کماد کی فی ایکڑزیادہ پیداوار کا حصول کیسے ممکن ہے

کماد کی فی ایکڑزیادہ پیداوار کا حصول کیسے ممکن ہے

  

کامرس رپورٹر

کماد صوبہ پنجاب کی ایک اہم اور نقد آور فصل ہے اور اس وقت اس کی اوسط پیداوار تقریباً 656من فی ایکڑ ہے جبکہ اس کی پیداواری صلاحیت کہیں زیادہ ہے۔ ترقی پسند کاشتکار 1000 من فی ایکڑ سے زائد پیداوار لے رہے ہیں اور ایسے کاشتکاروں کی مثالیں بھی موجود ہیں جنہوں نے 1500 تا 2000 من فی ایکڑ ریکارڈ پیداوار لی ہے جس سے پنجاب میں گنے کی پیداواری صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کماد کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار حصول کے اہم پیداواری عوامل میں کھادوں کا متناسب استعمال، آبپاشی و جڑی بوٹیوں کی تلفی اور فصل کاضرر رساں کیڑوں اور بیماریوں سے تحفظ شامل ہیں۔کماد کی فصل پر جڑ ، تنے ،چوٹی اور گورداسپوری کے گڑووں کا حملہ زیادہ ہوتا ہے ،اگر ان گڑووں کا بروقت انسداد نہ کیا جائے تو فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے ۔اس مضمون میں کماد کے گڑووں کی پہچان ، نقصان کی علامات اور انسداد بارے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ کماد کے چوٹی کے گڑویں کے پروانے کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ مادہ کے پیٹ کے سرے پر بھورے رنگ کے بالوں کا گچھا ہوتا ہے ۔ سنڈی کا رنگ سفید اور پیٹ پر لمبے رخ ایک گہرے بھورے رنگ کی دھاری ہوتی ہے۔ فصل کو اس بوررسے شدید نقصان پہنچتا ہے مارچ سے نومبر تک اس کی 4تا5نسلیں حملہ آور ہوتی ہیں۔ پہلی نسل اوائل مارچ میں حملہ آور ہوتی ہے جبکہ دوسری مئی میں تیسری جولائی میں اور چوٹھی اگست میں نکلتی ہے۔ سوک کو آسانی سے کھینچا جاسکتا ہے ۔ گنے کی چوٹی کی طرف شاخوں کا گچھا سا بن جاتا ہے۔ کماد کے تنے کے گڑویں کے پروانے کا رنگ بھورا، اگلے پروں کے باہر کناروں پر سیاہ دھبوں کی قطار ہوتی ہے۔ سنڈی کا رنگ مٹیالا سفید یا زرد اور جسم کے اوپر بھورے رنگ کی پانچ دھاریاں ہوتی ہیں۔ سردیاں سنڈی کی حالت میں مڈھوں میں گزارتا ہے۔ فروری مارچ میں پروانے نکلتے ہیں اور نومبر تک 5نسلیں جنم لیتی ہیں۔ اپریل سے جون تک حملہ شدید ہوتا ہے۔ مئی جون میں سوک دیکھی جاسکتی ہے جو آسانی سے باہر نہیں کھینچی جاسکتی ہے۔ سنڈی جولائی میں تنے میں سرنگیں بناتی ہے اور یہ عمل ستمبر اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔ گنے کے پہلو میں شاخیں نکل آتی ہیں ۔ خشک سالی میں نقصان زیادہ ہوتا ہے۔کماد کے جڑکے گڑویں کے پروانے کارنگ ہلکا زردی مائل بھورا ہوتا ہے جبکہ سنڈی کا رنگ سفید دودھیا ، سرکارنگ زرد بھورا اور جسم جھری دار ہوتا ہے ۔ یہ کیڑا موسم سرما سنڈی کی حالت میں مڈھوں میں گزارتا ہے ۔ اپریل سے اکتوبر تک تین نسلیں پیدا ہوتی ہین۔ سنڈی زمین کی سطح کے برابر مڈھ کے تنے میں سوراک کرکے داخل ہوتی ہے اورسرنگ بناتی ہوئی نیچے چلی جاتی ہے۔ پودے کی کونپل کے ساتھ ایک دو پتے مرجھا کر خشک ہوجاتے ہیں اور سوک بھی ظاہر ہوتی ہے۔ شروع میں اگتی ہوئی فصل کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے خشک سالی میں نقصان زیادہ ہوتا ہے۔کماد کے گورداسپوری گڑویں کے پروانے کا رنگ مٹیالا بھورا اور اگلے پروں کے کناروں پر سات سیا ہ دھبے ہوتے ہیں۔ سنڈی کا رنگ بادامی، سر بھورا اور جسم پر لمبائی کے رخ سرخی مائل چار دھاریاں ہوتی ہیں۔ یہ کیڑا نومبر سے مئی تک سنڈی کی حالت میں کماد کے مڈھوں میں گزارتا ہے ۔ بارش کی آمد کے ساتھ جولائی میں پروانے نکلتے ہیں۔ سنڈیاں گنے کے اوپر والے حصے کی گانٹھ سے تھوڑا اوپر تدنے کے چھلکے کا یک حلقے میں کتردیتی ہیں اور پھر ایک سپر نگ نما سرنگ بناتی ہیں۔ اس سے اوپر کا حصہ پہلے مرجھا جاتا ہے اور پھر بالکل سوکھ جاتا ہے۔ ہوا کے جھکڑ سے یا ہاتھ لگانے سے متاثر ہ گنے کا اوپر والا حصہ آسانی سے ٹوٹ کر گرسکتا ہے۔ حملہ عام طورپر ٹکڑیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ لہذا کھیت کے گرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر نقصان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔گڑووں کے طبعی انسداد کے لیے کماد کے کھیتوں میں مارچ تا اکتوبر روشنی کے پھندے لگائیں۔ یہ پروانے تلف کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جون میں پودوں کے سوک والے تنے زمین کے برابر سے کاٹ کر اکٹھے کرکے دبادیں۔ اس سے ان میں موجود سنڈیاں تلف ہوسکیں گی۔ ایسے سوک والے تنوں کا گنا بھی نہیں بنتا۔کماد کی برداشت کے وقت پودوں کو زیر زمین یا کم ازکم زمین کے برابر سے کاٹیں۔ اس سے گرداسپوری گڑوووں کی سنڈیاں کافی حد تک تلف ہوجائیں گی۔ مئی ، جون میں فصل کے مڈھوں پر مٹی چڑھائیں۔ اس سے گورداسپوری گڑوویں کے پروانے مڈھوں سے باہر نکل کر فصل پر حملہ آور نہیں ہوسکیں گے۔محکمہ زراعت یا شوگر ملز کی لیبارٹریوں سے دستیاب مفید کیڑوں کے کارڈ لے کر شروع ہی سے کھیتوں میں لگائیں۔ گورداسپوری بورر کا حملہ چونکہ ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ لہذا جولائی ، اگست میں فصل کا باقاعدگی سے مشاہدہ کرتے رہیں اور اگر کہیں حملہ نظر آئے تو حملہ شدہ پودوں کے متاثرہ حصے سے دویا تین پوریاں نیچے سے کاٹ کر جانوروں کو کھلایا جائے یا زمین میں دبا دیا جائے ۔ گورداسپوری گڑوویں کے شدید حملہ شدہ کھیت سے مونڈھی فصل ہرگز نہ رکھی جائے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -