹرول سے پریشان ہو رہے ہیں تو یہ کنٹرول لانے والے ہم سے کہیں زیادہ ہماری تحریک و قوت سے لرزہ براندام ہیں۔ بس رکنے نہیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔یوں مایوسیوں کے اندھیروں میں امید کی ایک نئی کرن اور جوت جگانے کے بعد یہ کانفرنس ایک نیا راستہ متعین کرتے ہوئے اختتام پذیر ہو گئی۔ ٭

مزید :

کالم -