قومی زوال کے اسباب

قومی زوال کے اسباب
قومی زوال کے اسباب

  

قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہر دہائی ہمارے سیاسی کلچر میں نہایت عبرتناک تبدیلی کا پیغام لے کر آئی ہے۔یہاں تک متحدہ پاکستان(مشرقی اور مغربی) جو قائداعظمؒ کی مخلصانہ اور ان تھک جدوجہد کی وجہ سے معرضِ وجود میں آیا ،اسے بھی ہم نے اپنی انا، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے دولخت کردیا۔ اسی طرح باقی ماندہ ملک میں بھی ایسے ابتر اور دگر گوں حالات نے اپنے وطن عزیز کے عوام کے اذہان پر نہایت گہرے منفی اثرات مرتب کئے اور ہر لمحہ بڑھتے ہوئے ملکی انتشار و افتراق کی وجہ سے ملک کے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی، داخلی اور خارجی امور میں انحطاط و اضمحلال کے گہرے سائے چھائے رہتے ہیں۔افغانستان پر حملوں کے لئے ہم نے انپے اہم فوجی ٹھکانے امریکہ سے مرعوب ہو کر اسے مہیا کردیئے اور اس طرح مغربی سرحد کی طرف سے کسی مشکل وقت میں ،جس طرح کی کسی امداد کی توقع اور امید تھی، اسے بھی ختم کرلیا۔ اب پاکستان میں جابجا ہر آئے دن خودکش حملے ہورہے ہیں۔یہاں تک ہمارے عسکری نوعیت کے نہایت اہم مقامات پر بھی تخریب کاروں نے حملے کرکے کافی نقصان پہنچایا۔ہم نے آج تک بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کے لئے کسی طرح کے تدبیر و تفکر سے کام لے کر باہمی اتحاد و مفاہمت کی فضا پیدا نہ کی،بلکہ تشدد کا راستہ اپنایا۔چند یوم قبل خودکش حملوں میں ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان ہوا۔ یہاں تک کہ قائداعظمؒ کی ریذی ڈینسیبھی منہدم ہوگئی۔دور اندیشی اور ہوشمندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ جورو جبر اور استبداد کی بجائے محبت و اخوت کا مظاہرہ کیا جائے اور باغی عناصر سے گفت و شنیدکرکے بقول ”غم کچھ ہم بدلتے ہیں خو اپنی کجھ آپ بدلیں وضع اپنی کا راستہ اختیار کرتے، چونکہ اقبالؒ فرماگئے ہیں:

ہر عمل سب کے لئے ہے رد عمل

دہر میں نیش کا جواب ہے تیش

-2قرآن کریم ہر مذہب و ملت کے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر دنیا میں بسایا تو اسے شیطان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔ اپنی اس مخلوق ناطق کو شیطانی شر اور وسواس سے بچانے کے لئے وقتاً فوقتاً رسول اور پیغمبر مبعوث فرمائے تاکہ قوم کو سیدھی راہ بتاتے رہیں۔ حضور ﷺکی آمد پر جب کہ دین پوری طرح کامل ہو گیا تو نبوت کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ پھر یہ ذمہ داری درجہ بدرجہ رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے کئی جلیل القدر ہستیاں پوری کر رہی ہیں اور یہ سلسلہ رشد و ہدایت قیامت تک کسی نہ کسی رنگ میں یونہی جاری و ساری رہے گا۔ اصل بات عمل کی ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر آنے والے دنوں میں مسلمانوں کو آپس کی رنجش اور دہشتگردی اور بنیاد پرستی کے حوالہ سے جس ہلاکت اور فلاکت کا نشانہ بنایا جائے گا، اس کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ اقبالؒ بہت پہلے اس طرف اشارہ فرما چکے ہیں:

وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

-3ایک وہم ہے کہ ایک سہم ہے۔ ایک خیال ہے اور ایک سوال ہے؟ جو ہر درد مند مسلمان کے دل و دماغ میں بار بار کلبلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بکثرت تسبیح و تحمید، عبادات اور رسول ﷺکی ذات اقدس کے ساتھ والہانہ محبت و عقیدت کے اظہار کے باوجود ہمیں وہ مقام اور عزت کیوں نہیں دی جا رہی جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کو نصیب تھی ،حالانکہ وہ تعداد میں ہم سے کہیں کم تھے؟ رمضان المبارک کے دوران میں حرمین الشریفین میں زائرین کی تعداد پچیس لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے، جو حجاج کرام کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں دینی جماعتوں کے متعدد اجتماعات میں بھی لاکھوں مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اس طرح کے تمام اجتماعات میں بھیگی پلکوں ،کانپتے ہونٹوں، سسکیوں اور آہوں بھری رقت آمیز طویل دعائیں ہوتی ہیں کہ اے اللہ! دین کی تڑپ دے دے۔ دین کی ہوائیں چلا دے۔ دین کی فضائیں بنا دے۔ حالات کو درست فرما دے ،مگر اس کے باوجود مسلمانوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور آج وہ ہر جگہ مغلوب و مغضوب ہیں ۔عوام کا تو کیا کہنا، ان کے حکمران بھی خوف زدہ ہیں۔ ان میں سے کسی کے اندر مجال نہیں کہ طاغوتی قوتوں کے سامنے ڈٹ جائے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ عبادت کی کثرت اور رقت آمیز دعاﺅں نے ہماری حالت کیوں نہیں بدلی؟ ہمیں دنیا میں سرخ رو اور سربلند کیوں نہیں کیا؟ آج ہمارے حکمران یہود و نصاریٰ اور ہنود سے خوف زدہ کیوں ہیں؟ امت مسلمہ کے موجودہ انتشار و افتراق، انحطاط و تنزل، ضعیفی، پس ماندگی ،محکومی و دست نگری کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ ان سوالات و خیالات کا بلابحث و تمحیص صرف ایک ہی جواب سامنے آتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بعض قرآنی احکامات پر تو عمل کرتے ہیں اور بعض کو درخور اعتناہی نہیں سمجھتے :مثلاً جس طرح اسلام کے پانچ ارکان(۱) کلمہ (۲) نماز (۳) روزہ (۴) زکوٰة(۵) حج کو تو تسلیم بالیقین کرتے ہیں ،مگر اسی جوش و جذبہ سے قرآن مجید کے دوسرے احکامات یعنی عقائد و تعلیمات اور اوامرونواہی پر عمل نہیں کرتے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر امریکا کی خواہش کے خلاف کوئی کام کیا تو وہ ہمیں نقصان پہنچائے گا، مگر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمیں ذرہ بھر ڈریا خوف نہیں آتا۔قرآن مجید کی رو سے ایسے لوگ منافق ہیں جن کے بدانجام سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد جگہوں پر صراحت کے ساتھ خبردار کر دیا ہے۔ ان آیات ِمقدسہ کی طرف تدبر و تفکر کے ساتھ رجوع کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ساتھ یہود و نصاریٰ کی دشمنی اور خبثِ باطن کا ذکر تو قرآن مجید میں متعدد بار کیا ہے، مگر ان دوقوموں کے علاوہ ایک قوم اور بھی ہے جو اسلام دشمنی میں ان سے بھی کہیں بڑھ کر ظالم اور خونخوار ہے اور وہ ہے ہنود ،جو دراصل عادات و اطوار کے اعتبار سے یہودیوں کے کافی قریب ہےں۔ ان کا گٹھ جوڑ زیادہ تر انہیں سے ہے ۔یہ لوگ لگتا ہے یہودیوں سے بھی بڑھ کر مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اقبالؒ نے ان کی مکاری اور عیاری یوں واضح کی ہے:

نگہہ دارد برہمن کارِ خود را

نمی گوید کس اسرار خود را

بمن گوید کہ از تسبیح بگذر

بدوش خود برد زُنارِ خود را

بعینہ مردِ قلندر جناب مظفر وارثیؒ نے بھی ہندوﺅں کو یہود ونصاریٰ ہی سے تشبیہ دی ہے:

ہندو ، عیسائی ، صیہونی تینوں ایک

ظالم دہشت گرد ، جنونی تینوں ایک

چیچنیا ، کشمیر ، فلسطین کھلے گواہ

مقتل الگ الگ ہیں ، خونی تینوں ایک

-4عالم اسلام کفر کے نرغے میں:

اس وقت عالمِ اسلام عالمِ کفر کے نرغے میں ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان ان کے کئی طرح سے زیر اثر ہیں۔ ہر طرح کا اسلحہ اور فاضل پرزے، غذائی اجناس، قرضے اور دیگر کئی طرح کی مراعات ہم امریکا اور اس کے حواریوں سے لینے پر مجبور ہیں۔ ہم غذائی اجناس اور اسلحہ سازی میں آج تک خود کفیل نہیں ہو سکے۔ گندم اور دیگر اشیائے خورد و نوش بھی ہم بھارت سے خرید رہے ہیں۔ یہ بجلی خریدنے کی تیاری ہورہی ہے، ہم احساس سودوزیاں سے کلیتہ َمحروم ہو چکے ہیں، مگر ضد، انا، ہٹ دھرمی ،فرقہ پرستی اور جاہ طلبی میں ہم دنیا کی تمام اقوام میں سرفہرست ہیں۔ ہم اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں باہمی انتشار و افتراق میں پڑ کر ضائع کر رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ ہم اپنے شیر دل مجاہدین کو پکڑ پکڑ کر امریکا کے حوالے کرنے سے گریزاں نہیں۔ جہاں انہیں بے حد اذیت ناک روحانی اور جسمانی سزائیں دی جاتی ہیں کہ ان کے تصور ہی سے رو ح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ وہ مجاہدین ہیں جن کے دم خم سے یہود و نصاریٰ ہمیشہ لرزہ براندام رہے ہیں۔ ایسے صابر مجاہدین کی قوت اور طاقت کے متعلق اللہ پاک نے یوں ارشاد فرمایا ہے(سورة الانفال ۸(آیات نمبر 65-66) کا ترجمہ ملاحظہ ہو:”اے نبی! رغبت دلایئے مومنوں کو جہاد پر اگر ہوں تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے ، ہزار کافروں پر کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے ۔اے مسلمانو! اب تخفیف کر دی ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے تو اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پر اور اگر ہوئے تم میں سے ایک ہزار صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دوہزارپراللہ کے حکم سے اوراللہ تعالیٰ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔“(جاری ہے)  ٭

مزید : کالم