بل ادا نہ کرنے پر پورے شہر کی بجلی کاٹ دی گئی

بل ادا نہ کرنے پر پورے شہر کی بجلی کاٹ دی گئی
بل ادا نہ کرنے پر پورے شہر کی بجلی کاٹ دی گئی

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے نسبتاً معتدل موسم میں بجلی چلی جائے تو لوگوں کی جان پر بن آتی ہے مگر عراقی شہر بصرہ کے شہری 49ڈگری سینٹی گریڈ کی جھلسا دینے والی گرمی میں بغیر بجلی کے رہ رہے ہیں کیونکہ عدم ادائیگی کی وجہ سے پورے شہر کی بجلی کئی روز سے بند ہے۔ امریکہ کے پبلک ریڈیو انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بصرہ کوایک عشرے سے ترکی کے رینٹل پاورپلانٹس سے بجلی دی جا رہی ہے جو سمندر میں کھڑے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے دور میں ترکی سے ایسے ہی رینٹل پاور سٹیشن پاکستان نے بھی منگوائے تھے۔ ترکی کے ان پاورپلانٹس نے عدم ادائیگی پر بصرہ شہر کو بجلی کی فراہمی بند کر دی ہے۔ ان پاور پلانٹس کو ترک کمپنی ’کارکے‘ آپریٹ کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان پاور پلانٹس سے تیل پر بجلی پیدا کی جاتی ہے جس سے 400میگا واٹ عراقی پاور پلانٹس کو دی جاتی ہے۔بصرہ کی مقامی حکومت عراقی تیل انڈسٹری کا مرکز ہونے کے باوجود اپنے پاور پلانٹس نہیں چلاتی اور نہ ہی شہر کی حدود سے نکلنے والے تیل کے متعلق آج تک کوئی ازخود فیصلہ کر سکی ہے۔ شہر کو بجلی کی فراہمی اور تیل نکالنے اور فروخت کرنے کا کام آج تک عراق کی مرکزی حکومت ہی کرتی آئی ہے۔ لہٰذا کارکے کو ادائیگی نہ کرنے اور بصرہ کی بجلی منقطع ہونے کی ذمہ دار بغداد پر عائد ہوتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بصرہ کو دی جانے والی بجلی کی مد میں بغداد کارکے کا ساڑھے 8کروڑ ڈالر (تقریباً ساڑھے 8ارب روپے)کا نادہندہ ہے جس پر کارکے نے گزشتہ پیر کے روز سے شہر کی بجلی بند کر رکھی ہے۔ ان پاورپلانٹس کے علاوہ بصرہ کو ایران سے بھی بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال ایران نے بھی 70کروڑ ڈالر(تقریباً70ارب روپے) کی رقم واجب الادا ہونے پر بصرہ کی بجلی منقطع کر دی تھی جس پر بغداد حکومت کے ایک وفد نے تہران جا کر ایرانی حکام سے مذاکرات کیے جس کے بعد بجلی بحال کر دی گئی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -