اس پاکستانی کی کہانی جسے سعودی عرب میں ’غلام‘بنا لیا گیا

اس پاکستانی کی کہانی جسے سعودی عرب میں ’غلام‘بنا لیا گیا
اس پاکستانی کی کہانی جسے سعودی عرب میں ’غلام‘بنا لیا گیا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل گرنے کے باعث سعودی عرب کی معاشی زبوں حالی اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ کمپنیوں کے لیے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنا دوبھر ہو گیا ہے۔ کئی ملازمین ایسے ہیں جنہیں گزشتہ 6ماہ سے تنخواہ نہیں مل سکی جس کے باعث وہ پھنس کر رہ گئے ہیں، وہ نہ سعودی عرب میں رہ سکتے ہیں اور نہ چھوڑ سکتے ہیں۔ سعودی گزٹ نے ایک پاکستانی میکینیکل انجینئر سے بات کی ہے جسے 6ماہ سے تنخواہ نہیں ملی اور وہ سعودی عرب سے جانے کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیصل نامی یہ انجینئر ریاض میں کام کر رہا ہے۔ وہ ایک سال کے کنٹریکٹ پر آیا تھا جو ختم ہونے والا ہے۔ اسے 6ماہ سے تنخواہ نہیں ملی جس پر وہ اپنے آبائی ملک جانے کی کوشش کر رہا ہے۔

سعودی گزٹ کے مطابق فیصل بن لادن گروپ کا ملازم ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”میں کسی اور کمپنی میں بھی نوکری تلاش کر چکا ہوں مگر بن لادن گروپ نہ مجھے کسی اور کمپنی میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ملک چھوڑنے کی اور تنخواہ بھی ادا نہیں کی جا رہی۔ میرے حالات انتہائی دگرگوں ہو چکے ہیں۔ میری رہائش کا معاہدہ ختم ہونے کے قریب ہے۔ میرا رہائش کا الاﺅنس بھی تنخواہ میں شامل ہے۔ اگر مجھے تنخواہ نہیں دی جاتی تو مجھے جلد ہی اپنے ایک دوست کے پاس شفٹ ہونا پڑے گا۔ ہم بیرون ملک سے آئے لوگوں پر اپنے خاندانوں کا بوجھ بھی ہوتا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ ہم بغیرتنخواہ کے گزارہ کر سکیں۔ میرے ڈیپارٹمنٹ میں 1200سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور ان سب کو تنخواہیں نہیں دی گئیں۔

سعودی عرب کی وزارت محنت کا کہنا ہے کہ ”بن لادن گروپ 69ہزار ملازمین کو نوکری سے فارغ کر چکا ہے جن میں 10ہزار کو تنخواہیں ادا کی جا چکی ہیں اور 10ہزار ملازمین دیگر کمپنیوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -