نادار اور غریب عوام کے لئے ڈاکٹر آصف محمود کی مثالی خدمات

نادار اور غریب عوام کے لئے ڈاکٹر آصف محمود کی مثالی خدمات
 نادار اور غریب عوام کے لئے ڈاکٹر آصف محمود کی مثالی خدمات

  

ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا شمار ایسے ڈاکٹروں میں ہوتا ہے جو ’’ڈاکٹری‘‘ کو عبادت تصور کرتے ہیں۔ اس لئے کہ حضرت انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف اعلیٰ حاصل ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی پہچان کا اصل حوالہ شعبہ طب ہے۔ وہ بلاشبہ ایک ممتاز معالج ہیں اور ان کی میڈیکل پریکٹس سو فی صد فی سبیل اللہ ہے جس کے عوض وہ ایک ٹیڈی پیسہ بھی بطور معاوضہ یا اعزاز یہ نہیں لیتے۔ وہ محکمہ کسٹمز میں کلکٹر کے عہدے پر فائز ہیں اور کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام لاہور کے جہانزیب بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن میں مکمل طور پر ایک فری (مفت) ہسپتال چلا رہے ہیں۔

انھوں نے اپنے رہائشی علاقے میں غریبوں کے لئے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری بنائی۔ ڈسپنسری کے ساتھ لیبارٹری قائم ہوئی تو مخیر حضرات مل گئے اور یوں کارواں بنتا چلاگیا۔ وہ ڈسپنسری اب کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی چیریٹی اسپتال بن چکی ہے اور اس میں ہر شعبے کے اسپیشلسٹ معالجین بیٹھتے ہیں اور مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک افطار پارٹی میں ڈاکٹر صاحب نے اعلان کیا کہ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی ماہ رمضان میں دو ہزار سے زائد مستحق خاندانوں میں راشن، کپڑے، دو ہزار انرجی سیور مع بیٹری تقسیم کرے گی۔مالیت کے لحاظ سے یہ رقم لاکھوں میں بنتی ہے۔ لاہور میں قائم کردہ چیرٹی ہسپتال کے ذریعے پانچ لاکھ سے زائد مستحق مریضوں کو علاج معالجے کی مفت سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ضلع تھرپارکر میں 50 کنوؤں کی مدد سے پینے کا صاف پانی مہیا کر دیا گیا ہے، جبکہ سیلاب سے متاثرہ اٹاری جھنگ میں متاثرہ لوگوں کو 50 سے زائد مفت گھر تعمیر کر دیئے گئے ہیں۔ ٹائیفائیڈ کی روک تھام کے لئے ویکسین فراہم کی گئی جس کے ذریعے لاکھوں بچے، مرد و خواتین مستفید ہو چکے ہیں۔ صوبہ پنجاب سرحد اور بلوچستان میں مستقل طور پر ماڈل کلینک قائم کئے گئے ہیں جہاں مستحق افراد کو علاج معالجہ کی مفت سہولتیں فراہم ہو رہی ہیں۔

ملک کے کسی بھی حصے میں جب بھی زلزلہ، سیلاب یا قحط کی صورت میں کوئی آفت آئی، ڈاکٹر آصف محمود جاہ اپنی ٹیم کے ہمراہ وہاں پہنچے اور آفت زدوں کی فوری مدد کی۔ آج کل ڈاکٹر آصف محمود جاہ اپنی ٹیم کے ساتھ جنوبی پنجاب اور چترال میں سیلاب زدگان کی خدمت اور بحالی، بنوں میں شمالی وزیرستان کے IDPs کی خدمت اور علاج، تھر میں لوگوں کی پیاس بجھانے کے لئے کنوئیں بنوانے اور سیلاب متاثرین کے لئے گھر بنوانے میں مصروف ہیں۔ 8 اکتوبر 2005ء کا کشمیر اور خیبرپختونخوا میں آنے والا زلزلہ، 28 اکتوبر 2008ء کو زیارت کا زلزلہ، 2009ء میں IDPs کا مسئلہ، 2010ء میں عطاء آباد جھیل، 2010۔11ء کے خیبرپختونخواہ اور پنجاب میں آنے والے سیلاب، 2011ء میں سندھ میں سیلاب، 2012۔13 میں جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں سیلاب، اپریل و ستمبر 2013ء میں ماشکیل اور آواران، بلوچستان میں زلزلہ، مارچ 2014ء میں سندھ میں قحط، جون 2014ء میں بنوں میں شمالی وزیرستان سے آئے لاکھوں متاثرین کی خدمت اور علاج، ستمبر 2014ء میں پنجاب میں سیلاب، مئی 2015ء میں پشاور میں طوفان بادو باراں یا پھر چترال اور جنوبی پنجاب میں سیلاب ڈاکٹر آصف محمود جاہ مصیبت کی ان تمام گھڑیوں میں متاثرین کی مدد کے لئے سب سے پہلے پہنچے۔ اربوں روپے کی امدادی اشیاء تقسیم کیں۔ لاکھوں مریضوں کا علاج کیا اور سیلاب زدگان اور زلزلہ زدگان کے لئے خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب میں 750 سے زائد گھر اور 35 مساجد اور کئی سکول تعمیر کروائے۔ تھر کے قحط زدہ لوگوں کے لئے اب تک میٹھے پانی کے 100 سے زیادہ کنوئیں بنوا چکے ہیں۔ ملک کے چاروں صوبوں میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی نگرانی میں ہیلتھ کلینکس، سکولز، کمیونٹی سنٹرز اور کئی دوسرے پراجیکٹس کامیابی سے چل رہے ہیں۔ سال 2012ء میں حج کے دوران انہوں نے سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی حاجیوں کا علاج کیا۔ اور یوں بیرون ملک پاکستان کا نام روشن کیا۔جنوبی پنجاب میں سیلاب زدگان کی کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی طرف سے خدمت کرتے کرتے مسلسل یہ پانچواں سال ہے۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ وہاں بھی فلاحی و رفاعی کاموں کے لئے گئے ایک ادیب اور وقائع نگار کے طور پر سب کچھ ساتھ ساتھ قلم بند کرتے رہے جو ان کی کتابوں ڈوبتے شہر، زلزلہ زیارت اور زندگی، سوات ہجرت اور خدمت، حرا ہجرت اور خدمت اور اب نئی آنے والی کتاب زلزلے زخم اور زندگی میں محفوظ ہے۔ اور پاکستان میں آنے والی تباہیوں DISASTERS اور بحالی کے اقدامات کے حوالے سے ایسی تاریخی دستاویز ہمیں میسر آ گئی ہے۔ جس نے بعد میں آنے والے محققین کا کام بھی آسان کر دیا ہے۔

آگے چل کر ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں اس کتاب میں آپ کو عشق، مستی، جنون، وارفتگی، جذبے اور دیوانگی کی تماثیل ملیں گی۔ یہ سب دل کی باتیں ہیں اندر کی باتیں ہیں، میرے جذبات ہیں، میری سسکیاں ہیں، آہیں ہیں، کرلاٹیں ہیں، چیخیں ہیں، جذبات کا الاؤ جو کبھی ٹھنڈا نہیں ہو سکتا، جو کچھ دل پہ بیتا ان سب باتوں کو میں نے احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے۔

مزید :

کالم -