سزا ےافتہ فرد کا امور مملکت چلانا غیر آئینی ہوتا ہے:توہین عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

سزا ےافتہ فرد کا امور مملکت چلانا غیر آئینی ہوتا ہے:توہین عدالت کیس کا تفصیلی ...

اسلام آبا(این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کیخلاف توہین عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سزا یافتہ فرد کا پارلیمینٹ میں حصہ لینا اور امور مملکت چلانا غیر آئینی ہوتا ہے ¾سپیکر کی رولنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ¾ معاملے کو الےکشن کمےشن کو نہ بھجوا کر سپےکر نے اپنے اختےارات سے تجاوز کےا ¾پاکستان مےں آئےن کو رےاست کے سب اداروں پر فوقےت حاصل ہے ¾ آئےنی امور کی بابت، پارلےمان کے ارکان بشمول وزےر اعظم عدالتوں مےں جوابدہی سے ماوراءنہےں ۔ منگل کو سپرےم کورٹ آف پاکستان نے سپےکرقومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی رولنگ کے مقدمہ مےں تفصےلی فےصلہ جاری کر دےا ہے ۔ تفصیلی فےصلہ چےف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس جواد اےس خواجہ، اور جسٹس خلجی عارف حسےن پر مشتمل تےن رکنی بنچ نے کےا۔ بنےادی فےصلہ چےف جسٹس کا ہے۔ فاضل چےف جسٹس نے اس بات پر زور دےا ہے کہ سپرےم کورٹ کے اےک مختلف بنچ نے وزےر اعظم کو پہلے ہی توہےن عدالت کا مرتکب قرار دے دےا تھا۔ وزےر اعظم نے اُس فےصلہ کے خلاف اپےل بھی دائر نہےں کی جس وجہ سے وہ فےصلہ حتمی شکل اختےار کر گےا اور اب اُس فےصلہ کے نتائج سے فرار ممکن نہےں۔ فاضل چےف جسٹس نے لکھا کہ جب اےک مجاز عدالت کسی رکن پارلےمنٹ کو آرٹےکل 63(1)(g) کے زمرے مےں آنے والے جرم کی سزا سنا دے، تو پھر سپےکر کے پاس اِس معاملے مےں کوئی صوابدےدنہےں رہتی۔ اےسے حالات مےں آئےن کا تقاضہ ےہی ہے کہ سپےکر معاملے کو الےکشن کمےشن کو بھجوائے۔ معاملے کو الےکشن کمےشن کو نہ بھجوا کر سپےکر نے اپنے اختےارات سے تجاوز کےا۔ اس لئے عدالتی نظر ثانی کے دوران سپےکر کی رولنگ کالعدم قرار پائی۔اضافی نوٹ مےں جسٹس خلجی عارف حسےن نے متعدد عدالتی نظائر کا حوالہ دے کر ےہ نکتہ واضح کےا ہے کہ ارکانِ پارلےمان کی اہلےت ےا نا اہلےت کا سوال عدالتی نظرِ ثانی سے مستثنیٰ نہےں ہے ۔ انہوں نے ےہ بھی واضح کےا ہے کہ آرٹےکل 63 مےں دےا گےا طرےقِ کار ےعنی الےکشن کمےشن سے رجوع اس معاملے کے تصفےہ کا واحد طرےقہ نہےں۔ بلکہ 1960 کی دہائی سے شروع ہونے والے متعدد فےصلوں ،مثلا فرزند علی (1970) کے مقدمہ مےں، پاکستان کی اعلیٰ عدلےہ ےہ واضح کر چکی ہے کہ عدالتوں کے پاس ےہ اختےار موجود ہے کہ وہ رےاستی عہدوں بشمول قومی اسمبلی کی سےٹوں پر غےر قانونی طور پر براجمان ہونے والے کسی بھی شخص کی اہلےت کا جائزہ لےں۔ اور نا اہل افراد کو بے دخل کرےں۔ آئےن مےں (quo warranto) کی رٹ اسی مقصد کے لئے مہےا کی گئی ہے ۔ الےکشن کمےشن سے رجوع اےک متبادل طرےقہ کار ہے جو عام حالات مےں ضرور قابلِ عمل ہے ۔ مگر متبادل طرےقِ کار کے وجود سے اعلیٰ عدلےہ کا رٹ کا اختےار چھن نہےں جاتا۔ موجودہ مقدمہ مےں چونکہ کوئی حقائق و شواہد کی بحث نہےں اٹھتی، اور وزےر اعظم کا سزا ےافتہ ہونا رےکارڈ سے ظاہر ہے ، اس لئے عدالت رٹ کا ےہ اختےار استعمال کرنے کی مجاز ہے ۔ جسٹس خلجی نے آرٹےکل 184(3) کے تحت سپرےم کورٹ کے دائرہِ سماعت کے مسئلہ کا بھی مفصل قانونی تجزےہ کےا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ وفاق کے اعلی ترےن رےاستی منصب کا اےک سزا ےافتہ اورقانوناً نا اہل شخص کے قبضے مےں ہونا، عوام کے لئے لمحہ فکرےہ ہے اس مسئلے کا ملک مےں آئےنی حقوق کے نفاذ اور مفادِ عامہ سے گہرا تعلق ہے ۔ کےونکہ اگر وزےر اعظم بھی قانوناًنا اہل ہو تو پورے ملک مےں خاص کر رےاستی مشےنری مےں قانون کی حکمرانی کےسے قائم ہو سکتی ہے ۔۔ لہذا عدالت ِ عظمی ، جو قانونی اور آئےن کی بالا دستی قائم کرنے کی پابند ہے اس معاملے پر خاموش نہےں رہ سکتی ۔ جسٹس جواد اےس خواجہ نے اپنے اضافی نوٹ مےں چند غور طلب آئےنی اصول اجاگر کئے ہےں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ عہد ِ حاضر کے پاکستان مےں پارلےمانی بالا دستی کے قدےم برطانوی تصور کی کوئی اہمےت نہےں رہی۔ پاکستان مےں آئےن کو رےاست کے سب اداروں پر فوقےت حاصل ہے ۔ لہٰذا، آئےنی امور کی بابت، پارلےمان کے ارکان بشمول وزےرِ اعظم عدالتوں مےں جوابدہی سے ماوراءنہےں۔ جسٹس خواجہ نے اس کےس پر لاگو ہونے والے تےن متعلقہ آئےنی آرٹےکلز کا جائزہ لےا ہے ۔ ےعنی آرٹےکل 190 جس کے تحت تمام انتظامی ادارے سپرےم کورٹ کی معاونت کے پابند ہےں، آرٹےکل 204 جس کے تحت سپرےم کورٹ توہےنِ عدالت کی سزا سنانے کی مجاز ہے ، اور آرٹےکل 63(1)(g) جس کے تحت توہےنِ عدالت کے سزا ےافتہ افراد پارلےمنٹ کی رکنےت سے نا اہل ہو جاتے ہےں۔ ان تےنوں شِقوں کی بدولت آئےنی احکامات پر عمل درآمد کو ےقےنی بنانے اور ان سے انحراف کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اےک موثر نظام وجود مےں آتا ہے ۔ آئےن چونکہ عوام کی منشاءہی کا مظہر ہے اس لئے آئےن پر عمل درآمد کو ےقےنی بنانے والا ےہ نظام در اصل جمہورےت کا بھی ضامن ہے ۔ جسٹس خواجہ نے ےہ نکتہ بھی اجاگر کےا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں مےں اےک وزےر اعظم کی نا اہلی اور آئےنی انداز مےں اےک اور وزےر ِ اعظم کے تقرر سے ےہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان مےں ادارے مستحکم ہو رہے ہےں۔ جب تک ملک مےں آئےن سے وفا کی جائے گی، کوئی بھی فرد ِ واحد خود کو ناگزےر سمجھنے کا حقدار نہےں ہو گا۔

مزید : صفحہ اول