دوتہائی بھارتی آبادی کیلئے کم قیمت پر غذا کی فراہمی کا پروگرام

دوتہائی بھارتی آبادی کیلئے کم قیمت پر غذا کی فراہمی کا پروگرام
دوتہائی بھارتی آبادی کیلئے کم قیمت پر غذا کی فراہمی کا پروگرام

  

نئی دہلی (آن لائن)بھارتی حکومت نے ملک کی دو تہائی آبادی کے لئے کم قیمت پر غذائی اجناس فراہم کرنے کا وسیع پروگرام جاری کیا ہے جسے فوڈ سکیورٹی کا نام دیا گیا ہے اس کے تحت تقریباً 80 کروڑ افراد کو ہر ماہ پانچ کلو سستا اناج فراہم کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ بل پارلیمنٹ میں حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور اسی سبب اسے ایک آرڈیننس کی شکل میں پیش کئے جانے پر وزراءکو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایک سیاسی چال ہے اور اس سے بھارت کی معیشت پر منفی اثر پڑے گا جبکہ اس پروگرام کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے ملک سے غربت دور ہوگی۔ حکومت کی اس حوصلہ مند سکیم کو دنیا کی سب سے وسیع فلاح و بہبود کی سکیم طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر بھارت اس قدر مراعات یافتہ خوراک کی سکیم کا کس طرح متحمل ہو سکتا ہے جس میں ایک کھرب 13 ارب یعنی 9.23 ارب امریکی ڈالر خرچ ہوں گے۔ حکومت کا موقف ہے کہ پیسہ کوئی پریشانی کا باعث نہیں ہے۔ یہ فوڈ سکیورٹی بل برسراقتدار کانگریس پارٹی کے انتخابی وعدے کا حصہ ہے۔ دنیا میں بھارت ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور یہ سکیم بھوک کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بھارت میں 20 کروڑ سے زیادہ لوگ شدید غربت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور مہنگائی کے دور میں خوراک کا حصول ان کے لئے ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس بل کے تحت ایک کلو چاول تین روپے میں دستیاب ہوں گے جبکہ گندم دو روپے اور باجرہ ایک روپے فی کلو ملے گا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ سکیم بھارت کے دیہی علاقوں کی 75 فیصد آبادی کا احاطہ کرتی ہے جبکہ شہری علاقوں کے 50 فیصد افراد اس سے فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اس بل پر بحث کرانے کی کافی کوششیں کیں لیکن پارلیمان میں ہنگامے کے دوران اس پر بحث نہیں ہو سکی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل کو پارلیمان میں چھ ہفتوں کے اندر پیش کیا جائے گا جبکہ گزشتہ ماہ حکومت نے کہا تھا کہ اسے قانون بنانے کے لیے پارلیمان کا خصوصی اجلاس بھی بلایا جا سکتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی