حکومت ہماری تجاویز سننے اورمسائل حل کرنے کیلئے تیار نہیں:چوہدری محبو ب علی سر کی

حکومت ہماری تجاویز سننے اورمسائل حل کرنے کیلئے تیار نہیں:چوہدری محبو ب علی ...

  

انٹر ویو ۔ اسد اقبال

چوہدری محبو ب علی سر کی کا شمار ملک کے معروف تاجر رہنماؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے کم عمری میں ہی تاجر سیاست میں حصہ لینا شر وع کر دیا جن کی تاجر برادری کے حوالے سے خدمات کے پیش نظر انھیں منجھا ہوا تاجر لیڈر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ محبو ب علی سر کی کا تعلق لاہور سے ہے جو ماربل کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ماربل سیکٹر میں ان کی خدمات اور حکومتی ایوانوں میں ماربل انڈسٹری کو درپیش مسائل کو پہنچانا اور ان کے حل کے لیے تغ و دو کرنا انھوں نے اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا ہے جس کے پیش نظر محبو ب سر کی کی خدمات اور تاجر سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے بعد آج وہ آل پاکستان انجمن تاجران (میر گروپ)پنجاب کے صدر ہیں جبکہ وہ فیروز پور روڈ ٹر یڈرز ایسو سی ایشن بورڈ کے چیئر مین کے فرائض بھی سر انجام دے رہے ہیں ۔محبوب سر کی انجمن تاجران (مقصو د بٹ گروپ )کے چیئرمین اور جنرل سیکرٹری کے فرائض بھی سر انجام دے چکے ہیں ۔ گزشتہ روز "روزنامہ پاکستان "کے بزنس پاکستان کے لیے ان سے انٹرویو کیا گیا ۔ جس میں چوہدری محبو ب علی سر کی نے ماربل انڈسٹری کو در پیش مسائل اور ملکی معیشت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ تاجروں کی خدمت ان کا شیوہ ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے میرے دروازے دن رات کھلے ہیں ۔

چوہدری محبو ب علی سر کی کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا بجٹ کاروبار برادری پر کوہ گراں بن کر گرا ہے جس کے پیش نظر رمضان المبارک میں کاروباری سر گر میاں ماند پڑ گئی ہیں جبکہ بجٹ میں کنسٹر کشن آئٹم پر 25فیصد ٹیکس سے سیمنٹ ، ماربل اور لوہے کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ ہو گیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ سے قبل کئی وعدے کیے تھے کہ بجٹ تاجر رہنماؤ ں کی مشاورت سے بنا یا جائے گا تاہم مشاورت تو دوروفاقی حکومت نے بجٹ میں ود ہو لڈنگ ٹیکس کی شر ح میں اضافہ اور بنکوں سے رقوم کے لین دین پر اضافی کٹو تی سمیت بجلی کے استعمال پر عائد کر دہ ٹیکسز کی شر ح میں اضافے نے تاجر برادر ی کو مایو س کیا ہے جس سے کاروبار سر گر میوں پر بھی منفی اثرات مر تب ہوئے ہیں ۔علاوہ ازیں بجٹ کے بعد ایف بی آر کا سفید گھوڑا تاجروں کو چن چن کر بدلے لے رہا ہے اور بلا جواز تاجروں کو ہراساں کیا جارہا ہے جس کی بھر پور مذمت کر تے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ غریب کا جینا دوبھر ہو چکا ہے بجٹ میں تنخواہوں میں پچاس فیصد تک اضافہ کر نا چائیے تھا تاہم صر ف دس فیصد اضافہ مہنگائی کے اس دور میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے ۔ انھوں نے کہا موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں بے روزگاری کی شر ح میں اضافہ نے سابقہ حکومتوں کے ریکارڈ تو ڑ دیے ہیں جس کی وجہ ملک میں جاری توانائی کا بحران ہے جس پر صر ف زبانی جمع خر چ کر کے عوام کو بے و قو ف بنایا جارہا ہے ۔

محبو ب علی سر کی کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔ کراچی جو ملکی معیشت کا حب سمجھا جاتا ہے ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں نے کراچی کا سکون بر باد کر دیا ہے اور کراچی کے تاجرغیر ممالک میں سر مایہ کاری او ر کاروبار کر نے کو تر جیح دے رہے ہیں جبکہ پنجاب میں بھی ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کے پیش نظر تاجر خوف میں مبتلا ہیں کیو نکہ یہاں پر بھی بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ بڑھنے لگی ہے اور تاجر خود کو دکانوں میں بھی غیر محفو ظ سمجھ رہے ہیں حکو مت کو چائیے کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تھنک ٹینک اقدامات اٹھاتے ہوئے سندھ کی طر ح پنجاب کے بڑے شہروں لاہور ، سیالکوٹ ، راولپنڈی ، فیصل آباد ، ملتان اور گوجرانوالہ میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرواتے ہوئے تاجروں کو جدید اسلحہ رکھنے کے لائسنس جاری کر یں اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تجارتی مراکز پر سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں۔انھوں نے کہا کہ جب تک اس ملک کا تاجر خوف کے غبار سے نہیں نکلتا تب تک کاروباری سر گر میاں پروان نہیں چڑھ سکتیں ۔انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت بجٹ میں کنسٹر کشن آئٹم سمیت دیگر پروفیشنل ٹیکس کا خاتمہ کر کے کاروبار ی طبقہ کو عید پر "تحفہ "دیں ۔

چوہدر ی محبو ب سر کی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ تین چار ماہ سے اضافہ نہ کر کے عوام کو ریلیف دیا ہے تاہم اس کے باوجود اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ سمجھ سے بالا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حکو مت کے پاس کو ئی ایسا میکنز م موجود نہیں ہے جس سے مصنوعی مہنگائی کی شر ح میں اضافہ بدستور جاری ہے اور شہریوں کی قو ت خرید جواب دے چکی ہے ۔انھوں نے کہا کہ حکو مت مہنگائی کا قلع قمع کر نے کے لیے قائم کر دہ پرائس کنٹرول اداروں کو ہوش میں لائیں اور ان سے دفاتر میں بیٹھ کر کاغذی کاروائی کر نے کی بجائے عملی طور پر باہر نکل کر مصنوعی مہنگائی کر نے والوں کے خلاف کر یک ڈاؤ ن کر یں تاکہ عوام مصنوعی مہنگائی سے بچ کر سکھ کا سانس لیں سکیں اور زندگی بہتر طر یقہ سے گزار سکیں ۔

چوہدری محبو ب سر کی کا کہنا تھا کہ توانائی کے بدترین بحران نے معیشت کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا۔جس سے ہزاروں انڈسٹر یاں بند اور غیر ملکی سر مایہ کاروں نے پاکستان میں سر مایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔جس سے معیشت کا گراف نیچے آ رہا ہے ۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، یہ دودھ اور کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا، گندم پیدا کرنے والا آٹھواں بڑا، چاول پیدا اور افرادی قوت رکھنے والا دسواں بڑا ملک ہے لیکن ان وسائل کو بے دردی سے ضائع کیا گیا۔موجودہ حکومت سمیت ماضی کے حکمرانوں نے نہ اس ملک کے لیے کچھ کیا ہے اور نہ ہی عوام کا ۔ مہنگائی کا گراف اس قدر بڑھ چکا ہے شہریوں کی قو ت خرید جوا ب دے گئی ہے جبکہ تاجروں کے کاروبار نہ ہو نے کے برابر رہ گئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنی ساکھ بچانی ہے تو وہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے سنجید گی کا مظاہرہ کر یں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کو علاقائی تجارت کے فروغ اور ویلیو ایڈیشن کی طرف خاص توجہ دینا ہوگی۔ملک میں پیدا ہونے والے قیمتی و نیم قیمتی پتھروں اور نمک سمیت دیگر بہت سی معدنیات کو خام حالت میں ہی برآمد کردیا جاتا ہے جس سے ملک کو وہ فائدہ نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ پاکستان کو وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ریلوے لنک قائم کرنے چاہیئیں جس سے ان ریاستوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ماضی میں توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کے فقدان کا خمیازہ ملک بھر کے صنعتی و تجارتی شعبے کو بھگتنا پڑا ہے، توانائی کے بحران کی وجہ سے صنعتی پیداوار کم ہوئی جس کے منفی اثرات برآمدات پر واضح دیکھے جاسکتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ اگر ہم نے سستی اور وافر بجلی کی پیداوار یقینی نہ بنائی تو سرمایہ دیگر ممالک منتقل کرنے کا رحجان بڑھے گا جو کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔نجی شعبے کو چاہیے کہ توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے جبکہ حکومت کو چاہیے کہ ان سرمایہ کاروں کو سہولیات دے۔

انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حکو مت وقت تاجروں و صنعتکاروں کو در پیش مسائل کے ازالہ کے لیے دستاویزی معیشت میں حکو مت رضا کارانہ شا مل ہو نے کا اعلان کر ے اور اس میں جو بھی رکاوٹ آئے اس کو دور کر ے جبکہ کا لے قانون کو ختم کر نے کے لیے FBRکو لا محدود اختیارات دیے ہیں جس سے تاجروں کا ایف بی آر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے جس سے تاجر طبقہ خوف کا شکار ہے جس کے پیش نظر تاجر ٹیکس کی ادائیگی نہیں کر پاتے لہذا حکو مت ایف بی آر کے نظام میں اصلاحات لاتے ہوئے ایسا ٹیکس سسٹم متعارف کروائے جس سے ٹیکس فارم بھر نے میں آسانیاں پیدا ہو سکیں اور تاجروں پر ایف بی آر کا خوف ہٹانے کے لیے ایف بی آر میں چھپی کالی بھیڑوں اور کر پٹ افسران کو باہر کیا جائے ۔حکومت پچھلے دس سال میں آنیوالی ترسیلات زر کی آڈٹ رپورٹ منظر عام پر لائے۔ حکومت بتائے کہ کتنے ورکرز نے کتنی رقم پاکستان بھجوائی اس قانون کی آڑ میں بااثر افراد اورخاندانوں نے کتنا کالا دھن سفید کیا۔ کرپشن اور لوٹ مار کے پیسوں کو تحفظ دینے والے کالے قوانین کا خاتمہ کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کی حلال کمائی کو کالا دھن قرار دینے والے خود کون سے دودھ کے دھلے ہیں۔ مراعات یافتہ طبقے اورچھوٹے تاجروں کیلئے قانون الگ الگ کیوں ہے؟حکومت بتائے یکم جولائی سے نافذ کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس سے معیشت کو ڈاکومنٹ کرنے میں کیا اہداف حاصل کئے گئے

چوہدری محبو ب علی سر کی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بیوروکریسی حکومت اور تاجروں کے درمیان اختلافات پیدا کرکے تصادم کی راہ ہموار کررہی ہے۔ تاجر برادری وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے محبت کرتی ہے۔ مگر بیورو کریسی اس رشتے کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ہم ایمانداری سے کاروبار کرنیوالے تاجر ہیں ٹیکس چوروں کے نمائندے نہیں ۔ ہر نان فائلر ٹیکس چور نہیں ہے۔موجودہ صورتحال میں حکومت ہماری تجاویز سننے اور اس کو حل کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔اگر حکو مت تاجر رہنماؤ ں سے لائیزن بنا کر چلے تو اس سے نہ صر ف حکو متی ریو نیو میں اضافہ ممکن ہے بلکہ کاروبار سر گر میاں پر وان چڑھنے سے ملکی معیشت مظبو ط اور ملک تر قی و خو شحال کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے ۔جس کے لیے توانائی بحران کا خاتمہ بھی حکومت وقت کی اولین تر جیح ہو نی چائیے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -