کیا حکومت نے متحدہ اپوزیشن کی تحریک ک جواب میں اپنی حکمت عملی وضع کر لی ؟

کیا حکومت نے متحدہ اپوزیشن کی تحریک ک جواب میں اپنی حکمت عملی وضع کر لی ؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

حزب اختلاف کی جماعتوں نے جو اپنے آپ کو ’’متحدہ‘‘ کہلانا پسند کرتی ہیں، اپنا ہر اقدام عید کے بعد پر ٹال دیا ہے۔ عمران خان عید کے بعد سڑکوں پر آئیں گے، پیپلز پارٹی عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک شروع کرے گی۔ پاک سرزمین پارٹی عید کے بعد اپنا اگلا لائحہ عمل سامنے لائے گی۔ متحدہ (ایم کیو ایم) بھی اپنی حکمت عملی سے عید کے بعد پردہ اٹھائے گی۔ حج سکینڈل میں سزا یاب ہونے والے پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر مذہبی امور کے حامی بھی عید کے بعد سڑکوں پر اپنا جلوہ دکھانا شروع کریں گے۔ گویا وہ کرپشن میں سزا یافتہ شخص کی حمایت میں میدان میں اتریں گے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں کرپشن کے خلاف تحریک چلا رہی ہوں گی، عجیب منظر ہوگا۔ الیکشن کمیشن میں دھڑا دھڑ جو ریفرنس دائر ہو رہے ہیں، ان کی سماعت بھی عید کے بعد ہوگی، جب کمیشن مکمل ہوگا۔ گویا ہر کام اگر عید کے بعد ہونا ہے تو حکومت بھی جوابی طور پر عید کے بعد ہی متحرک ہوگی۔ لیکن شہباز شریف نے عید سے پہلے ایک ٹریلر چلا دیا ہے، فلم کی نمائش عیدالفطر کے روز (یابعد میں) ہوگی، ٹریلر یہ ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک بھی کرپشن کیس کھل گیا تو بلاول بیٹے کی زندگی بھی لندن اور امریکہ میں گزرے گی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کون سا کیس ہوگا۔ چرچے تو سندھ کے حوالے سے بہت سے کیسوں کے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم نے بھی جو ویڈیو ریکارڈ کرائی ہیں، ان کا بھی کوئی سلسلہ چل نکلے گا۔ تو گویا یہ طے ہے کہ عید کے بعد صرف تحریک ہی نہیں چلے گی اور بھی بہت کچھ چلے گا، اس لئے محترم قارئین عید تک تو آپ مطمئن رہیں جواب زیادہ دور نہیں۔ اب جو بھی ہونا ہے عید کے بعد ہونا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی آمد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں کہ وہ عید سے پہلے آئیں گے یا بعد میں۔ باخبر حلقے 5 جولائی کی تاریخ بھی دے رہے ہیں، اگر وہ اس تاریخ کو آگئے تو عید لاہور میں کریں گے، بصورت دیگر لندن ہی میں ان کی عید ہوگی۔ عمران خان بھی لندن میں عید منائیں گے، آصف علی زرداری اور بلاول کی عید بھی لندن میں ہوگی۔ تاہم اگر پیپلز پارٹی تحریک میں سنجیدہ ہے تو پھر مشاورت کے لئے پارٹی رہنماؤں کو لندن یا دبئی طلب کیا جاسکتا ہے، جہاں حتمی فیصلہ ہوگا کہ تحریک کب اور کیسے چلائی جائے اور آغاز کس طرح کیا جائے؟ البتہ پارٹی رہنماؤں کے بعض بیانات ایسے ہیں جن سے رجائیت نہیں، قنوطیت جھلکتی ہے۔ مثلاً خدشہ یہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن کی بعض جماعتیں سولو پرواز شروع نہ کر دیں۔ یہ خدشہ عمران خان سے ہے، اس لئے بار بار کہا جا رہا ہے کہ تنہا پرواز خطرناک ہوگی۔ چودھری اعتزاز احسن بار بار اعلان کر رہے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ ہیں، تاہم یہ یقینی نہیں کہ وہ کنٹینر پر بھی سوار ہوں گے یا نہیں، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ کنٹینر پر چڑھیں یا نہ چڑھیں، وہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔ اب دیکھیں اس کی عملی شکل کیا بنتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب عمران خان، آصف علی زرداری اور نواز شریف کا ذکر ایک ہی سانس میں کرتے تھے۔ پھر انہوں نے آصف علی زرداری کو ’’معاف‘‘ کر دیا اور نواز شریف کو نشانے پر رکھ لیا۔ آخر آخر وہ یہ کہنے لگے کہ نواز شریف سے بہتر تو آصف زرداری تھے۔ آج کل وہ خورشید شاہ کے بھی قریب ہیں، جنہیں دھرنے کے دنوں میں وہ وزیراعظم کا منشی کہتے تھے۔

بہرحال اب انتظار رہے گا کہ تحریک عید کے بعد کب شروع ہوگی۔ کیا اس سے مراد عید کی سرکاری چھٹیاں ہیں؟ تیاریوں میں ہفتہ عشرہ تو لگے گا، اس وقت تک لفظی جنگ چلتی رہے گی۔ شہباز شریف نے رائیونڈ میں بلاول کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے جواب میں ابھی قمرزماں کائرہ اور سینیٹر سعید غنی میدان میں آئے ہیں۔ ان کے بعد غالباً مولا بخش چانڈیو شہباز شریف کو کھری کھری سنائیں گے، کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی بلاول کے لئے مصرع طرح اٹھائے تو مولا بخش چانڈیو اس پر پوری غزل نہ کہہ دیں۔ یوں یہ سلسلہ عید تک تو چلے گا، اس کے بعد اگر تحریک شروع ہوگئی تو پوری توجہ تحریک پر مرکوز ہو جائے گی۔ ویسے اس بات کا قوی امکان ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے کچھ ستارے اپنی چمک الگ الگ دکھائیں اور تنہا پرواز کو ترجیح دیں، جس کا اندازہ بعض رہنماؤں کے بیانات سے ہوتا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چودھری اعتزاز احسن کی پالیسی زیادہ عرصے تک نہیں چل سکے گی اور حتمی فیصلہ وہی ہوگا جو آصف زرداری کریں گے اور ان کا فیصلہ چودھری اعتزاز احسن سے مختلف بھی ہوسکتا ہے، اس لئے انہوں نے اپنے بیان میں یہ گنجائش رکھی ہے کہ ہم تحریک انصاف کے ساتھ ضرور ہیں، البتہ یہ ضروری نہیں کہ کنٹینر پر اکٹھے ہوں۔ انہیں خدشہ ہے کہ آصف علی زرداری کا فیصلہ مختلف ہوا تو پھر شاید ان کی پالیسی زیادہ دیر تک نہ چل سکے۔

شہباز شریف نے وزیراعظم کا استعفا مانگنے والوں سے کہا کہ وہ اپنے گریبانوں میں جھانکیں، پہلے اپنا احتساب کریں۔ بلاول کے بارے میں انہوں نے کہا ’’بیٹا ایک بھی کرپشن کا کیس سامنے آگیا تو آپ اپنے والد کے ساتھ ہمیشہ لندن اور امریکہ میں ہی رہیں گے۔‘‘ انہوں نے دھرنے والوں کو بھی للکارا اور کہا جس طرح عوام نے دھرنوں کا دھڑن تختہ کیا، اسی طرح اب دھرنا دینے والوں کا عوام ایک بار پھر دھڑن تختہ کر دیں گے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے تحریک چلانے اور سڑکوں پر آنے کے اعلانات کے بعد اپنی جوابی حکمت بھی تیار کرلی ہے اور جوں جوں تحریک کی پرتیں کھلیں گی، جوابی حکمت عملی کے تیور بھی سامنے آتے رہیں گے؟

جوابی حکمت عملی

مزید :

تجزیہ -