الطاف حسین کے خلاف ٹھوس شواہد برطانوی پولیس کے حوالے کردیئے: لارڈ نذیر

الطاف حسین کے خلاف ٹھوس شواہد برطانوی پولیس کے حوالے کردیئے: لارڈ نذیر

ایم کیوایم کے قائد نے پاک برطانیہ تعلقات کو نقصان پہنچایا: بیرسٹر امجد ملک

الطاف حسین کے خلاف ٹھوس شواہد برطانوی پولیس کے حوالے کردیئے: لارڈ نذیر

  

لندن (بیور ورپورٹ)لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ انہوں نے الطاف حسین کیخلاف ٹھوس شواہد برطانوی پولیس کے حوالے کیے ہیں، الطاف حسین ثابت نہیں کر سکتے کہ لارڈ نذیر کو کوئی استعمال کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمنوں کے خلاف کھڑا ہونا میری قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کو ڈاکٹر عمران فاروق اور منی لانڈرنگ کیس میں پولیس سے تعاون کرنا چاہیے ۔گزشتہ روز روزنامہ پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ میں جو بھی کام کرتا ہوں ،سوچ سمجھ کر کرتا ہو ں ،میں نے الطاف حسین کے خلاف کوئی بے بنیاد بات نہیں کی ،ان کے خلاف پہلے مجھے عمران خان نے کراچی میں ہونے والے مختلف واقعات کی ویڈیوز دیکھائیں اور ان کے بعد بارہ مئی کے حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود تھے۔لارڈ نذیر نے کہاکہ بعد ازاں ڈاکٹر ذو الفقار مرزا ‘ سابق صوبائی وزیر داخلہ سندھ ‘ ان کے پاس آئے ان کے پاس ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے ٹھوس ثبوت کی فائلیں موجود تھیں جس پر انہوں نے ان کے ہمراہ تفتیشی اداروں کو آگاہ کیا اور ڈاکٹر ذو الفقار مرزا کی لندن پولیس کے ساتھ ایک میٹنگ اور ملاقات بھی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو اس کے دشمنوں سے بچاﺅں، انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہونیوالے ظلم کیخلاف ہم برطانیہ میں آواز بلند کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے ۔انہوں نے الطاف حسین کو مشورہ دیا کہ وہ خو د کو پولیس کے حوالے کر دیں تاکہ ان پر لگے جانے والے الزامات کی حقیقت معلوم ہو سکے اور اگر وہ صاف وشفاف ہیں جس کا وہ اکثر اظہار کرتے ہیں تو پولیس کے پاس ازخود جانے میں انہیں کوئی مذائقہ نہیں ہونا چاہیے،اس طرح وہ اپنا نام اور گھر کلیئر کرا سکتے ہیں ،برطانوی پولیس اور حکومت کے خلاف بیان بازی کر کے وہ اپنے مقاصد پورے نہیں کر سکتے ۔اُنہوں نے کہا کہ الطاف حسین کو برطانیہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے اپنی جان کے لیے پاکستان میں خطرہ محسوس کیا تو برطانیہ میں انہیں پناہ دی گئی اگر ان پر غلط الزامات لگیں گے تو وہ بغیر کسی فیس کے انکا دفاع کرینگے ۔برطانیہ میں پاکستانی وکلاءکی ایسوسی ایشن کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ جو شخص برطانیہ میں پناہ گزین ہے، اسکے مالی معاملات حکومت برطانیہ کی نظر میں رہتے ہیں اس لیے الطاف حسین ان کی نظر میں ایک لمحہ کے لیے بھی آﺅٹ نہیں ہوئے ۔قانون کے مطابق اگر کوئی شخص نہ کوئی تجارت کرتا ہے اور نہ ہی ملازمت ‘ اور نہ ہی اپنے ذرائع آمدن ظاہر کرتا ہے اور اسکی ایک سیاسی جماعت ہے اور پارٹی کے اکاﺅنٹس میں رقم بھی نظر نہیں آتی اور پھر اسکے گھر سے ایک بڑی رقم برآمد ہو جائے جس کی وہ وضاحت نہ کر سکے کہ یہ رقم اسکے پاس کیسے آئی ہے تو برطانیہ کے منی لانڈرنگ قانون کے تحت لازمی کاروائی ہوتی ہے اوریہ بتانا پڑتا ہے کہ یہ رقم کہاں سے آئی؟ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کے خلاف حکومت پاکستان اور مختلف سیاسی جماعتو ں نے بڑے مضبوط ثبوت پہلے ہی فراہم کر رکھے ہیں جس میں بھتہ خوری ‘ اغوا برائے تاوان ‘ جنوبی افریقہ کے راستے ناجائز رقم کا برطانیہ پہنچنا بھی شامل ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ ایسی رقوم غیر قانونی طریقے سے پہنچتی ہیں تو ایسی صورت میں نہ صرف رقم بلکہ جائیداد بھی ضبط ہو جاتی ہے اور اس مقدمے کے تمام اخراجات برطانوی قانون کے تحت مذکورہ جائیداد کو فروخت کر کے پورے کیے جاتے ہیں ،اس طرح کے مقدمات کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے لاکھوں پاﺅنڈ خرچ ہوتے ہیں اور یہ اخراجات ملزم کو برداشت کرنا پڑتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کا قانون انصاف کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہے جس دن برطانیہ میں انصاف کا نظام ناکام ہو گیا ،اس دن برطانیہ بھی ناکام ہو جائیگا ۔امجد ملک کا یہ بھی کہنا تھا کہ الطاف حسین نے برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچایا ہے، برطانوی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہوں نے ایک ہیجان انگیز تقریر کر کے الیکٹرانک میڈیا کو یرغمال بنا لیا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ عمران فاروق کا قتل لندن میں ہوا ہے اس لیے اسکی تفتیش بھی لندن میں ہی ہو گی برطانوی قونصل خانے پر مظاہرہ کر کے متحدہ نے برطانوی حکومت کو دھمکی دینے کی کوشش کی ہے ۔

مزید : بین الاقوامی