15نمازی اور مسجد سیلا ب میں بہہ گئی ، چترال میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 41ہو گئی

15نمازی اور مسجد سیلا ب میں بہہ گئی ، چترال میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 41ہو ...

  

 چترال/پشاور/اسلام آباد(اے این این،اے پی پی ) پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں نے تباہی کاآغازکردیا،چترال میں سیلاب سے 41افراد جاں بحق،31لاپتہ اور 25زخمی ہو گئے جبکہ 15لاشیں نکال لی گئیں ۔تفصیلات کے مطابق چترال میں آنیوالے ریلے میں 70مکانات،مسجد اور سکیورٹی چیک پوسٹ بہہ گئی ،مسجد گرنے سے 15افراد جاں بحق،20زخمی اور کئی لاپتہ ہوئے،چیک پوسٹ پر مامور8اہلکار بھی لاپتہ جبکہ 4زخمی ہو گئے ،ریلے میں بہہ جانے والے 8افراد کی لاشیں سرحد پار افغان علاقے سے برآمد ہوئیں ،علاقے میں مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور کئی علاقوں کا راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے،ضلع بھر میں ایمرجنسی نافذ،پاک فوج طلب،چترال اسکاؤٹس، بارڈر پولیس اور چترال پولیس بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف،صوبائی حکومت کا متاثرہ خاندانوں کے لئے 3لاکھ فی کس امداد کا اعلان ،وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور متاثرہ خاندان کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کا حوصلہ دے ۔انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر وفاقی ریسکیو اینڈ ریلیف کے اداروں کو ہدایت کی کہ سیلاب میں پھنسے اور بہہ جانے والے افراد کی تلاش کیلئے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں تیز کی جائیں تاکہ ضرورت مند لوگوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے ۔وزیر اعظم نے چترال میں سیلاب کی صورت حال کے بارے میں انہیں آگاہ رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔جبکہ دیر کے دریائے پنجکوڑ میں بھی طغیانی ،خاتون ڈوب کر لاپتہ،ڈیرہ غازی خان میں مکان کی چھت گرنے سے نوجوان جاں بحق ،4افراد زخمی ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق چترال میں مون سون کی بارش نے ایک ہی دن میں تباہی مچا دی ہے ۔علاقے میں طوفانی بارش اور گلیشیئر پگھلنے سے 70سے زائد مکانات اور ایک مسجد آبی ریلے میں بہہ گئے ۔مسجد کی چھت گرنے سے 15افراد جاں بحق اور 20زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاع ہے۔یہ افراد نماز تراویح میں مصروف تھے جب سیلابی ریلے نے آ لیا۔یہ تباہی چترال کے علاقے ارسون میں ہوئی ہے۔علاقے میں 31افراد سیلاب میں بہہ گئے ہیں جن میں 15لاشیں نکال لی گئی ہیں جن میں سے 8لاش سرحد پار سے افغان علاقے تاڑے سے ملی ہیں جبکہ 21تا حال لاپتہ ہیں ۔سماجی کارکن محراب الدین نے بتایا کہ سیلاب کے بعد آنے والے ریلے سے 50سے 70مکانات پانی میں بہہ گئے ہیں۔ علاقے میں مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور کئی علاقوں کا راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر تھانہ دورش کے علاقے میں ایک مکان سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے دو خواتین سمیت پانچ افراد تا حال لاپتہ ہیں۔ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ نے 31افراد کے لاپتہ اور 17ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی ریلے سے چترال کے علاقے ارسون میں 37 گھر مکمل تباہ ہوئے، جبکہ 48گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے، آٹھ افراد کی لاشیں سرحد پار افغانستان کے علاقے تاڑے سے ملی ہیں ۔جب کہ سیلابی ریلے سے مسجد شہید ہوئی ہے۔ سیلابی ریلے سے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ بھی بہہ گئی ہے جس میں موجود آٹھ اہلکار لا پتہ ہیں اور چار زخمی ہیں۔اسامہ وڑائچ کا کہنا تھا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقے دور افتادہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات بھی درپیش ہیں تاہم مقامی انتظامیہ کی جانب سے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے علاوہ اشیائے خورونوش فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں میڈیکل کیمپ بھی لگایا جائے گا۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے میں کم از کم 31 افراد بہہ کر جاں بحق ہوئے ہیں جن میں سے 10 افراد ایک مسجد میں عبادت میں مشغول تھے۔ پاک فوج، چترال اسکاٹس، بارڈر پولیس اور چترال پولیس امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے اور اب تک 8 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ہو چکی ہے تاہم مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے۔ڈی پی او چترال آصف اقبال کا کہنا ہے کہ جنوبی چترال میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں، سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 31 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 8 سیکیورٹی اہلکار، ایک خاتون اور4 بچے بھی شامل ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے متاثرین کی مدد کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے ہیلی کاپٹرمانگ لیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت ہلاک افراد کے لواحقین کو فی کس تین ،تین لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کوامدادی کارروائیاں تیزکرنے کی ہدایت کر دی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ قدرتی آفت سے متاثرہ اور لاپتہ افراد کی تلاش ہرصورت ممکن بنائی جائے۔یاد رہے کہ گذشتہ سال بھی چترال میں بارشوں کے بعد سیلاب آیا تھا۔ جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ سیلاب کی وجہ سے کئی سڑکیں اور پل پانی میں بہہ گئے تھے۔دوسری طرف اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا۔ محکمہ موسمیات نے اگلے دو سے تین روز کے دوران پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر کے اکثر علاقوں میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ادھر ڈیرہ غازی خان میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے نوجوان جاں بحق ہو گیا ہے ۔حادثے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ، ایک نوجوان کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ گزشتہ رات ہونے والی طوفانی بارش کے نتیجے میں شہزاد کالونی میں ایک گھر کی چھت گر گئی جس سے سولہ سال کا نوجوان مہران عباس جاں بحق جبکہ اٹھارہ سالہ نعمان عباس شدید زخمی ہو گیا ۔ اس کے علاوہ خواتین اور بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے ۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نعمان عباس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔ اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو ملبے میں سے نکالا ، ریسکیو 1122نے راستہ خراب ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا ۔ ادھر اپردیرمیں طوفانی بارش کے بعد دریائے پنجکوڑہ میں شدید طغیانی ہے۔ سیلابی ریلے میں بہہ کر خاتون لاپتا ہوگئی۔دوسری جانب چیئرمین این ڈی ایم اے اصغر نواز کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے میں 28 افراد جاں بحق ہوئے جن کی تلاش کا کام جاری ہے، سیلابی ریلے میں ایک مسجد، ایک سکیورٹی چیک پوسٹ اور 46مکانات تباہ ہوئے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقے ارسون میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر غذائی اشیا اور طبی سامان لے کر پہنچ چکا ہے جب کہ زخمیوں کو ارسون سے چترال پہنچا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ملک میں جاری قیامت خیز گرمی کا زور ٹوٹ گیا ،رحمتوں اور برکتوں والی شب میں پنجاب کے اکثر شہروں میں ہونے والی بارشوں سے شہریوں کے چہرے کھل اٹھے جبکہ محکمہ موسمیات نے بھی آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں وفاقی دار الحکومت سمیت پنجاب ، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کر دی۔نجی ٹی وی کے مطابق محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بالائی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش جاری ہے جبکہ اگلے دو روز میں اٹک ، میانوالی ، چکوال ، لیہ ، بھکر اور ملحقہ علاقوں میں بھی موسلادھار بارش ہو گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی جب کہ آئندہ دو روز میں پنجاب ، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے اکثر علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

مزید :

صفحہ اول -