عوام دھرنوں کی سازش پھر ناکام بنادیں گے ، قوم سرے محل نہیں بھولی ، بیٹا پہلے اپنا احتساب کرو، شہباز شریف بلاول پر برس پڑے

عوام دھرنوں کی سازش پھر ناکام بنادیں گے ، قوم سرے محل نہیں بھولی ، بیٹا پہلے ...

  

لاہور(سٹی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے 60 بستروں پر مشتمل تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال رائے ونڈ کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ نے ہسپتال کا دورہ کیا اور مختلف وارڈز میں گئے اور ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور عمارت کے تعمیراتی کاموں کی تعریف کی۔ وزیراعلیٰ ایمرجنسی وارڈز سمیت دیگر وارڈز میں گئے۔ انہو ں نے ایکسرے روم اور الٹرا ساؤنڈ روم کے علاوہ لیبارٹری کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ ہسپتال میں ڈینٹل کلینک کا بھی معائنہ کیا اور وہاں موجود ڈاکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ ڈیوٹی کے دوران گاؤن لازمی پہنیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتال کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے اور اسے انڈس ہسپتال کے ماڈل پر چلایا جائے اور تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونا چاہیئے۔ وزیراعلیٰ نے دور دراز سے آنے والے عملے اور نرسوں کیلئے فوری طور پر ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے ہسپتال میں ڈاکٹروں، نرسوں، پیرامیڈیکل سٹاف اور صفائی کرنے والے عملے کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں تلقین کی کہ آپ انتہائی مقدس پیشے سے وابستہ ہیں لہٰذا اس پیشے کا تقاضا ہے کہ مریضوں کے علاج معالجے کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیں کیونکہ دکھی انسانیت کی خدمت ایک عبادت سے کم نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ سب مریضوں کے علاج معالجے کیلئے محنت اور جذبے سے کام کریں۔ آپ کے مسائل میں ذاتی طور پر حل کراؤں گا۔ وزیراعلیٰ نے صفائی کرنے والے عملے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے لہذا آپ کا فرض ہے کہ ہسپتال میں صفائی کے انتظامات بہترین بنائیں تاکہ یہاں مریض اور ان کے لواحقین کو صاف ستھرا ماحول میسر آسکے۔ دورے کے بعد وزیراعلیٰ نے ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رائے ونڈ میں 60 بستروں پر مشتمل شاندار اور جدید ہسپتال تحفے کے طور پر شہریوں کے حوالے کر دیا گیاہے۔ جب تک آخری ہسپتال ٹھیک نہیں ہو جاتا میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم اور علاج کی سہولتیں صرف اشرافیہ کیلئے ہیں جبکہ عام آدمی کا بچہ تعلیم اور علاج کیلئے آج بھی دربدر پھرتا ہے۔ یہ وہ پاکستان نہیں جس کا خواب قائدؒ اور اقبالؒ نے دیکھا تھا اور ہمارے آباؤ اجداد نے آگ اور خون کے دریا عبور کئے تھے۔ غریب کو علاج اور تعلیم نہ ملے، یہ ظلم اور زیادتی ہے جو میں نہیں ہونے دوں گا۔ ہماری محنت کا پھل پکنے کو ہے اور یہ عناصر درخت کاٹنا چاہتے ہیں تاکہ درخت پھل نہ دے سکیں لیکن عوام ان کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ جس طرح عوام نے دھرنوں کا دھڑن تختہ کیا اسی طرح اب دھرنا دینے والوں کا عوام ایک بار پھر دھڑن تختہ کر دیں گے۔میں عوام کو پیغام دے رہا ہو ں کہ پاکستان کا مستقبل تابناک اور روشن ہے اور خوشحالی اور ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے اور اس کا پھل پکنے والا ہے۔ بجلی کے متعدد منصوبے 2017 میں توانائی پیدا کریں گے۔ 1320 میگاواٹ کا ساہیوال کول پاور پلانٹ دسمبر 2017 کی بجائے جون 2017 میں 6 ماہ قبل مکمل ہو جائے گا۔عوام اس وقت پاکستان بچانے کیلئے متحد اور اکٹھے ہو جائیں اور اس اتحاد کی طاقت سے ہی مخالفین کی تمام ناپاک سازشیں دم توڑ جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف سے استعفیٰ مانگنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ پہلے اپنا احتساب کریں۔ بیٹا ایک بھی کرپشن کا کیس سامنے آ گیا تو آپ اپنے والد کے ساتھ ہمیشہ لندن اور امریکہ میں ہی رہیں گے۔پہلے اپنا احتساب کرو، قوم سرے محل نہیں بھولی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قوم بہت دکھی ہے۔اب جب اس دکھی قوم کے زخمو ں پر مرہم رکھا جا رہا ہے تو مخالفین سامنے آ گئے ہیں۔ ہم پاکستانی قوم کو عظیم قوم بنائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیئے کہ وہاں مریم نواز تھیں۔ خان صاحب کو سچ بولنا چاہیئے کیونکہ ایک بیٹی کے خلاف جھوٹ بول کر وہ شرمندہ ہوئے ہیں اور ایسی بات انہیں زیب نہیں دیتی۔ اگر مخالفین کو قوم کے دکھوں کا اندازہ ہے تو انہیں ہسپتالوں، سکولوں اور رمضان بازاروں کے چکر لگانے چاہئیں۔ ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر باتیں کرنا بہت آسان ہے۔ مخالفین کا راستہ روکنا پوری قوم کا فرض ہے۔ پاکستان کی ترقی مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی۔ عوام دھرنو ں کی سازش کو ایک بار پھر ناکام بنا دیں گے۔ پاکستان کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔قوم کے اربوں روپے لوٹنے والے آج احتساب کی باتیں کر رہے ہیں۔ملک میں کرپشن کا بازار گرم کرنے والوں سے حساب لیں گے۔ انہو ں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور قوم کی دعاؤں سے صحت یاب ہیں اور بہت جلد وہ وطن واپس آئیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے یہاں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ نے دعا مانگی۔ صوبائی وزیر اوقاف میاں عطا مانیکا، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز کے نائب چیئرمین دوئم جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان، پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین غلام محمد سیالوی، مولانا امجد خان، ڈاکٹر راغب نعیمی، علامہ زبیر ظہیر، مولانا محمد حسین اکبر، مولانا طاہر اشرفی، بادشاہی مسجد کے خطاب ڈاکٹر عبدالخبیر، تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، چیف سیکرٹری، سیکرٹری اوقاف اور اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں رمضان المبارک کے بابرکت ماہ میں ادارے کے افتتاح پر قوم کو مبارکباد دی اور کہاکہ انسٹی ٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز کے قیام کا مقصد قرآن اور سیرت النبیﷺ پر تحقیق کرنا ہے۔اس ادارے کو عظیم مقصد کیلئے بنایا گیا ہے اور یقیناًیہ ادارہ اسلامی دنیا میں عظیم بنے گا۔ علمائے کرام اور مشائخ عظام ادارے میں تحقیق کریں گے اور مقالے لکھیں گے۔ اس ادارے کا عالم اسلام کی عظیم درسگاہوں سے رابطہ ہوگا ۔ انسٹی ٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز اپنی مثال آپ ہوگا اور پوری دنیا میں اپنا نام پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺنے اپنے اعمال سے ثابت کیا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے اور آخر کیا وجہ ہے کہ آج کا مسلمان نفرت اور دوریوں کا شکار ہے اور برداشت و رواداری سے دور ہے، ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کی اکثریت دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی کریم ﷺ نے کفار کے قیدیوں کی رہائی کیلئے بچوں کی تعلیم کی شرط عائد کی۔ نبی پاک ﷺ نے تعلیم کی ضرورت پر اس وقت اس قدر زیادہ زور دیا لیکن ہم آج بھی اس بارے نہیں سوچتے۔ مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے لیکن محض صرف 2 نوبل ایوارڈ حاصل کرسکے ہیں۔ مسلمانوں نے قرآن پاک کے آفاقی پیغام کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

لاہور(سٹی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے جلو پارک میں پاکستان میں بننے والے اپنی نوعیت کے پہلے بوٹینیکل گارڈن کا افتتاح کیا۔ وزیراعلیٰ نے بوٹینیکل گارڈن میں پودا بھی لگایا۔ وزیراعلیٰ نے بوٹینیکل گارڈن میں قائم کئے جانے والے بٹر فلائی ہاؤس کا بھی افتتاح کیا اور افتتاح کے بعد بٹرفلائی ہاؤس کا دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سینکڑوں تتلیوں کو بٹرفلائی ہاؤس میں آزاد کیا۔ وزیراعلیٰ نے افتتاح کے بعد دعا مانگی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بوٹینیکل گارڈن کا منصوبہ ڈیڑھ برس قبل بنایا گیا اور اس منصوبے پر عملدرآمد کی ذمہ داری پی ایچ اے کو دی گئی۔ بوٹینیکل گارڈن کو انتہائی اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے اور اس میں واک ویز، بٹر فلائی ہاؤس، بچوں کیلئے تفریحی سرگرمیاں اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ میں بچوں سے مخاطب ہو کر کہنا چاہتا ہوں کہ آپ سکولوں میں جا کر اپنی ڈرائینگ بکس میں تتلیوں میں رنگ بھرتے ہیں لیکن اس بوٹینیکل گارڈن میں آ کر آپ کو اڑتی پھرتی تتلیاں ملیں گی جو کہ زندگی کے رنگوں میں خوبصورت اضافہ ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان بھر سے لوگ اس جدید بوٹینیکل گارڈن میں تفریح کیلئے آئیں اور زندگی کے رنگوں سے لطف اندوز ہوں۔ اس بوٹینیکل گارڈن میں تفریح کے ساتھ ریسرچ بھی ہوگی اور پیپرز بھی لکھے جائیں گے۔ یہ بوٹینیکل گارڈن عوام کیلئے تفریح کے نئے مواقع کا سبب بنے گا اور عید کی خوشیاں دوبالا کرے گا کیونکہ یہاں پر فوڈ کورٹ بھی قائم کی گئی ہے جہاں پرمزیدار کھانے ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے یہ بوٹینیکل گارڈن ایک اہم کردار ادا کرے گا اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اس طرح کا بوٹینیکل گارڈن خطے میں موجود نہیں۔ وزیراعلیٰ نے ڈی جی پی ایچ اے میاں شکیل، وائس چیئرمین پی ایچ اے افتخار احمد، لاہور کی انتظامیہ، نیسپاک اور نیاز احمد کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارکباد دی۔ وزیراعلیٰ نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس بوٹینیکل گارڈن کو عوام کے سامنے لائے تاکہ قوم کو اچھی خبریں بھی ملیں۔ صرف ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی خبروں کی بجائے یہاں کا سرسبز میدان، ہریالی اور تتلیاں بھی دکھائی جائیں کیونکہ یہی زندگی کے حسین رنگ ہیں جو کہ قوم کے سامنے آنے چاہئیں۔میڈیا ہیجانی کیفیت کے بجائے عوام کو مثبت پہلو دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اچھی چیزیں دکھانی چاہئیں تاکہ قوم میں خوشی کے احساسات پیدا ہوں کیونکہ ہر وقت ٹینشن کی بات کرنا درست نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بوٹینیکل گارڈن کی دیکھ بھال کرنے کے حوالے سے میکانزم تیار کر لیا گیا ہے جس پر پوری طرح عملدرآمد ہوگا۔ انہو ں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ لوگو ں کی بہت بڑی تعداد اس بوٹینیکل گارڈن میں سیرو تفریح کیلئے آئے گی اور یہ پاکستان کا ایک شاندار منصوبہ بن کر سامنے آئے گا۔ منصوبے سے نباتات کے طالب علم بھی مستفید ہو سکیں گے۔ بوٹینیکل گارڈن سے شہریو ں کو صحت مند تفریح کا موقع ملے گا۔بوٹینیکل گارڈن 30 کروڑ روپے کی لاگت سے80ایکڑ رقبے پر بنایا گیا ہے۔ بٹرفلائی ہاؤس کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے انتہائی گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور فش ایکوریم بھی دیکھا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پرمتعلقہ حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔ وزیراعلیٰ کو بٹرفلائی ہاؤس میں سووینئر بھی دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے سووینئر شاپ پر اپنی جیب سے تحائف بھی خریدے۔ وزیراعلیٰ نے بوٹینیکل گارڈن میں پی ایچ اے کے عملے اور مالیوں سے ہاتھ ملایا اور ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بوٹینیکل گارڈن میں انتہائی بہترین کام کیا گیا ہے جس پر میں پی ایچ اے اور آپ سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیراعلیٰ نے پی ایچ اے کے عملے کو پیشگی عید مبارکباد دیتے ہوئے ان کیلئے ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ اپنوں کے ساتھ اچھی طرح عید منائیں گے۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ، اراکین اسمبلی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

مزید :

صفحہ اول -