زراعت کی ترقی اور خود انحصاری، کیسے؟

زراعت کی ترقی اور خود انحصاری، کیسے؟
زراعت کی ترقی اور خود انحصاری، کیسے؟

  

پاکستان میں سیاسی ، معاشی اورزرعی و صنعتی بحرانوں سمیت اخلاقی پستی اور قومی سلامتی کے بے شمار چیلنجوں سے نمٹنے کا واحد راستہ جاگیرداری نظام اور جاگیردارانہ طرز سیاست کا خاتمہ ہے۔ عوام کو ناروا ، ظالمانہ اور جاگیردارانہ اسلوب پر مبنی نظام سے نجات دلانے کے لئے ناگزیر ہے کہ انگریز کی عطا کردہ جاگیریں تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کر کے ضبط کر لی جائیں ۔ قرآن و سنت کی تعلیمات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رہنمائی کے مطابق حکومت حد ملکیت سے زائد زمین منصفانہ شرح سے خرید کر آسان شرائط پر ترجیحی حق کے تحت مزارعین اور ہاریوں کی ملکیت میں دے دے۔ غیر آباد بنجر سرکاری زمینوں کو پانی کی سہولت اور آبادکاری کی شرط کے ساتھ بے مالک غریب کاشتکاروں میں گزارہ یونٹ کے مطابق آسان شرائط پرتقسیم کر دیا جاناچاہیے ۔ گھوڑی پال سکیموں ، آرمی فارمز ، سیڈفارمز کے حوالے سے مزارعین نسل در نسل اورپشت در پشت جن زمینوں پر محنت و مشقت کررہے ہیں۔ ان زمینوں کے مالکانہ حقوق بھی زمین پر محنت کرنے والوں کو دئیے جائیں ۔ قومی حساس صنعتی ادارے ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دئیے جاسکتے ہیں تو محنتی اور محب وطن مزارعین کو مالکانہ حقوق کیوں نہیں دئیے جاتے ۔ ظلم پر مبنی یہ رویے ختم ہونے چاہئیں ۔ زراعت پر ٹیکس عائد کرنے کی بجائے ایک خاص حد سے زائد زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کیا جائے ۔ یہ ٹیکس فارمولا ایسا ہو کہ جس کا اثر غریب کسان ، ہاری اور کاشتکار پر نہ پڑے ۔

زراعت بری طرح سودی نظام میں جکڑی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے کسان اور ہاری زبوں حالی کاشکار ہیں۔ ان قرضوں کی واپسی کے لئے اب تک لئے گئے تمام زرعی قرضوں پر سود معاف کر دیاجائے اور اصل زر کی ادائیگی کے لئے آسان شرائط مقرر کی جائیں،اور آئندہ کسی سفارشی کو قرض نہ دیا جائے۔ بلکہ اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کئے جائیں ۔ اب وہ وقت آن پہنچاہے کہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، زراعت پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے ۔ کسانوں کو آسان شرائط کے ساتھ سود سے پاک قرضے فراہم کئے جائیں ۔ فصلوں کی اسلامی انشورنس تکافل کا نظام قائم کیاجائے ۔ زرعی ترقیاتی بنک کے ذریعے کسانوں کو کھاد ، بیج ، ادویات فراہم کی جائیں اور فصل کی کٹائی اور فروخت کے موقع پر چیک یا نقدی کی صورت میں معاوضہ واپس لے لیا جائے ۔ ٹیوب ویل رواں رکھنے کے لئے توانائی کے متبادل ذرائع متعارف کرائے جائیں ۔ دنیا بھر میں ٹیوب ویل چلانے کے لئے شمسی توانائی کے استعمال کے کامیاب تجربات ہو رہے ہیں ۔ زراعت کی ترقی اور اسے اغیار کے رحم و کرم سے آزادی دلانے کے لئے ناگزیر ہے کہ خود انحصاری کا راستہ اختیار کیا جائے ۔ زراعت سے متعلق تمام ضروریات ، بیج ، کھاد ، ادویات پر سے ناروا ٹیکس ختم کئے جائیں تاکہ نمایاں کمی کے ساتھ قیمتیںقابل برداشت سطح پر لائی جاسکیں۔

ملک میںبجلی اور ڈیزل توانائی کے بنیادی ذرائع ہیں اور توانائی کی ضرورت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ ٹیوب ویل ، ٹریکٹر کے چلنے کا انحصار بھی انہی دونوں ذرائع پر ہے، اس لیے ناگزیر ہے کہ زراعت کے لئے استعمال ہونے والی بجلی اور ڈیزل کے لئے گرین لائٹ اور گرین ڈیزل کانظام وضع کیا جائے جن کی قیمت عام نرخ سے نصف ہو۔ زرعی اجناس کی ملک کے اندر فروخت اور ضرورت کے مطابق برآمد کے لئے مفید او ر موثر حکمت عملی بنائی جائے ۔ سیم و تھور زمینوں کو بنجر بنارہاہے۔ اس کے تدارک کے لئے ہنگامی بنیادوں پر پروگرام شروع کیا جائے تاکہ قابل کاشت رقبے میں خاطرخواہ اضافہ ہو ۔ نیشنل ڈرینج سسٹم کے تحت ملک بھر میں سیم کے پانی کو سمندر میں ڈالنے کے لئے لیفٹ آﺅٹ فال ڈرین اور رائٹ آﺅٹ ڈرین کے منصوبے بلاتاخیر مکمل کئے جائیں۔ عوام ریونیو اور پٹوار کے اداروں سے بری طرح تنگ آچکے ہیں ۔ جائیدادکی تقسیم ، رجسٹری ، فرد ملکیت ، انتقال کے مرا حل ناقابل بیان کرپشن کاشکار ہیں ۔ ریونیو ریکارڈ مکمل کمپیوٹرائزڈکیا جائے ۔ ہر مالک زمین کو کمپیوٹرائزڈ ”پاس بک“ جاری کی جائے ۔

جماعت اسلامی پاکستان نے ملک کی آزادی ، خود مختاری اور خود انحصاری پر مبنی پاکستان کے ساتھ ساتھ زراعت کی ترقی ، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانیوں سے نجات دلانے ، بجلی ، گیس اور پانی کے بحرانوں سے محفوظ رکھنے ، نئی نسل کے لئے نظریاتی ، یکساں اور سستا نظام تعلیم رائج کرنے اور پاکستان کو لہلہاتے کھیت اور شاندار ،باوقار ، باعزت روزگار کی فراہمی کے لئے صنعت کی ترقی کا اسلامی ، عوامی اور انقلابی منشور دیاہے، جسے عوام نے بے حد سراہا ہے ۔زرعی بحران کے خاتمے کے لئے جماعت اسلامی کی یہ تجاویز حکمرانوں کے لئے ہیں ۔ ہم عوام کی تائید کے ساتھ اہل ،دیانتدار اور ذمہ دار قیادت کے ذریعے ان پر عملدرآمد کریں گے ۔

زراعت کوموجودہ بحران سے نکالنے کے لئے اگر فوری توجہ نہ دی گئی ،تو زراعت کا شعبہ جو قومی شرح نمو (جی ڈی پی ) میں تقریباً 4500 ارب روپے سالانہ حصہ ڈالنے والا یہ بڑا سیکٹر۔ جو تقریباً تین کروڑ زرعی مزوروں کو روزگار ، برآمدات کے لئے قومی خزانہ کو 2200 ارب روپے کی برآمدات میں تقریباً 1600 ارب روپے حصہ ڈالنے کے علاوہ عوام کو فوڈ سکیورٹی فراہم کرتاہے ، ڈوب جائے گا جو قومی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔ پاکستان دشمن قوتیں اسی ہدف پر کام کر رہی ہیں ۔ ملک اس وقت پانی کی شدید قلت کا شکار ہے ۔ ڈیموں کی تعمیر تنازعات کا شکار ہے ،جس کے ذمہ دار اب تک برسر اقتدار رہنے والے فوجی اور نام نہاد جمہوری حکمران ہےں، کسان کو اس کا قصور وار ٹھہرانا سراسر ناانصافی اور زیادتی ہے۔ اس لیے تیل کے انجنوں ، زرعی ہل و مشینری ، زرعی ان پٹس پر سیلز ٹیکس ختم کیاجائے یقینا اس سے حکومت کو ریونیومیں 25 کروڑ کم آمدن ہو گی، لیکن زرعی پیداوار میں 80 ارب روپے کا اضافہ ہو گا۔ زراعت میں پیداوار کا ہدف حاصل نہ ہونے کے اصل ذمہ دار حکومتی محلات میں بیٹھے پالیسی ساز ہیں، جن کی گرفت کرنے والاکوئی نہیں ۔

زراعت کی ترقی کے نام پر مرکز اور صوبوں میں بیسیوں محکمے او ر ادارے بنے ہوئے ہیں جو زراعت کی ترقی اور کسانوںو ہاریوں کی خدمت و رہنمائی کے بجائے کرپشن اور لوٹ مار کے ادارے بن گئے ہیں ۔ ضروری ہے کہ ملک میں زراعت کی ترقی کا ایک ہی محکمہ (محکمہ زراعت ) ہو، تاکہ دیگر ممالک کی طرح زرعی تحقیق اپنے موسم اور حالات کے مطابق بیج کی تیاری ،فصلوں اور باغات کو بیماریوں سے بچاﺅ کی تدابیر کے لئے حقیقی اقدامات کئے جائیں ۔ زراعت عملاً صوبائی اختیارات کا میدان ہے، لیکن صوبائی حکومتیں تعلیم کی طرح زراعت کو بھی نظر انداز کئے بیٹھی ہیں ۔ زراعت پر جاگیردار انہ نظام اور کسانوں کی خون پسینے کی کمائی ہڑپ کرنے ،ان کی محنت کے پھل، یعنی زرعی اجناس کی پیداواری اخراجات سے بھی کم قیمتیں لگانے اور ان کی ادائیگی کے ظالمانہ نظام کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ملک انارکی کا شکار ہو نے سے نہیں بچ سکے گا۔

پاکستان میں لائیو سٹاک ، باغات اور سبزیوں کی پیداوار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ۔ کسانوں او ر زرعی شعبے نے اپنی صلاحیتوں کو اس میدان میں بھی تسلیم کرایا ہے ۔ حکومت نجی شعبے کے تعاون سے ایسی اتھارٹی قائم کرے جو لائیو سٹاک ، باغات کی ترقی اور جنگلات میں اضافے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرے تاکہ پاکستا ن جدید سائنسی بنیادوں پر عالمی معیار کے مطابق گوشت ، مرغی ، پھل اور سبزیوں کی پیداوار اور برآمد میں عالمی منڈی میں اپناکھویا ہوا اعتماد اور مقام دوبارہ حاصل کر سکے۔ ملکی برآمدات 25 ارب ڈالر سے بڑھاکر 35 ارب ڈالر اور درآمدات 41ارب ڈالر سے کم کر کے 35 ارب ڈالر تک لانے کا ہدف حاصل کیا جائے تو قومی معیشت میں توازن پیدا کیا جاسکتا ہے، جس سے روپے کی قیمت میں استحکام کے ساتھ ساتھ افراط زر کی بھی روک تھام ہوگی ۔ اس مقصد کے لئے زرعی پیداوار اور لائیو سٹاک کی آمدن قومی خزانے کے لئے سونے کے پہاڑ سے بھی زیادہ کارآمد ہے ۔ تعلیم کے لئے سائنس ، انجینئرنگ ، ٹیکنالوجی میں تحقیق لائیو لائن کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن زرعی پیداوار میں اضافہ ، بیماریوں کے تدارک ، زرعی شعبے کے کارکنوں کی تربیت تو قومی وجود ، آزاد او ر باوقار ملک کے لئے روح کی حیثیت اختیار کئے ہوئے ہے ۔

 مجرمانہ غفلت ترک کر کے قومی ذمہ داری کا احساس وقت کا اہم ترین تقاضاہے ۔ قومی ترقی اور عوامی اعتماد کی بحالی اور خوشحالی کے لئے اللہ عز و جل اپنی آخری کتاب قرآن کریم میں اپنے آخری پیغمبر نبی ختم المرسلین کے ذریعے یہ حکم دیتاہے کہ ” مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتاہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپر دکرو اور جب لوگو کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو ۔ اللہ تمہیں نہایت عمدہ نصیحت کرتاہے ، یقینا اللہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے“.... (النسائ58:4) ....اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ ” یہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰة دیں گے ، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے“.... (الحج 41:22) عوام ، دانشور ، اور پالیسی ساز اگر ان احکامات پر کاربند ہو جائیں تو ملک کیوں ترقی نہیں کرے گا ، اللہ کی رحمت کیوں ہمارے شامل حال نہیں ہوگی ؟ تمام نظام اور تجربات آزما لئے گئے ہیں، مگر محرومیوں اور مایوسیوں کے سوا ملک و قوم کے ہاتھ کچھ نہیں آیا،مزید پستی اور پسماندگی سے بچنے کے لئے اللہ ، محمد اور قرآن ہی پائیدار اور بااعتماد تبدیلی کے نشان ہیں اور اب ہمیں یہ یقین پیدا کر لینا چاہیے کہ :

جب اپنا قافلہ¿ عزم و یقین سے نکلے گا

جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا

وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا!!

مزید : کالم