پاکستان ہاکی اولمپک سے بھی باہر

پاکستان ہاکی اولمپک سے بھی باہر
پاکستان ہاکی اولمپک سے بھی باہر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان ہاکی اولمپک سے باہر ہو گیا ہے۔
ایک دور تھا جب پاکستان ہاکی کے افق کا چمکتا ستارہ تھا۔
لیکن اب پاکستان ہاکی کے افق کا ڈوبتا ستارہ ہے۔
پہلے ہم ورلڈ کپ سے باہر ہوئے تھے ۔ اب اولمپک سے بھی باہر ہو گئے ہیں۔ ویسے تو کرکٹ کی صورتحال بھی کوئی خاص مختلف نہیں ہے اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم چیمپئن ٹرافی کھیلنے کے لئے مشکلات کا شکار ہے۔ اس وقت ہم کرکٹ میں بھی پہلی سات ٹیموں میں نہیں ہیں، لیکن پھر بھی ہاکی پاکستان میں قریب المرگ ہے۔


ایک دور تھا کہ ہاکی کے تمام کپ ہمارے پاس تھے۔ آج ہم یہ کپ کھیلنے کے اہل بھی نہیں۔
ہاکی کے اس زوال کی داستان کوئی نئی نہیں ہے۔ یہ دو دہائیوں سے پرانی بات ہے۔
ہاکی کی انتظایہ کا موقف ہے کہ حکومت ہاکی کو پیسے نہیں دیتی۔ اس لئے ہاکی زوال کا شکار ہے، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ اس نے کافی پیسے دئے ہیں ۔ یہ ہاکی فیڈریشن پیسے غبن کر گئی ہے، جبکہ ہاکی فیڈریشن کا موقف ہے کہ ہم سے ایک ایک پائی کا حساب لے لیا جائے۔ ہم نے کوئی کرپشن نہیں کی۔
یہ بات کسی حد تک درست لگتی ہے کہ ہاکی فیڈرشین کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اِسی لئے جب ہاکی ٹیم نے بھارت کا دورہ کرنا تھا تب بھی چندہ کیا گیا تھا اور چندہ سے ٹیم بھارت گئی تھی۔ گو کہ بھارت میں ہم نے بھارت کو ہرا دیا۔ اور آپے سے باہر ہو گئے۔


پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر چودھری اختر رسول ابھی تک ہاکی کو زندہ کرنے میں نا کام رہے ہیں۔ اس طرح کی ہاکی تو ان سے پہلے بھی چل رہی تھی۔ ان کے آنے سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ ایک ملاقات میں ان سے پاکستان میں ہاکی کو زندہ کرنے کے حوالے سے کافی بات ہوئی تھی۔ وہ جذباتی لگ رہے تھے، لیکن لگتا ہے کہ میاں نواز شریف سے ملاقات میں نا کامی کی وجہ سے وہ ہمت اور حوصلہ ہار گئے ہیں۔


یہ بات بھی کسی حد تک سچ ہے کہ ہاکی سے محبت کرنے والوں نے چودھری اختر رسول کو ہاکی فیڈریشن کا صدر بھی اس لئے منتخب کیا تھا کہ ان کا حکمران جماعت سے تعلق ہے۔ وہ میاں نوز شریف کے قریب ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ان سے پہلے جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو قاسم ضیاء کو ہاکی کا نظم و نسق دے دیا گیا تھا ، کیونکہ ان کا تعلق پیپلزپارٹی سے تھا اور وہ سابق صدر آصف علی زرداری کے قریب سمجھے جاتے تھے۔


یہ کہا جا سکتا ہے کہ قاسم ضیاء کی کارکردگری اختر رسول کے مقابلے میں اس حد تک بہتر رہی کہ وہ پیپلزپارٹی کی قیادت سے فنڈز لینے میں کامیاب رہے ، جبکہ اختر رسول اس محاذ پر بھی نا کام رہے ہیں۔ اس سارے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ ہاکی مافیا ہر دور حکومت میں ایک ایسی مرغی آگے لگالیتا ہے۔ جو حکمرانوں سے ان کے لئے پیسے لے کر آئے۔


جہاں تک ہاکی کا تعلق ہے تو قاسم ضیاء اور چودھری اختررسول دونوں ہی ہاکی کی بہتری میں کوئی قابل قدر کام کرنے میں نا کام رہے۔انہوں نے پاکستان میں ہاکی کو سیاسی تو کیا ہے، لیکن عوامی نہیں کیا۔ یہ عوام کے دلوں میں ہاکی کی محبت دوبارہ زندہ کرنے میں نا کام رہے ہیں۔


اختر رسول کو سمجھنا ہو گا کہ ہاکی مافیا نے پاکستان کے عوام کی محبت کھو دی ہے۔ لوگ اب ہاکی کا میچ ہارنے میں اس طرح غصہ میں نہیں آتے جیسے انہیں آنا چاہئے۔ صورت حال با لکل ایسی ہی ہو گئی ہے جیسے ایک نا لائق بچے کی ہوتی ہے کہ جب وہ فیل ہو جاتا ہے تو کسی کو غصہ نہیں آتا۔ نہ ہی کوئی حیران ہو تا ہے، بلکہ سب کہتے ہیں یہ تو ہونا ہی تھا۔


صورت حال تو تب پریشان کن تھی اگر پاکستان ہاکی میں کوئی کارنامہ کر دے۔ کبھی کبھی اچانک کوئی میچ جیت جا نا۔ ایسے بیمار کی کہانی ہے جو کبھی کبھی سانس لینے لگتا ہے۔ یا کبھی اچانک تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں کھولتا ہے تو اس کے ٹھیک ہونے کی امید پیدا ہو جاتی ہے، لیکن یہ امید وقتی ہوتی ہے۔
پاکستان میں ہاکی کو زندہ کرنے کے لئے، جس عوامی تحریک کی ضرورت ہے اس کے لئے ہاکی کو ایک جنونی ٹیم کی ضرورت ہے۔ ٹھنڈے کمروں میں میٹنگ کر کے اور بڑی گاڑیوں میں سفر کر کے ہاکی زندہ نہیں ہو سکتی۔


کیا ایسا ممکن ہے کہ اختر رسول اپنی پوری کابینہ کے ساتھ خود کو عوامی احتساب کے لئے پیش کر دیں۔ استعفیٰ دے دیں۔ تا کہ ہاکی کی کچھ تو ساکھ بحال ہو۔ جب تک عوام میں ہاکی اور ہاکی فیڈریشن کی ساکھ بحال نہیں ہو گی۔ ہاکی بہتر نہیں ہو سکتی۔


ہاکی کے پرانے کھلاڑی بھی ایک دوسرے پر بہت تنقید کرتے ہیں۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ سب اقتدار کی جنگ ہے۔ کوئی بھی ہاکی سے مخلص نہیں ہے۔ ورنہ ایک ایک ہاکی اولمپیئن اگر ایک ایک سکول میں ٹریننگ شروع کر دے تو سال میں بہترین ٹیم تیار ہو جائے گی، مگر سب قومی ٹیم کی کوچنگ کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی سکول کے بچوں کی ٹریننگ کے لئے تیار نہیں۔ کیونکہ سکول کی ٹریننگ میں پیسے نہیں ہیں۔ بیر ونی دورے نہیں ہیں۔ یہی ہمار المیہ ہے کہ ہمارے ماضی کے بڑے کھلاڑی اب بھی ہاکی سے پیسے ہی کمانا چاہتے ہیں۔ انہیں سمجھنا ہو گا کہ پہلے ہاکی کو زندہ کر لیں پھر پیسے کما لیں، لیکن سب جلدی میں ہیں۔

مزید :

کالم -