خطے میں طاقت کا عدم توازن بڑھ گیا ، پاکستان کا امریکہ اور بھارت مین دفاعی تعاون پر اظہار تشویش

خطے میں طاقت کا عدم توازن بڑھ گیا ، پاکستان کا امریکہ اور بھارت مین دفاعی ...

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،صباح نیوز)پاکستان نے امریکاکی بھارت نوازپالیسی پرتحفظات کااظہارکرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکااور بھارت کے دفاعی تعاون پرتشویش ہے اور امریکی پالیسی سے خطے میں طاقت کاعدم توازن بڑھ رہاہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کا حامی ہے لیکن نوشکی ڈرون حملے سے افغان امن عمل کو نقصان پہنچا ہے۔ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں،وزیر اعظم پاکستان کے مشیربرائے امور خارجہ سرتاج عزیزسے سینیٹرجان مکین کی قیادت میں آنے والے امریکی وفد نے ملاقات کی ،ملاقات میں ایف سولہ طیاروں کی فراہمی افغانستان میں امن عمل پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات خطے کی صورتحال اور کولیشن سپورٹس فنڈ سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر امریکی سینیٹر جان مکین کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام سے ملاقات سے پاکستان کے موقف کو سمجھنے میں مدد ملی ہے ، اورامریکی حکومت کو ملاقاتوں کا فیڈ بیک دیں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق ملاقات کے دوران مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے امریکا سے بلوچستان میں ڈرون حملے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نوشکی حملے سے افغان امن عمل کو نقصان پہنچاہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کا حامی ہے لیکن پاک افغان مینجمنٹ دہشتگردوں کی نقل وحرکت روکنے کیلیے ضروری ہے،سرتاج عزیز نے امریکاکی بھارت نوازپالیسی پرتحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہم پرتنقید کی جارہی ہے کہ ایف 16طیاروں کی ڈیل نہیں ہوسکی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امریکااور بھارت کے دفاعی تعاون پرتشویش ہے اور اس امریکی پالیسی سے خطے میں طاقت کاعدم توازن بڑھ رہاہے،امریکی سینیٹرز جان میکین کی سربراہی میں چاررکنی وفد نے ملاقات کی۔ امریکی وفد میں سینیٹر جوڈونیلی، سینیٹر لنڈسے گراہم اور ریپبلکن پارٹی کے رکن ریک ڈیوس شامل تھے۔ ادھر سرتاج عزیز کی سربراہی پاکستانی وفد میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور دیگر اعلی حکام شامل ہیں۔حکومتی ذرائع کے کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران جان مکین کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی دفاعی ضروریات سے آگاہ ہے اور پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں بہتر تعلقات چاہتا ہے، جبکہ اس موقع پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دیں ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پرخلوص کوششیں کیں۔ اس علاوہ دونوں وفود نے ملاقات میں پاک امریکاتعلقات کو مستحکم کرنے سے متعلق بات چیت کی ۔دریں اثنائامریکی سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں آنے والے چار رکنی امریکی وفد نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا،وفد نے قبائلی علاقے میں ضرب عضب آپریشن میں دہشت گردوں سے خالی کروائے گئے علاقے دیکھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مریکی وفدکومیران شاہ میں آپریشن ضرب عضب پربریفنگ دی گئی۔ وفدنے دہشت گردوں کے تباہ شدہ خفیہ ٹھکانوں کابھی دورہ کیا اور شمالی وزیرستان کودہشت گردوں سے خالی کرانے پروفدنے پاک فوج کی کامیابیوں کوسراہا۔ وفدنے پاک فوج کی جانب سے قبائلیوں کی بحالی کے عمل کوبھی سراہا،آئی ایس پی آرکی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق وفد نے شمالی وزیرستان سے افغان بارڈر تک کے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے حوالے سے پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہا۔سینیٹرز نے علاقے میں قبائلی شہریوں کی دوبارہ بحالی کے لیے پاک فوج کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو بھی سراہا۔ بعدازاں وفد کے ممبران نے آپریشن ضرب عضب میں زخمی ہونے والے سپاہیوں اور آفیسران سے بھی ملاقات کی ۔یہ فوجی جوان اور آفیسران ضرب عضب کے پہلے مرحلے میں زخمی ہوئے تھے اور اب دوبارہ انہوں نے محاز جنگ میں شرکت کی ہے۔وفد کے ممبران نے مادر وطن کی حفاظت کے لیے پاکستانی فوجی جوانوں کے عزم و حوصلے کو سراہا۔واضح رہے کہ امریکی سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں آنے والے چار رکنی وفد نے سینیٹر جوڈونیلی،سینیٹر لنڈسے گراہم اور ری پبلکن پارٹی کے رکن ریک ڈیوس شامل ہیں۔سینیٹر جان مکین نے کہا کہ میران شاہ کا دورہ کر کے خوش گوار حیرت ہوئی۔پاکستان سے مثبت پیغام لے کر جا رہے ہیں۔

اظہارتشویش

مزید :

صفحہ اول -