محمود خان اچکزئی کو اپنے افغان تعلقات کی وضاحت کرنا ہو گی؟

محمود خان اچکزئی کو اپنے افغان تعلقات کی وضاحت کرنا ہو گی؟

  

محمود خان اچکزئی کے خیبر پختونخوا کے حوالے سے ایک متنازعہ انٹرویو پر بہت شور ہے۔یہ انٹرویو ویسے تو ایک افغان اخبار کو دیا گیا، لیکن افغان اخبار میں شائع ہونے کے بعد پاکستان کے پرنٹ و الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اس انٹرویو نے کافی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اس انٹرویو کو عمومی طور پسند نہیں کیا گیا۔ اس پر شدید تنقید ہوئی ہے۔ اسی لئے شائد محمود خان اچکزئی خود بھی اپنے اس انٹرویو کا دفاع نہیں کر سکے اور روائتی سیاست دانوں کی طرح انہوں نے بھی یہی کہہ کر جان چھڑا لی ہے کہ افغان اخبار نے ان کے بات صحیح طور پر شائع نہیں کی اور بات کو تڑوڑ مڑوڑ کر شائع کیا گیا ہے۔

محمود خا ن اچکزئی کی سوچ اور فکر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن جمہوریت کے لئے ان کی کمٹمنٹ قابل دید ہے۔ وہ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کوشاں ہیں۔ دھرنے میں بھی انہوں نے کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ سکرپٹ رائٹرز کی مخالفت کی تھی۔ وہ اب پاناما پر بھی حکومت کے ساتھ ہیں۔ وہ یہ کہہ کر میاں نواز شریف کو سپورٹ کر رہے ہیں کہ ماضی میں بھی وزرائے اعظم پر کرپشن کے الزمات لگتے رہے ہیں، لیکن ان الزمات کو جمہوریت کا بستر گول کرنے کے لئے استعمال کیا جا تا رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ملک کے اداروں جن میں بالخصوص اسٹبلشمنٹ کے ادارے شامل ہیں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔

تحریک انصاف نے ان اس متنازعہ انٹرویو پر شدید شور کیا ہے۔ ان کے خلاف بیانات کی بارش شروع کر دی گئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ان کے بیان سے سب کے سر شرم سے جھک گئے ہیں ۔ انہیں یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ اگر انہیں افغانستان سے اتنی محبت ہے تو وہ افغانستان ہی شفٹ ہو جائیں، لیکن تحریک انصاف اور محمود خان اچکزئی کی دشمنی نئی نہیں ہے۔ دھرنے کے دوران بھی کنٹینر پر بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اچکزئی کی مزاحیہ پیروڈی کر کے ان کا تمسخر اڑاتے رہے ہیں۔

محمود خان اچکزئی کے خلاف ایک اور مہم آج کل سوشل میڈیا پر بہت گرم ہے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ محمود خان اچکزئی افغان اور بھارتی انٹیلی جنس ’’ را‘‘کی پے رول پر ہیں اور پاکستان میں ان کی ڈیوٹی دراصل راء اور افغان انٹیلی جنس کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کی مخصوص سوچ اور اس تناظر میں بیانات کا ریفرنس دیکر اس الزام کو ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

محمود خان اچکزئی کی ایک افغان کمانڈر رازق اچکزئی کے ساتھ ایک تصویر کا بھی بہت چرچا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ رازق اچکزئی پاک افغان بارڈر چمن سے قندھار تک علاقہ کے جنگی کمانڈر ہیں۔ وہ کھلم کھلا پاکستان کے مخالف اور بھارت نواز مانے جاتے ہیں۔ وہ منشیات کی تجارت اور سمگلنگ کے کاروبار کے بادشاہ مانے جاتے ہیں۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سے اپنے قریبی تعلقات کی وجہ سے رازق اچکزئی اس علاقہ کے باقاعدہ کمانڈر بننے میں کا میاب ہو گئے۔ رازق اچکزئی کے حوالہ سے یہ بات بھی عام ہے کہ پاکستان کے ساتھ افغان علاقہ میں قائم بھارتی سفارتخانہ بھی رازق اچکزئی کے زیر سایہ ہی چل رہے ہیں اور ان سفارتخانوں سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کی بھی افغان حکومت کی طرف سے رازق اچکزئی ہی نگرانی کرتا ہے۔ اسی لئے رازق اچکزئی افغان انٹیلی جنس کے ساتھ ساتھ را کی بھی پے رول پر ہے۔ اس کی پاکستان مخالف سرگرمیوں نے ہی اس کو بھارتی حکومت کے بہت قریب کر دیا ہوا ہے۔ ایسے میں محمود خان اچکزائی کے رازق اچکزائی سے قریبی تعلقات پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ رازق اچکزئی افغانستان میں آباد ہزاروں لغاری اچکزئی قبیلہ کے لوگوں کو پاکستان میں آباد کرنا چاہتا ہے۔ تا کہ بعد میں ان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے حال ہی میں خیبر پختونخوا کو تاریخی اعتبار سے افغانستان کا حصہ قرار دیکر بھی دراصل افغان حکومت کا ہی موقف بیان کیا ہے اور ان کی جانب سے افغان مہاجرین کی پاکستان میں مہمان نوازی جاری رکھنے کا بیان بھی دراصل افغان حکومت کی مدد کرنے کی کوشش ہے۔

محمود خان اچکزئی کی اسٹبلشمنٹ مخالف سوچ اپنی جگہ۔ ان کی جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ بھی خوش آئند ہے، لیکن اس کے ساتھ ان کی پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ کسی بھی شک و شبہ سے با لا تر ہونی چاہئے، لیکن اس ضمن میں بھی پاکستان میں سیاسی منظر نامہ بہت دھندلا ہے۔ ایسے الزامات صرف محمود خان اچکزئی پر نہیں ، بلکہ ایم کیو ایم بھی آجکل ان الزمات میں گھری ہوئی ہے۔ ہر طرف شور ہے کہ ایم کیو ایم اور اس کے قائد ’’را‘‘ کے ایجنٹ ہیں اور ’’را‘‘ سے پیسے لیتے ہیں۔ اس سے قبل اے این پی پر ایسے الزامات سالہا سال رہے ہیں۔ قوم پرست سیاست کرنے والے سیاست دانوں پر بھی یہی الزامات لگائے جاتے ہیں۔

گزشتہ دِنوں ملک کے ایک نامور سیاستدان سے ملاقات ہوئی جو ملک میں اقتدار کے ایوانوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں ۔ آج کل اقتدار سے آؤٹ ہیں۔ وہ مجھے میاں نواز شریف کے اقتدار سے چلے جانے پر قائل کر رہے تھے اور ان کی دلیل تھی کہ ہمارے ملک کی اسٹبلشمنٹ نے میاں نواز شریف کی چھٹی کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آج نواز شریف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان خراب تعلقات میں میاں نواز شریف کی بھارت نواز پالیسی کو بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔

ہمارے ملک میں سیاست دان اس وقت جمہوریت کی بقا اور استحکام کی ایک جدو جہد کر رہے ہیں۔ اس جدو جہد میں ان کا سٹبلشمنٹ سے بلا شبہ مقابلہ ہے۔ اسٹبلشمنٹ ہمیشہ سے سیاست دانوں کو نکالنے کے لئے ان کی حب الوطنی کو مشکوک قرار دیتی رہی ہے۔ لیکن اس ضمن میں سیاست دانوں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔ غلام مصطفیٰ کھر کی مثال موجود ہے اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ اس لئے پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور تسلسل کی جنگ لڑنے والے سیاستدانوں کو یہ بات مدنظر رکھنی ہو گی کہ ان کی پاکستان سے محبت اور وفا کسی شک و شبہ سے بالاتر ہونی چاہئے۔ تب ہی وہ جمہوریت کے استحکام میں پاکستان کے عوام کی حمایت ھاصل کر سکیں گے۔ ماضی میں سیاستدان غلطیاں کرتے رہے ہیں، لیکن اب ان کو ایسا کرنے سے اجتناب کرنا ہو گا۔ شائد محمود خان اچکزائی کی بھی وضاحت نا کافی ہے۔ انہیں اپنے افغان تعلقات پر بھی قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے۔

مزید :

کالم -