افغان شدت پسندوں کے حملے!

افغان شدت پسندوں کے حملے!
افغان شدت پسندوں کے حملے!

  

ابھی یہ قوم سلالہ چیک پوسٹ جیسے حادثے کے غم سے نہیں نکلی تھی کہ افغان شدت پسندوں نے دیر بالا میں حملہ کر کے14 پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں اور دو شہریوں کو افغانستان لے جا کر شہید کر دیا۔ اس واقعہ نے امریکہ اور نیٹو افواج کی افغانستان جنگ میں نام نہاد کامیابی کی قلعی کھول دی ہے۔ افغانستان کی جانب سے جس طرح دہشت گردوں نے حملے کر کے پاکستان کے سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو شہید کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے، یہ یقیناً قوم کے لئے نا قابل برداشت ہے۔ نیٹو حکام یوں تو دنیا بھر کو یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ انہوں نے گزشتہ دس سال میں کیا کیا کامیابیاں سمیٹ لی ہیں، جبکہ اس کی حالت یہ ہے کہ وہ جس سرزمین پر بیٹھے ہیں، وہاں سے کچھ گروہ اُٹھ کر اپنے پڑوسی ملک، جس کی قربانیاں نیٹو اور دیگر48 ممالک کی اتحادی افواج سے کہیں زیادہ ہیں، پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ نیٹو اور اتحادیوں کی کارکردگی صرف امریکی اسٹیبلشمنٹ کے بیانات ہی کے ذریعے سامنے آتی ہے، وگرنہ زمینی حقائق صریحاً مختلف ہیں۔

دیر بالا میں فرائض کی ادائیگی میں مصروف سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے امریکہ، ایساف، نیٹو، افغان حکومت اور دہشت گردوں کی ملی بھگت دکھائی دیتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ اور ایساف کو یمن، صومالیہ، عراق اور افغانستان کے کسی کونے کھدرے میں بیٹھے ہوئے ”اینٹی امریکن“ کے بارے میں تو معلوم ہو جاتا ہے، لیکن انہیں یہ پتہ نہیں چل رہا کہ پاکستان کے اندر کون سے گروہ حملے کر رہے ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کنڑ اور نورستان میں بیٹھے ہوئے لوگ انہیں دکھائی نہیں دیتے؟ حقیقت دراصل یہ ہے کہ نیٹواور دیگر ممالک ان شدت پسندوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

اب جبکہ پاکستان نیٹو سپلائی کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہے، امریکہ کی رعونت اپنی جگہ ہے کہ وہ کسی ملک کے فوجی اور شہری مار کر بھی اس سے معافی مانگنے کو اپنی کمزوری گردانتا ہے۔ پاکستان، افغانستان کا بارڈر ایک پورس بارڈر ہے، اس پر لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ پاکستان کی لگ بھگ 9 سو پوسٹیں پاک افغان بارڈر پر موجود ہیں، جو دو ہزار کلو میٹر پر محیط ہے، جبکہ اس کے برعکس افغانستان کی جانب صرف 80 چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہونے کی حیثیت سے وزیرستان میں موجود غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تو امریکہ اور نیٹو کے زیر اہتمام افغانستان کی طرف قائم متعدد پوسٹیں یکایک ختم کر دی گئیں، جس سے صرف یہی پیغام ملتا ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو یہ سہولت فراہم کی کہ اگر وہ فرار ہو کر افغانستان آنا چاہیں تو آجائیں۔

اس قسم کی ذہنیت اور دو غلے پن کے ساتھ کیا خاک دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔ ایبٹ آباد اور سلالہ جیسے واقعات کے بعد تو نیٹو اور دیگر اتحادیوں کی افغانستان میں آمد کے جو مقاصد تھے، عیاں ہوگئے ہیں۔ ان کا مقصد صرف پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور یہاں کے عوام میں غیر یقینی کیفیت پیدا کرنا ہے، اس کے سواکچھ نہیں ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ امریکہ کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ پاکستان کی مدد کے بغیر امریکہ کبھی افغانستان میں اپنے قدم نہیں جما سکتا تھا، اگر پاکستان اپنے علاقے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوششیں نہ کرتا تو امریکہ اور نیٹو فوجیوں کے لئے افغانستان کے اندر اپنے بیس میں بیٹھنا بھی محال ہو جاتا۔

امریکہ نے پاکستان کو بیچ منجدھار میں چھوڑ دیا ہے اور اس کی قربانیوں کا صلہ یہ دیا ہے کہ اس کو ایک غیر مستحکم خطہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اب پاکستان کو ایک طرف اندرونی محاذ پر متعدد مسائل کا سامنا ہے تو دوسری جانب دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ بھی پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ اس پر مستزاد افغانستان کی جانب سے حملے شدت پکڑ رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیٹو اور امریکہ افغانستان کی جنگ پاکستان کے اندر شفٹ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ ایک بڑی طاقت ضرور ہے، لیکن قابل اعتماد ساتھی اور دوست نہیں ہے۔ اسی لئے چین اور روس بھی کھل کر امریکہ کے ساتھ ٹکرانے سے گریزاں ہیں۔ گویا امریکہ نے اتحادی افواج اور دیگر حلیفوں کو ایک ہی کشتی میں سوار کر دیا ہے، لیکن چپو اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔ اس چپو سے وہ پانی کی لہروں کو ہموار کرتا ہے تو اسی سے وہ پاکستان جیسے حلیفوں کو ہانکنے کی روش پر بھی قائم ہے۔ اب تو بہر کیف امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان کو کشتی سے اٹھا کر گہرے پانی میں پھینک دیا جائے۔ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سے دشمنان پاکستان کے عزائم کو بھانپتے ہوئے خود کو اس گرداب سے نکالتاہے۔  ٭

مزید : کالم