نیٹو سپلائی پرفیس وصول نہ کرنے کے فیصلے سے پاکستان کا امیج بہتر ہوگا

نیٹو سپلائی پرفیس وصول نہ کرنے کے فیصلے سے پاکستان کا امیج بہتر ہوگا

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ کے سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں میں نیٹو سپلائی کی بحالی کی خبر سن کر مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی وزارت دفاع اور خارجہ کے اعلیٰ حکام کے علاوہ ایساف اور امریکہ کے فوجی کمانڈرز نے خاص طور پر گزشتہ آٹھ دس روز کے دوران پاکستانی حکام اور فوجی لیڈروں سے بھرپور مذاکرات کئے جو بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوئے۔امریکی وزارت دفاع کی مذاکراتی ٹیم نے اس سے پہلے اسلام آباد میں مقامی حکام سے نیٹو سپلائی کی بحالی سمیت دیگر سیکیورٹی معاملات پر تفصیلی بات چیت کی اور سمجھوتے کا تکنیکی جائزہ مکمل کر لیا جس کے بعد چونکہ صرف سیاسی فیصلہ کرنے کی ضرورت تھی، اس لئے یہ ٹیم واپس واشنگٹن چلی گئی۔ اس سے وقتی طور پر یہ تاثر ملا کہ بات چیت ناکام ہو گئی ہے۔ جس پر پینٹاگون نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکراتی ٹیم کا مشن سمجھوتے کا بنیادی تکنیکی ڈھانچہ طے کرنا تھا جو اس نے مکمل کر لیا اور ضرورت پڑی تو یہ ٹیم دوبارہ آ سکتی ہے۔مذاکراتی ٹیم دوبارہ واپس نہیں آئی۔ دونوں طرف کے اعلیٰ سطح کے لیڈروں میں جو بالآخر اتفاق رائے ہو گیا ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ سمجھوتے کے ڈھانچے کو کسی بڑی بنیادی تبدیلی کے بغیر منظور کر لیا گیا ہے۔ بلاشک دونوں فریقوں نے ٹرکوں پر فیس کی ادائیگی پر بھی ایک مفاہمتی فارمولہ تیار کر لیا تھا لیکن اعلیٰ سطح پر رابطے کے بعد پاکستانی حکام نے خیر سگالی کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیس وصول نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے امریکہ کی نظر میں پاکستان کا امیج بہت بہتر ہو گا۔ نیٹو سپلائی بحال کرنے کے لئے پاکستان کا مطالبہ تھا کہ امریکہ اچھی طرح سے اس پر معذرت کرے، اسی لئے جونہی پاکستان کی طرف سے گرین سگنل ملا امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصب ربانی کھر کو فون کرکے ایک بیان جاری کیا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اطراف کے اعلیٰ حکام کے درمیان یہی طے پایا تھا کہ سلالہ کے واقعے کا ایک حقیقت پسندانہ جائزہ پیش کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ بہت مناسب الفاظ کے ساتھ پاکستان سے اظہار تعزیت کریں گی اور انہوں نے ویسا ہی کیا۔ ذرائع کے مطابق ہیلری کلنٹن کے بیان میں یہ امریکی پوزیشن بھی واضح ہو گئی ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں دونوں طرف سے غلطیاں ہوئیں لیکن ایسا جان بوجھ کر نہیں ہوا۔امریکی تجزیہ کاروں نے پاکستان کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے خطے میں سیکیورٹی صورت حال کی بہتری کی طرف ایک اہم فیصلہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اور کامیابی قرار دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی طرف سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا لیکن امریکہ نے اس سلسلے میں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ امریکی وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایساف کے کمانڈروں نے پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ وہ سرحد کے پار دہشت گردی کے خفیہ ٹھکانے ختم کرنے کی خصوصی مہم چلائیں گے اور پاکستان کی جانب پاکستانی فوج اگر ایسے ٹھکانوں کے خلاف زیادہ موثر مہم چلائے تو رفتہ رفتہ ڈرون حملے کم کر دئیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جب بھی ڈرون حملے ہوئے ان کے ٹارگٹ پاکستانی فوج سے رابطوں کے بعد فائنل کئے جائیں گے۔امریکی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی کی بحالی کے اعلان کے بعد امریکی فوج کو ادائیگی کی راہ میں ر کاوٹ دور ہو گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی موجودہ مہینے کے دوسرے پندرھواڑے میں کم از کم ساڑھے سات سو ملین ڈالر کی فوجی امداد پاکستان کو مل جائے گی جس میں چار سو ملین ڈالر کا سپورٹ فنڈ بھی شامل ہے۔

مزید : صفحہ اول