صحیح سیاسی قیادت کی خواہش

صحیح سیاسی قیادت کی خواہش
 صحیح سیاسی قیادت کی خواہش

  

پاکستانی قوم کافی عرصے سے ایسی سیاسی قیادت کی تلاش میں ہے جو نہ صرف صالح، ایماندار اور صاف ستھری ہی نہ ہو، بلکہ قوم کو آگے لے جانے والی ہو۔ بے شمار ہمہ گیر خصوصیات سے بھی مالا مال ہو جو نہ خود کرپٹ ہو بلکہ اپنے اردگرد بھی کسی چور اور لٹیرے کو ساتھی اور ہمدرد نہ بنائے۔ جو قائدانہ صلاحیتوں میں دنیا کے ان بڑے لیڈروں کی مانند ہو جنہوں نے بہت کم عرصے میں اپنے ملک اور اپنی قوم کو ترقی یافتہ قوموں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ہمارے سامنے سنگا پور، ملائشیا، روانڈا اور چین کی مثالیں موجود ہیں جنہیں کبھی ناکام ریاستوں کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور جو پسماندگی اور زوال کی انتہائی حدوں کو چھو رہی تھیں۔ لیکن جب انہیں صحیح وژنری قیادت ملی تو وہ عروج کی بلندیوں کو چھونے لگیں۔ سنگاپور کے لی کوآن یو۔ ملائشیاء کے مہاتیر محمد اور چین کے ماؤزے تنگ نے بہت کم عرصے میں اپنی ذہانت اور دانش کی بدولت اپنے ملک و قوم کو تاریکی سے نکال کر عروج و کمال کے مرتبے پر فائز کر دیا۔چینی قوم دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی دس کامیاب اور مستحکم معیشتوں میں شمار ہونے لگی ہماری پاکستانی قوم کو بھی ایسے ہی صاحب فکر و دانش رہنما کی تلاش ہے لیکن عملاً جب انہیں منتخب کرنے کا انتخابی موقعہ میسر آتا ہے تو ہم ان لوگوں کو اپنا رہنما مقرر کرتے ہیں جو نمود و نمائش کے اعتبار سے جاذب نظر اور پر کشش دکھائی دیتے ہیں۔ ہم ان کی شان و شوکت دیکھ کر ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے اور پھر انہیں خود حکمرانی کا اختیار دے دیتے ہیں یا وہ خود اپنی چالاکی اور ہوشیاری سے حکمرانی کا حق پیدا کر لیتے ہیں ہم گزشتہ 69 برسوں سے ایک مستحکم سیاسی نظام اور ترقی و خوشحالی کی آرزو لئے ہر اس شخص سے توقع اور اُمید لگا لیتے ہیں جو ہمیں اپنی چرب زبانی سے کھلی آنکھوں سے خواب دکھاتا ہے ہماری پوری تاریخ ان دم توڑتی حسرتوں اور آرزؤں کا المیہ بن چکی ہے کرپٹ مافیا اور بد عنوان سیاسی رہنماؤں، بیوروکریٹوں کے احتساب کی خواہش میں کبھی فوجی حکومت آنے کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں تو کبھی اس ڈکٹیٹر کے خلاف سڑکوں اور چوراہوں پر مظاہرے کر کے جمہوریت کی حمایت میں اپنی زخمی انا کی تسکین کر رہے ہوتے ہیں ، کبھی قومی وسائل کی لوٹ مار کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کبھی انہی لوگوں کو اپنا ہیرو مان کر ان کی رہائی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔

ہم آج کل ایسی ہی کشمکش سے دو چار ہیں۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں اپنے لئے کس طرح کی سیاسی قیادت درکار ہے ہم ظاہری جاہ و جلال اور شان و شوکت اور حسن و خوبصورتی کے عشاق اور دلدادہ ہیں یا حقیقی معنوں میں کسی با کردار با صلاحیت شخص کی رہبری کے لئے سرگرداں ہیں ہمیں صرف وہی رہنما اچھا لگتا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ہمیں اپنی تقاریر اور بیانوں سے سبز باغ دکھاتا رہے یا پھر واقعی ایسا رہنما چاہتے ہیں جو ترقی اور خوشحالی کا حقیقی ویژن لئے مکمل عزم اور بلندی کی منزلیں طے کرنے کا حامل شخص ظاہر و باطن اچھے کردار کا مالک اعلیٰ صلاحیتوں کا مالک ہو جس کے اردگرد ڈیرے جمائے لوگوں میں بھی کوئی بے کردار اور بے ایمان شخص نہ ہو جس کے سینے میں ملک و قوم کا حقیقی درد بھرا ہو جو اس قوم کو پستی اور زوال سے نکال کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے کا عزم اور ولولہ رکھتا ہو، جس کے دامن میں علم سیرت و کردار کا سرمایہ ہو۔ جو مصلحت کوشی اور مصلحت پسندی جیسے عوامل سے مبرا ہو جو عالمی سامراجیت اور استعماری قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے، جو ان کی چیرہ دستیوں اور سازشوں کے آگے بند باندھ سکے۔ جو اس قوم کو ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی کاسہ لیسی اور غلامی سے نجات دلا سکے جو ہمارے اپنے وسائل اور معدنی ذخائر کے بل بوتے پر ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکے خود کفالت اور خود انحصاری کی منزلوں کو پا سکے جو دنیا کے اُفق پر پاکستان کا درست اور صحیح تشخص اُجاگر کر سکے اس کے تحفظ اور سالمیت کا ضامن بن سکے جو بلا وجہ کی الزام تراشی اور بے مقصد محاذ آرائی میں اُلجھ کر اپنی توانائیاں ضائع نہ کرتا پھرے۔ بلکہ یکسو اور یک ذہن ہو کر روشن خیالی اور دور اندیشی سے ملکی مسائل کا حل اور علاج تلاش کرے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے موجودہ سیاسی منظر نامے میں کوئی بھی ایسا سیاست دان ہے جس کے جسم میں کرپشن کا زہر شامل نہ ہو وہ خود اگر کسی بڑے مالی سکینڈل میں ملوث نہیں ہے تو کیا وہ اپنے ساتھیوں کی مبینہ کرپشن سے با خبر نہیں کیا اسے نہیں معلوم کہ جو لوگ اس کے جلسے جلوسوں کے تمام اخراجات کر رہے ہیں انہوں نے یہ ساری کمائی دیانت داری سے حاصل کی ہے اور کیا وہ ان کی ناجائز سرپرستی۔ حمایت اور وکالت تو نہیں کر رہا۔ جو لوگ اس پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کر رہے ہیں کل اقتدار ملنے پر مع سود واپس وصول نہیں کریں گے جھوٹ بے ایمانی، منافقت، ضمیر فروشی اور طوطا چشمی ہمارے سیاسی طبقے کی پہچان اور شناخت بن چکی ہے ہم اپنی قومی ذمہ داری، ملکی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری اور احساس ذمہ داری سے بے نیاز ہو کر اجتماعی خود کشی میں مصروف ہو چکے ہیں ہمیں دیانتدار اور ایماندار لوگ اچھے ضرور لگتے ہیں لیکن خود اپنے لئے ہمیں شرافت اور ایمانداری اچھی نہیں لگتی۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ہمارے لئے کون سا رہنما درست اور مفید رہے گا۔

سمجھدار اور صاحب بصیرت لوگ ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ جھوٹ مکر و فریب اور ضمیر فروشی ہماری قومی شناخت بن چکی ہے ہم اس ماحول سے شاید باہر نہیں نکلنا چاہتے ہماری ذاتی حماقتوں اور اجتماعی غلط کاریوں نے ہمارے معاشرہ کو ایسا بانجھ بنا ڈالا ہے جہاں کوئی مہاتیر محمد پیدا نہیں ہو سکتا اگر ہو بھی جائے تو وہ حکمران نہیں بن سکتا اللہ تعالیٰ نے قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی شکل میں پاکستان کو دنیا کا بہت بڑا رہنما دیا لیکن اللہ تعالیٰ کی مرضی ان کی عمر بہت تھوڑی تھی۔ پاکستان میں اب بھی دردِ دل اور پاکستان کی محبت میں مرنے جینے کا عہد کرنے والے لوگ موجود ہیں لیکن کوئی ان کو فرنٹ پر لانے کی کوشش نہیں کرتا۔

مزید :

کالم -