ینگ ڈاکٹر ز16ویں روز بھی ہسپتالوں سے غائب،2 نومولو دبچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

ینگ ڈاکٹر ز16ویں روز بھی ہسپتالوں سے غائب،2 نومولو دبچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی (جنرل رپورٹر، سپیشل رپورٹر، بیورو رپورٹس) ینگ ڈاکٹرز نے ہٹ دھرمی بر قرار رکھتے ہوئے 16ویں روز بھی ہڑتال جاری رکھی ،سروسز ہسپتال اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی فیصل آباد میں طبی امداد نہ ملنے پر دو نومولود بچوں سمیت 4افراد جاں بحق ہوگئے پاک فوج اور نئے بھرتی ہونےوالے ڈاکٹرزایمر جنسی اور آﺅٹ ڈورز میں ِمریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ پنجاب حکومت نے مریضوں کی سہولت کیلئے ہسپتالوں میں کیمپ لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے ‘ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے ڈاکٹروں کی گرفتاری اور مقدمات کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا جبکہ میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن نے اسکے خلاف پی آئی سی میں کام بند کرنے کا اعلان کر دیا۔گوجرانوالہ میں25 ہڑتالی ینگ ڈاکٹرز کام پر واپس آگئے ہیں ۔ ینگ ڈاکٹرز نے ساتھیوں کی گرفتاری اورمقدمات کے اندراج پر ایمر جنسی وارڈز میں بھی کام بند کر دیا ہے جسکی وجہ سے ۔لاہور کے سروسز ہسپتال میں دو نومولود بچے کفن لےکر واپس چلے گئے ۔فیصل آباد کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے تاندلیانوالہ کا 50سالہ صدیق اور ہجویری ٹاﺅن کی 45سالہ نجمہ دم توڑ گئی۔ پاک فوج نے اپنے ہسپتالوں میں سویلین مریضوں کے لیے مفت طبی سہولیات کا اعلان کردیا ہے۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے غیرقانونی ہڑتال اور اس کی وجہ سے مریضوں کو درپیش مسائل کے پیش نظر تمام سرکاری ہسپتالوں میں فوری طور پر میڈیکل کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ لاہورکے ٹیچنگ ہسپتالوں میں مزید 125 نئے ڈاکٹروں نے ڈیوٹیاں سنبھال لیں ہیں جب کہ آرمی کے ڈاکٹرز اور اسپیشلسٹ تمام ہسپتالوں کے او پی ڈیز اور ایمرجنسیوں میں مریضوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مزید ڈاکٹروں کی بھرتی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور چند روز میں ڈاکٹروں کی کمی پوری کر لی جائے گی۔ ادھر گرفتار ہونے والے 24 ہڑتالی ڈاکٹروں کو سنٹرل جیل کوٹ لکھپت سے رہا کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی ہدایت پر لاہور پولیس نے یکم جولائی کی رات ہڑتال کرنے والے 33 ڈاکٹروں کو سولہ ایم پی او کے تحت مقدمات درج کرکے سنٹرل جیل کوٹ لکھپت بھجوایا تھا۔ گزشتہ روز پنجاب حکومت سے مذاکرات طے پا جانے پر 24 ڈاکٹروں کوسنٹرل جیل کوٹ لکھپت سے رہا کردیا گیا ہے۔ رہا ہونے والے ڈاکٹروں میں ڈاکٹر خالد جمال، ڈاکٹر گلفام احمد، ڈاکٹر سجاد بلوچ، ڈاکٹر شمشاد اور ڈاکٹر کامران وغیرہ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے حلف دیا ہے کہ آئندہ وہ کسی ہڑتال میں حصہ نہیں لیں گے اور اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ آئندہ امن وامان خراب نہیں کریں گے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری پروفیسر ابرار اشرف نے کہا ہے کہ منگل کا دن ڈاکٹروں کے خلاف سخت اقدامات کے خلاف یوم سیاہ کے طور پر منایا ہے۔ حکومت ڈاکٹروں کے خلاف اقدامات واپس لے ورنہ پی ایم اے انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجائے گی۔ وہ میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو ڈاکٹر رہاکئے ہیں، وہ ناکافی ہے، تمام ڈاکٹروںکو رہا کیا جائے۔ میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن پی آئی سی کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ تمام گرفتار ڈاکٹروں کی رہائی تک ہسپتال میں فرائض سرانجام نہیں دیں گے۔ اس دوران نرسیں اور پیرامیڈیکل سٹاف بھی ہڑتال کرے گا۔ حکومت گرفتار ڈاکٹروں کو رہا کردے تو ہسپتالوں میں تمام ڈاکٹر واپس آجائیں گے۔ اس امر کا اظہار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اعجاز چنڈیو، سینئر نائب صدر ڈاکٹرشاہد حسین ایسوسی ایٹ پروفیسر نرسنگ ایسوسی ایشن پی آئی سی کی صدر سلمیٰ اور پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر حافظ دلاور نے گزشتہ روز اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹرچنڈیو نے کہا کہ ہم نے ڈاکٹروں کی رہائی کے لئے حکومت کو 24 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی تھی مگر حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا۔ سینئر ڈاکٹرز ینگ ڈاکٹروں کے بغیر پی آئی سی نہیں چلا سکتے جہاں نرسیں پروفیسرز سینئر ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف میں سے کوئی ایک بھی حاضر نہ ہوں تو ہسپتال نہیں چلایا جاسکتا۔ لہٰذا حکومت فی الفور تمام گرفتار ینگ ڈاکٹروں کو رہا کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے رہا کرکے غیر اخلاقی اور غیر قانونی ....؟؟؟ ہے حکومت پی آئی سی میں کام چلواناچاہتی ہے تو گرفتار ڈاکٹروں کو رہا کرے، ورنہ ڈیوٹی پر نہیںآئیں گے۔

مزید : صفحہ اول